رات کے آخری پہر میں فجر کی اذان سے پہلے کا سکوت پھیلا ہوا تھا۔حامد کروٹیں بدل رہا تھا۔ نیند غائب تھی۔ دل میں کوئی ایسا شور تھا جسے وہ خود بھی سمجھ نہیں پا رہا تھا۔کھڑکی سے چاندنی اندر اتر رہی تھی، مگر دل کی تاریکی گہری ہی تھی۔
رات کے آخری پہر میں فجر کی اذان سے پہلے کا سکوت پھیلا ہوا تھا۔حامد کروٹیں بدل رہا تھا۔ نیند غائب تھی۔ دل میں کوئی ایسا شور تھا جسے وہ خود بھی سمجھ نہیں پا رہا تھا۔کھڑکی سے چاندنی اندر اتر رہی تھی، مگر دل کی تاریکی گہری ہی تھی۔
’’کبھی کبھی انسان کی ظاہری کامیابی اس کے باطن کا سب سے بڑا زوال ہوتی ہے۔‘‘چند سال سے اس کا کاروبار خوب ترقی کر گیا تھا۔گودام، دفتر، کارخانے، گاڑیاں، عزت، شہرت سب کچھ.....مگر دل میں جیسے زہر اتر گیا تھا۔بیوی نے کئی بار کہا ’’تمہارے چہرے پر اطمینان نہیں رہا، حامد۔‘‘وہ مسکرا دیتا، مگر اندر سے جواب ملتا’’کچھ ہے جو مجھے چین نہیں لینے دیتا...‘‘
ایک دن وہ مسجد کے قریب سے گزررہا تھا ۔ امام صاحب نے دیکھا تو بلا لیا۔’’بیٹا، خیریت؟ آج کل بہت پریشان سے لگ رہے ہو۔‘‘حامد نے گہرا سانس لیا’’پتہ نہیں امام صاحب ، دل بےچین ہے۔ ہر کامیابی بوجھ لگتی ہے۔‘‘امام صاحب نے مسکرا کر کہا:’’انسان جب ضمیر کے شور کو دبانے لگے، تو پھر سکون چیخوں میں بدل جاتا ہے۔‘‘
رات کو خواب آیا۔ایک اندھیرے کمرے میں وہ کھڑا تھا۔ چاروں طرف آئینے لگے تھے۔ہر آئینے میں وہی چہرہ، مگر ہر چہرہ مختلف....کہیں تاجر، کہیں شوہر، کہیں عبادت گزار اورکہیں ایک ایسا چہرہ جو اجنبی لگ رہا تھا۔اور اچانک ایک آواز گونجی: ’’وقت ایک ایسا آئینہ ہے جو نقاب ضرور اتار دیتا ہے۔‘‘
حامد پسینہ پسینہ ہو کر جاگ گیا۔وضو کیا، نماز پڑھی، مگر دل میں خوف بیٹھ گیا۔’’آخر یہ بےچینی کیوں ہے؟‘‘وہ خود سے سوال کرتا، مگر جواب گلے میں اٹک جاتا۔صبح کی اولین ساعتوں میں منیم جی کا فون آیا:وہ مزدور جس پر تم نے کل سختی کی تھی وہ آج اچانک چل بسا۔‘‘حامد کے قدم جیسے زمین میں دھنس گئے۔وہ چپ چاپ اُس مزدور کے محلے کی طرف نکل پڑا۔
تنگ گلیوں میں مٹی کی خوشبو، خاموش مکانوں کے بوسیدہ دروازے،اور دور سے آتی بچوں کی رندھی ہوئی آوازیں....جب وہ اُس گھر میں داخل ہوا تو اندر ایک کربناک خاموشی تھی جسے وہ محسوس کئے بغیر نہ رہ سکا۔
ایک کونے میں ایک خاتون بیٹھی تھیں، آنکھوں سے مسلسل آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔ چولہے کے پاس ادھ جلی لکڑی رکھی تھی، جیسے کھانا ادھورا چھوڑ دیا گیا ہو۔
چھت کے ایک کونے سے بارش کا پانی ٹپکنے کا نشان تھا ۔دیواروں پر بوسیدگی کی لکیریںاور فضا میں غربت کی ایک تھکی ہوئی سانس رُکی ہوئی تھی۔
سامنے چارپائی پر سفید کفن میں لپٹا وہ مزدور پڑا تھا،جسے کل حامد نے جھڑک دیا تھا،صرف اس لئے کہ وہ دو ماہ کی تنخواہ ایڈوانس مانگ رہا تھا۔اب وہی مزدور کفن میں لپٹا ہوا، ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گیا تھا۔حامد نے قدم بڑھائے۔نہ جانے کیوں، اس کی نگاہیں بار بار گھر کی چیزوں پر جا کر رُک جاتیں ۔ کبھی اس کے بوسیدہ بستر پر،کبھی چولہے کی راکھ پر،کبھی کھلے ہوئے ٹفن پر، کبھی ایک کونے میں کھڑے بچوں پرجو باپ کے چہرے کو چھو چھو کر سسک رہے تھے۔
غسل دیا جا رہا تھا....پانی کے چھینٹوں میں ایک عجیب سنسناہٹ تھی....حامد کے کانوں میں گونجنے لگا: ’’بابو جی، آج ایڈوانس مل جائے تو بچوں کا کسی بہتر اسکول میں داخلہ کروا لوں...‘‘یہ وہی آواز تھی، جو کل اس نے حقارت سے خاموش کر دی تھی.....
اب حامد کے چہرے پر مستقل اداسی کا سایہ تھا۔کھانے کا نوالہ حلق میں اٹک جاتا، پانی پیتے وقت دل لرز جاتا۔کوئی وجہ نہ جان سکا کہ حامد کیوں پریشان ہے۔لیکن حامد جانتا تھا، وہ مزدوروں کی آہیں تھیں، جو اس کے دل و دماغ میں گونج رہی تھیں۔اب وہ ان آوازوں سے کہیں نہیں بچ سکتا تھا ۔