• Thu, 22 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’مصنوعی ذہانت (اے آئی) روزگار کے نئے مواقع پیدا کررہی ہے‘‘

Updated: January 21, 2026, 6:05 PM IST | Drigraj Madheshia | Mumbai

کنسلٹنگ فرم ’تھاٹ ورکس‘ کی رپورٹ کے مطابق ہندوستانی آئی ٹی انڈسٹری کی بڑی کمپنیاں اور پروفیشنلز اے آئی کی یلغار کو مثبت اندا زمیں لے رہی ہیں۔

Experts say the new type of AI, `Agentic AI,` will be beneficial for jobs and businesses. Photo: INN
اے آئی کی نئی قسم ’ایجنٹک اے آئی ‘ کے متعلق ایکسپرٹس کا موقف ہے کہ یہ روزگار اور کاروبار کے لئے فائدہ مند ہوگی۔ تصویر: آئی این این

آرٹی فیشیل انٹیلی جنس کی یلغار کے سبب دنیا بھر میں خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ یہ مانا جارہا ہے کہ مصنوعی ذہانت، آنے والے وقتوں میں روزگار اور کاروبار کے مواقعوں کو گھٹاسکتی ہے۔ تاہم کنسلٹنگ فرم ’تھاٹ ورکس‘ کا ایک تازہ سروے مذکورہ بالا خدشات کی نفی کرتا نظر آرہا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہندوستانی  آئی ٹی کمپنیاں اور پروفیشنلز نہ صرف اے آئی ٹولز اپنا رہے، بلکہ ایجنٹک اے آئی کے ذریعے پوری دنیا میں تکنیکی انقلاب کی قیادت کر رہے ہیں۔

ٹیکنالوجی کنسلٹنگ فرم تھاٹ ورکس کی نئی رپورٹ کے مطابق۸۶؍ فیصد ’آئی ٹی جیانٹس‘ نے مانا ہے کہ اے آئی کی وجہ سے صلاحیتیں نکھر رہی ہیں اور یہ نوکریاں نہیں چھین رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: انڈرگریجویٹس -پوسٹ گریجویٹس کیلئے مرکزی وزارت کھیل کی جانب سے نئے انٹرن شپ پروگرام کا اعلان

اس حوالے سے شائع ہونیوالی مختلف رپورٹوں کے مطابق تھاٹ ورکس کے سروے کے دوران یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ہندوستان ایجنٹک اے آئی جیسی جدید ٹیکنالوجی اپنانے کے معاملے میں امریکہ اور آسٹریلیا جیسے ترقی یافتہ ممالک سے کافی آگے نکل گیا ہے۔ یہ سروے ۷؍ ممالک کے۳؍ہزار۵۰۰؍ عہدیداروں پر کیا گیا، جن میں۵۰۰؍ شرکاء ہندوستان سے تھے۔ رپورٹ کے مطابق، ایجنٹک اے آئی اپنانے کے معاملے میں ہندوستان ۴۸؍ فیصد کے ساتھ دنیا میں سب سے آگے ہے۔ یہ امریکہ (۲۸؍فیصد) اور آسٹریلیا(۲۳؍فیصد) جیسے مغربی بازاروں سے بالکل مختلف صورتحال ہے، جو اب بھی روایتی کارکردگی بہتر بنانے پر ہی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ دراصل، ایجنٹک اے آئی ٹیکنالوجی اُن نظاموں پر مبنی ہے جو خود مختار طور پر سوچنے، دلیل دینے اور کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: والد کی موموز کی دکان پر کام کرتے ہوئےدہلی کی ہونہار دوشیزہ نے بناء کوچنگ کے نیٖٹ کوالیفائی کیاتھا

ہندوستانیوں کا نقطۂ نظر مثبت

یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ ہندوستانی کمپنیاں اب صرف اے آئی ٹولز استعمال نہیں کر رہی ہیں بلکہ وہ مکمل طور پر اے آئی پر مبنی بزنس ماڈلز کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ سروے کے دوران ۱۰؍ میں سے ۹؍افراد نے کہا کہ اے آئی(مصنوعی ذہانت) لوگوں کی صلاحیتوں کو نکھار رہی ہے۔ اس کا سب سے بڑا اثر مہارتوں اور کام کی رفتار بڑھانے میں نظر آ رہا ہے۔ اس کے علاوہ،۵۷؍ فیصد کمپنیوں نے بتایا کہ انسان -اے آئی تعاون کی وجہ سے اُن کی اداروں میں مجموعی کرداروں اور عہدوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

ہندوستانیوں کو اے آئی سے ہونے والے معاشی فائدے پر سب سے زیادہ بھروسا ہے۔ اس میں۴۹؍ فیصد دیووں نے امید ظاہر کی کہ اگلے پانچ برسوں میں اُن کی آمدنی میں۱۵؍ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوگا، جو دنیا میں سب سے بلند سطح کا اعتماد ہے۔ وہیں اگلے۱۲؍ ماہ میں۱۵؍  فیصد اضافے کی امید رکھنے والے ہندوستانی لیڈرز کی تعداد تقریباً۱۴؍ فیصد ہے، جو عالمی اوسط ۸؍ فیصد سے زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایکسٹرن شپ بمقابلہ انٹرن شپ :دونوں میں فرق کیا ہے؟

ایجنٹک اے آئی کیا ہے؟

یہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ایک جدید شکل ہے، جو صرف آپ کے سوالوں کے جواب نہیں دیتی بلکہ ایک ڈیجیٹل ایجنٹ کی طرح خود مختار طور پر کام بھی مکمل کرتی ہے۔ سادہ لفظوں میں کہا جائے تو جہاں عام اے آئی (جیسے چیٹ جی پی ٹی) صرف لکھنے یا مشورہ دینے کا کام کرتا ہے، وہیں ایجنٹک اے آئی کام کو انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر روایتی اے آئی سے پوچھا جائے کہ اگلے ہفتے گوا جانے کے لئے سب سے سستی فلائٹ کون سی ہے، تو یہ ایک فہرست نکال دے گا۔ لیکن اگر ایجنٹک اے آئی سے کہا جائے کہ اگلے ہفتے۱۰؍ ہزار کے بجٹ میں گوا کی فلائٹ بک کر دو، تو یہ خود انٹرنیٹ پر جائے گا، فلائٹس تلاش کرے گا، آپ کے کیلنڈر سے تاریخ ملائے گا اور بکنگ بھی مکمل کر دے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK