Inquilab Logo Happiest Places to Work

شاعری چھوڑ دی ہم نے

Updated: July 27, 2026, 3:54 PM IST | Manzoor Waqar | Mumbai

ایک رات ہم نے اپنے دل و دماغ کو قلم اور کاغذ پر مرکوز کر کے غزل کا مطلع یعنی کہ غزل کا پہلا شعر لکھ ڈالا اور روز ایک شعرکے حسا ب سے سات دن میں سات عدد اشعار لکھ ڈالے۔ آٹھویں دن غزل کا آخری شعر یعنی مقطع لکھ کر غزل مکمل کی ۔ ہماری پہلی غزل کے مکمل ہونے تک ہماری حالت پاگلوں جیسی ہو گئی تھی ۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہم بچپن کے شیطانی دور سے گزر کر جوانی کی ابتدائی حدود میں داخل ہوئے توہمارا شعور جو پتہ نہیں بچپن میں کہاں چھپا بیٹھا تھا اچانک جاگ اُٹھا۔اس سے پہلے کہ ہماری جوانی کی ابتداء جوا کھیلنے، شراب پینے ، چوری کرنے  یا پاکٹ مارنے جیسے کاموں سے ہوتی ہمارا رحجان شاعری کی طرف ہوگیا ۔ جہاں کہیں مشاعرہ ہوتا سامعین کی اگلی صف میں بیٹھ کر واہ واہ کے نعرے بلند کرنا ہمارا شوق ہی نہیں ہماری مصروفیت بن گئی۔ شہر میں آئے دن منعقد ہونے والے مشاعروں میں بھانت بھانت کے شعراء کی زبانی بھانت بھانت کا کلام سنتے سنتے ہمارے دل میں بھی ایک ہوک اُٹھی کیوں نہ ہم بھی ایک عدد غزل لکھ کر شعراء کی فہرست میں اپنا نام محفوظ کرلیں(اس طرح کی ہوک اکثر سامعین کے دلوں میں اُٹھا کرتی ہے۔ )

ایک رات ہم نے اپنے دل و دماغ کو قلم اور کاغذ پر مرکوز کر کے غزل کا مطلع یعنی کہ غزل کا پہلا شعر لکھ ڈالا اور روز ایک شعرکے حسا ب سے سات دن میں سات عدد اشعار لکھ ڈالے۔ آٹھویں دن غزل کا آخری شعر یعنی مقطع لکھ کر غزل مکمل کی ۔ ہماری پہلی غزل کے مکمل ہونے تک ہماری حالت پاگلوں جیسی ہو گئی تھی ۔ راتوں میں جاگ جاگ کر ہماری آنکھیں سُرخ ہو کر کافی اندر تک دھنس گئیں تھیں۔ سوچ سوچ کر آدھے سر کا پُرانا درد مسئلہ بے روزگاری کی طرح جاگ اُٹھا تھا۔ محنت کا یہ عالم تھا کہ ہمارے چھوٹے بھائی بہن جو ہائی اسکول میں زیر تعلیم تھے ان کے ہوم ورک کی تمام کاپیوں کے صفحات ہماری شاعرانہ تحریروں سے بھرے پڑے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: بارش کی تہذیبی اور لسانی داستان

خیر جب ہم نے ایک مشاعرے میں غزل سنانے کے لئے اپنا نام پیش کیا تو منتظمین نے غزل کو ’’غیر معیاری ‘‘ اور ہماری شخصیت کو ’’لونڈا‘‘ کے خطابات سے نوازکر ہمیں غزل سنانے سے اس طرح  روک دیا جس طرح پارلیمانی سیشن کے دوران حزب اختلاف جماعت کے قائد کو وزیر اعظم پر تنقید کرنے سے روک دیا جاتا ہے۔ کچھ دن بعد ایک اور مشاعرہ میں ہماری اس غزل کو’’غیر معیاری‘‘قرار دے دیا گیا۔ جب بھی کسی مشاعرے میں ہم اپنی غزل سنانے کے لئے کنونیر مشاعرہ یا صدرِ مشاعرہ سے اجازت طلب کرتے ہم پر کم علمی اور نا سمجھ شاعر کا الزام لگاکر روک دیا جاتا۔ یہاں تک کہ بعض شعراء جن کے کلام پر ہم مشاعروں میں جھوم جھوم کردا دیتے اور ان کی شاعرانہ بلندی کو سند عطا کرتے تھے وہ تمام شعراء ہمیں غزلیں لکھنے اور اُن غزلوں کو مشاعروں میں سنانے کی جرأت کرتے ہوئے دیکھ کرہماری جانب خونخوار نظروں سے دیکھنے لگتے۔

جب ہم غزل سنانے کی کوشش میں ہر بار نا کام ہوتے رہے تو ایک دن ہم نے شہر کے ایک شہرت یافتہ شاعر اور ہمارے استاد نما دوست علامہ پاکھنڈی سے رابطہ کیا۔ ہم نے ان سے پوچھا علامہ ! ہمیں مشاعرے میں غزل سنانے کی اجازت کیوں نہیں ملتی  ؟ آپ تو ماہر فن اور استاد شعر و سخن واقع ہوئے ہیں ـ،علامہ اپنی اُبھری ہوئی توند پرتنی ہوئی شیروانی کے بٹن کھولتے ہوئے کہنے لگے میاں  ! بات دراصل یہ ہے کہ ہمارے اور تمہارے کلام میں وہ فرق ہے جسے زمین اور آسمان کا فرق کہا جاتا ہے۔ ہمارے کلام میںوزن ہوتا ہے اور تمہارے کلام میں ندارد۔ ہم نے حیرت کا تیرا ستادِ شعر و سخن کی سُرخ آنکھوں میں مارتے ہوئے پوچھا استاد محترم ! آپ یہ کیا فرما رہے ہیں غزلوں میں وزن کا معاملہ کہاں سے ٹپک پڑا۔ آپ فن شاعری کی بات کر رہے ہیں یا گڑ شکر تولنے کی ؟ علامہ نے جواب دیا میاں شاعری کے سائنسدانوں  نے غزل کے ساتھ ساتھ ایک ترازو بھی ایجاد کر رکھی ہے، اس ترازو کا نام علم عروض ہے۔ ہم اس ترازو کے ذریعہ غزل کو تول کر دیکھ لیتے ہیں کہ غزل میں وزن ہے یا نہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: اپنے ناولوں کے پلاٹ، کردار، کہانی، اور شوخی و شگفتگی سے مسحور کرنے والا اَدیب

یہ سن کر ہم نے استاد محترم علامہ پاکھنڈی کے پیر پکڑ کر کہا علامہ آپ صرف اتنا احسان کریں کہ ہم کو بھی اس تاریخی ترازو سے آگاہ کریں  ۔ تب استاد محترم ہم کو علم عروض کا ایک چھوٹا سا نسخہ بتا کر چلے گئے۔ ہم اس دن سے اس نسخے پر اس دلچسپی سے تجربات کرنے لگے گویا کہ میڈیکل کالج کے طلبہ کے ہاتھ مردہ انسان کا جسم لگ گیا ہو۔ خدا خدا کر کے ہم نے اس نسخے کی بنیاد پر ایک غزل مکمل کر لی اور کڑی دھوپ کے باوجود مکان سے باہر نکل کرعلامہ کے مکان کی جانب دوڑ پڑے۔ محترم پاکھنڈی صاحب کے مکان پر پہنچ کر صدر دروازے کو کھٹکھٹایا۔  بعد سلام ہم نے غزل ان کے سامنے رکھ کر پوچھا’’بتائیں استادِ محترم ہماری اس غزل میں وزن ہے یا نہیں۔ وہ غزل کو کچھ دیر غور سے دیکھنے کے بعد کہنے لگے ،اس غزل میں وزن بہت کم ہے ۔ بیشتر اشعار بے وزن اور ناکارہ ہیں، خیر کوئی بات نہیں میں اصلاح کر دیتا ہوں۔ اس کے بعد انہوں نے ہماری اس غزل  کے کئی آپریشن کر ڈالے۔

ہم اپنی اصلاح شدہ غزل لے کر اُٹھنے ہی والے تھے کہ استاد ِ محترم نے کہا میاں  ! اگر بُرانہ لگے تو عرض ہے ، مجھے اس وقت۵۰؍روپوںکی ضرورت ہے۔اگلی بار آپ اپنی دوسری غزل  لائیں گے تو میں لوٹا دونگا۔ ہم بھی اس وقت مکمل شاعر بننے کی کوشش میں مگن تھے جھٹ  ۵۰؍ روپے دے دئیے ۔ کچھ دن بعد ہم اپنی دوسری غزل لے کر حاضر ہوئے تو استادِ محترم نے اس غزل کا بھی آپریشن کردیا۔ ہم اپنی غزل لے کر اٹھنے ہی والے تھے کہ استادِ محترم نے کہا میاں بات تو بُری لگے گی لیکن ضرورت انسان کی مجبوری ہوتی ہے اس لئے آپ مجھے مزید ۵۰؍روپے دیتے جایئے اگلی بار جب آپ اپنی تیسری غزل اصلاح کیلئے لائیں گے تو میں آپ کی پوری رقم لوٹا دوں گا۔

اس مرتبہ ہم نے تھوڑی سی ہچکچاہٹ کے بعد ۵۰؍ روپے نکال کر دیدیئے ۔دوسرے دن جب ہم اپنی تیسری غزل لے کر استاد محترم کے مکان پر پہنچے تو وہ ہماری تیسری غزل پر ڈاکٹری نظر ڈالنے کے بعد بولےغزل کے تمام اشعار تو وزن دار ہیں صرف مقطع بگڑ گیا ہے ! خیر کوئی بات نہیں میں مقطع ٹھیک کردوں گا۔اتنا کہہ کر وہ ہم سے کچھ اور کہنے ہی والے تھے کہ ہمارے منہ سے نکلا علامہ پاکھنڈی صاحب ! اس وقت ہمارے پاس ۵۰؍روپے تو کیا ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہے۔وہ کچھ شرمندہ ساہو کر بولےکوئی بات نہیں اس وقت خاص ضرورت بھی نہیں تھی۔ 

ہمیں محسوس ہوا اتنی محنت اور دلچسپی کے باوجود ہماری ہر غزل میں کچھ نہ کچھ خرابی ضرور نکل آتی ہے ہم اپنے آپ کو کوسنے ہی والے تھے کہ اچانک ایک خیال ہمارے ذہن میں لپکا، کیا علامہ پاکھنڈی واقعی غزل  کے ترازو  سے واقف بھی ہیں یا صرف اپنا الّو سیدھا کررہے ہیں۔ہم نے طے کر لیا کہ اگلی بار ہم علامہ کا ضرور امتحان لیں گے۔  اس کیلئے ایک کہنہ مشق شاعر کی غزل ایک پرانے ماہنامے میں سے اڑالی۔ اس غزل کے مقطع میں اپنا تخلص ٹھونس دیا۔ اس غزل کو علامہ کے سامنے اصلاح کے لئے رکھا ۔

یہ بھی پڑھئے: لفظ محض چند آوازوں اور لکیروں کا نام نہیں جو مٹ جانے کے بعد پھر پیدا کئے جاسکیں

پاکھنڈی صاحب اس دن کچھ ناراض نظر آرہے تھے اور شاید انہیں اس بات کا بھی خوف تھا کہ کہیں ہم اپنے دیئے ہوئے روپے نہ واپس مانگ لیں۔ وہ ہم سے پیچھا چھڑانے کے لئے بڑے ہی روکھے پھیکے انداز میں بولے میاں تم کبھی نہیں سنبھلوگے۔ اس غزل میں کیا خاک ہے اس کے تو تمام اشعار بے وزن ہیں۔ ہم سے نہیں رہا گیا، بہت دنوں سے اپنے اندر دبائے ہوئے غصے کو اگل دیا۔ بس بہت ہو چکا علامہ! آپ اپنی پاکھنڈی باتوںکے بل پر لوگوں کو بے وقوف بنا رہے ہیںلیکن آپ تو علم عروض کی الف ب سے بھی واقف نہیں ورنہ آپ اس غزل کو ہر گز بے وزن نہیں کہتے ۔ آپ میری رقم لوٹا دیجئے، آئندہ میں اپنا چہرہ آپکو کبھی نہیں دکھائوں گا۔ ہماری تلخ کلامی سنکر علامہ بھی برس پڑے۔بے وقوف لونڈے کہیں کے۔ اپنی تین غزلیں تومجھ سے اصلاح کروالیں اب اگر تھوڑا علم عروض سے واقف ہو گیا ہے تو مجھ کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔ میں ایک غزل اصلاح کرنے کی فیس ۱۰۰؍  روپےلیتا ہوں۔ تیری تین غزلوں کی اصلاح کر چکا ہوں جس کے ۳۰۰؍ روپےہوئے جبکہ تو نے صرف ۱۰۰؍ روپے د ئیےہیں۔ اگر تجھ میں حیا ہے تو مجھے مزید ۲۰۰؍ روپے دیتا جا ۔علامہ کے خطرناک ارادوں کو بھانپ کر ہم نے وہاں سے بھاگنا ہی بہتر جانا۔ مکان پہنچتے ہی کرسی میں دھنس گئے ۔سامنے ٹیبل پر غالب کا دیوان پڑا تھا ۔ہم نے دیوانِ غالب پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی کہ ہم زندگی میں سب کچھ کریں گے مگر شاعری کبھی نہیں کریں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK