والدین کا خواب تھا کہ بڑی بیٹی اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے کسی اعلیٰ عہدہ پر فائز ہو کر خاندان کا نام روشن کرے اور اُن سہارا بھی بنے۔
EPAPER
Updated: August 27, 2026, 3:53 PM IST | Zainab Adil Patel | Bhopal
والدین کا خواب تھا کہ بڑی بیٹی اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے کسی اعلیٰ عہدہ پر فائز ہو کر خاندان کا نام روشن کرے اور اُن سہارا بھی بنے۔
والدین کا خواب تھا کہ بڑی بیٹی اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے کسی اعلیٰ عہدہ پر فائز ہو کر خاندان کا نام روشن کرے اور اُن سہارا بھی بنے۔ والد مزدوری کرتے تھے جبکہ والدہ خاتون خانہ تھی۔ دونوں بیٹیوں میں بڑی ذہین، ہوشیار اور با صلاحیت ہونے کے ساتھ ساتھ تہذیب کی پاسدار بھی تھی۔ اس لئے اسے ڈاکٹر بنانے کا فیصلہ باپ نے کیا تھا اور یہی اس کی زندگی کا خواب تھا۔ بڑے شہر سے ساٹھ ستر کلومیٹر دور چھوٹے شہر میں رہائش پذیر باپ نے اپنی بڑی بیٹی کو ڈاکٹر بنانے کا خواب دیکھا تھا۔ ڈاکٹر بننے کے لئے لازمی امتحان دینے کی بیٹی تیاری کر رہی تھی۔ بیٹی سے زیادہ اس کے والدین کو اس کے امتحان دینے کی خوشی تھی کیونکہ وہ دونوں تعلیم یافتہ نہیں تھے۔ باپ کو اعلیٰ تعلیم کے متعلق کچھ معلوم نہیں تھا لیکن اس کی ماں کی لمبی بیماری کے وقت اس نے ڈاکٹر کے پیشے کو بہت قریب سے دیکھا تھا.... جو اس کی ماں کی ہر دس دس منٹ پر اس کی نگرانی کرتے تھے۔ بس تب سے اس نے اپنی بیٹی کو ڈاکٹر بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔
بارہویں میں زیر تعلیم بیٹی کی طبی تعلیم کے داخلے کے لئے ضروری نیٹ امتحان دینے کی تیاری شروع ہوگئی تھی۔ جس کے لئے ایکسٹرا کلاس بھی لگائی گئی تھی۔ بیٹی نے بھی باپ کے خواب کو پورا کرنے کے لئے دن رات محنت کی۔ بارہویں کا امتحان دیا، جس میں اس نے میریٹ نمبرات سے کامیابی حاصل کی تھی۔ پھر نیٹ امتحان کی تیاری میں شب و روز ایک کرکے خوب پڑھائی کی، پھر وہ وقت بھی آگیا تھا....
امتحان دینے کے لئے بڑے شہر کے امتحان مرکز پہنچنے کے لئے باپ بیٹی نے بس کے ذریعے سفر شروع کیا۔ بس نے چند منٹوں کا راستہ پار کیا تو موسم کا مزاج بھی بدل رہا تھا۔ آسمان میں بادل گرج رہے تھے۔ بجلیاں چمک رہی تھی، بس میں کچھ مسافر خوف زدہ ہو رہے تھے تو کچھ بارش کا موسم بننے پر قدرت کا شکریہ ادا کر رہے تھے۔ بارش شروع ہوگئی تھی۔ بارش کے ساتھ تیز ہوا کے سرد جھونکے.... آہ! گرمی میں راحت کا احساس دلا رہے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ : خواب حقیقت بنتے ہیں
دو گھنٹے کا سفر خیریت سے مکمل ہوگیا تھا۔ باپ اور بیٹی بس سے اتر کر تیز تیز قدموں سے امتحان مرکز پر وقت پر پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔
باپ بیٹی جیسے ہی امتحان مرکز کے داخلی دروازے پر پہنچے تو وہاں موجود اہلکار نے دونوں کو روک لیا۔ کیونکہ طے شدہ وقت سے دو منٹ کی تاخیر ہوچکی تھی۔ تعینات اہلکار نے بتایا ’’مجھے ہدایت دی گئی ہے کہ تاخیر سے آنے والے امیدوار کو اندر جانے نہ دیا جائے۔‘‘ اتنا سننا تھاکہ باپ بیٹی دونوں پریشان ہوگئے۔ چند منٹوں کی تاخیر پر صفائی بھی پیش کی۔ باپ بے چین ہو کر رونے لگا۔ بیٹی زار و قطار رو رہی تھی۔ وہ بار بار وہاں موجود اہلکار کے سامنے امتحان گاہ میں داخلے کے لئے گڑگڑاتی رہی۔ ایک سال بیکار ہوجائے گا.... باپ کے مزدور ہونے کا حوالہ دیتی رہی.... لیکن سسٹم کے سامنے دونوں کی ایک نہ چلی۔
یہ بھی پڑھئے: بارش جب قیامت بن کر برسی
دونوں اپنے آپ سے سوال کر رہے تھے کہ انتظامیہ کب سے وقت کا پابند ہوگیا؟ یا آج ہی ہم غریب سے اس کی شروعات ہوئی ہے؟ اس قسم کے کئی سوالات کا جواب انہیں بھلے ہی کسی نے نہ دیا ہو لیکن منزل تک پہنچنے کا وقت ابھی باقی ہے۔
باپ بیٹی، دونوں نڈھال، مجبور اور لاغر قدموں سے پھر اور ایک سال کے وقت کا بوجھ اُٹھا کر گھر کے لئے روانہ ہوگئے!