Inquilab Logo Happiest Places to Work

احتجاج ہونے سے لاٹھی چارج جائز نہیں ہو جاتا؛ سپریم کورٹ

Updated: July 27, 2026, 3:33 PM IST | New Delhi

سپریم کورٹ نے CJP کی قیادت میں ہونے والے طلبہ احتجاج کے دوران مبینہ پولیس زیادتیوں سے متعلق درخواستوں کی سماعت پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’صرف اس لیے کہ احتجاج ہو رہا تھا، لاٹھی چارج نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ عدالت نے واضح کیا کہ پرامن احتجاج شہریوں کا آئینی حق ہے، جبکہ ساتھ ہی پولیس اہلکاروں پر مبینہ حملوں اور مستقبل کے لیے حفاظتی رہنما اصولوں سے متعلق پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

Supreme Court of India. Photo: INN
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ نے NEET کے مبینہ پرچہ لیک کے خلاف CJP کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے دوران دہلی پولیس کی مبینہ کارروائی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’’صرف اس لیے کہ احتجاج ہو رہا تھا، لاٹھی چارج نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ عدالت نے اس معاملے کی تفصیلی سماعت پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کے دوران طاقت کے استعمال کا ہر معاملہ قانون اور آئینی اصولوں کی کسوٹی پر پرکھا جانا چاہیے۔ جسٹس اُجّل بھویان اور جسٹس کرشنا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ پرامن احتجاج کرنا شہریوں کا بنیادی آئینی حق ہے اور محض احتجاج یا اجتماع کی موجودگی پولیس کو طاقت کے استعمال کا خودکار اختیار نہیں دیتی۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی ہمیشہ ضرورت، تناسب اور قانونی جواز کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے: پونے: جرائم کے بڑھتے معاملات کے پیش نظر کئی پولیس افسران کا تبادلہ

عدالت نے ان درخواستوں پر بھی غور کرنے پر آمادگی ظاہر کی جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ جنتر منتر اور پارلیمنٹ مارچ کے دوران طلبہ اور مظاہرین کے خلاف لاٹھی چارج، آنسو گیس اور دیگر طاقت کے استعمال میں ضرورت سے زیادہ سختی برتی گئی۔ درخواست گزاروں نے ان واقعات کی عدالتی نگرانی میں تحقیقات، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور متاثرین کو مناسب ریلیف دینے کی استدعا کی ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ صرف مظاہرین کے الزامات تک خود کو محدود نہیں رکھے گی بلکہ ان دعوؤں کا بھی جائزہ لے گی جن میں کہا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران کچھ پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے یا ان پر حملے کیے گئے۔ عدالت نے اشارہ دیا کہ اگر مستقبل میں ایسے احتجاج ہوں تو دونوں فریقوں کے حقوق اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مناسب حفاظتی رہنما اصول بھی زیر غور لائے جا سکتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: گڈچرولی : پنچایت صدر اور کانگریس کے ۹؍ کارپوریٹربی جے پی میں شامل

یہ سماعت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب گزشتہ چند روز کے دوران احتجاج سے متعلق متعدد واقعات نے قومی توجہ حاصل کی۔ بہار کے سیوان میں طلبہ احتجاج کے دوران AK-47 سے فائرنگ کرنے والے ایک پولیس اہلکار کو معطل کیا جا چکا ہے، جبکہ دہلی میں پولیس کی کارروائی، فیشل ریکگنیشن نگرانی، گرفتاریاں اور مظاہرین کے ساتھ مبینہ بدسلوکی پر بھی مختلف عدالتوں میں درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کے ابتدائی ریمارکس اس اصول کو دوبارہ اجاگر کرتے ہیں کہ ریاست پر امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری ضرور عائد ہوتی ہے، لیکن اس مقصد کے لیے طاقت کا استعمال متناسب، ضروری اور آئینی حدود کے اندر ہونا چاہیے۔ عدالت کی آئندہ سماعت اس معاملے میں پولیس کے اختیارات اور شہریوں کے احتجاج کے حق سے متعلق اہم قانونی رہنمائی فراہم کر سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK