Updated: August 26, 2026, 5:05 PM IST
| Mumbai
اڈانی گروپ کی کمپنی اڈانی انرجی سالیوشنز لمیٹڈ نے مہاراشٹر میں تقریباً ۴۷۰۰؍ کروڑ مالیت کا ایک بڑا بجلی ٹرانسمیشن پروجیکٹ حاصل کیا ہے۔ اس پروجیکٹ کا مقصد کرناٹک سے پیدا ہونے والی قابلِ تجدید توانائی کو مہاراشٹر کے بڑے بجلی مراکز تک پہنچانا اور ۴۵۰۰؍ میگاواٹ تک رینیوایبل اور اسٹوریج پاور کی ترسیل کو ممکن بنانا ہے۔
اڈانی۔ تصویر:آئی این این
اڈانی گروپ کی کمپنی اڈانی انرجی سالیوشنز لمیٹڈ نے مہاراشٹر میں تقریباً ۴۷۰۰؍ کروڑ مالیت کا ایک بڑا بجلی ٹرانسمیشن پروجیکٹ حاصل کیا ہے۔ اس پروجیکٹ کا مقصد کرناٹک سے پیدا ہونے والی قابلِ تجدید توانائی کو مہاراشٹر کے بڑے بجلی مراکز تک پہنچانا اور ۴۵۰۰؍ میگاواٹ تک رینیوایبل اور اسٹوریج پاور کی ترسیل کو ممکن بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اے کے ہنگل فلموں کے سدا بہار ’انکل‘ تھے
کمپنی کے مطابق پروجیکٹ کو تقریباً ۳۶؍ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت کمپنی کے ٹرانسمیشن نیٹ ورک میں: ۵۶۲؍ سرکٹ کلومیٹر نئی ٹرانسمیشن لائنیں شامل ہوں گی۔ ۹؍ہزارایم وی اے کی ٹرانسفارمیشن صلاحیت شامل ہوگی۔ ستارا میں۷۶۵ /۴۰۰؍کے وی سب اسٹیشن قائم کیا جائے گا۔ کولہاپور-ستارا ۷۶۵؍ کے وی ڈبل سرکٹ ٹرانسمیشن لائن تعمیر کی جائے گی۔ کولہاپور پولنگ اسٹیشن کی صلاحیت میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔
اس منصوبے سے مہاراشٹر کے ستارا، پونے اور ممبئی میٹروپولیٹن ریجن (MMR) میں بڑھتے ہوئے بجلی کے تقاضوں کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ خاص طور پر پمپڈ اسٹوریج پروجیکٹسکے لیے یہ ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر اہم ہوگا کیونکہ ایسے منصوبے قابلِ تجدید توانائی کو ذخیرہ کرکے ضرورت کے وقت بجلی فراہم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ نئے پروجیکٹ کے بعد اڈانی کمپنی کا مجموعی ٹرانسمیشن نیٹ ورک تقریباً ۲۹۷۳۹؍ سرکٹ کلومیٹر جبکہ ٹرانسفارمیشن کی مجموعی صلاحیت بڑھ کر تقریباً۱۴۳۴۲۵؍ ایم وی اے ہوجائے گی۔ کمپنی کے ٹرانسمیشن آرڈر بک کی مالیت بھی تقریباً ۸۵؍ہزارکروڑ تک پہنچ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:نیپال: وزیراعظم بالین شاہ کو پارلیمنٹ میں کالا چشمہ پہننے کی اجازت
اڈانی انرجی کے سی ای اوکندر پٹیل نے کہا کہ پمپڈ اسٹوریج پروجیکٹس ہندوستان کی صاف توانائی کی منتقلی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ان کے مطابق ستارا ٹرانسمیشن پروجیکٹ قابلِ تجدید توانائی کو گرڈ تک پہنچانے، توانائی ذخیرہ کرنے اور جنوبی و مغربی ہندوستان کے درمیان بجلی کے بہاؤ کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
ہندوستان نے ۲۰۳۰ء تک ۵۰۰؍جی ڈبلیو غیر فوسل فیول توانائی کی صلاحیت حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے صرف سولر اور ونڈ پاور پیدا کرنا کافی نہیں بلکہ ان ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی کو ملک کے بڑے صنعتی اور شہری مراکز تک پہنچانے کے لیے مضبوط ٹرانسمیشن نیٹ ورک بھی ضروری ہے۔