پوپ لیو چہاردہم نے جنریٹو مصنوعی ذہانت کے خطرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ انسانی شناخت اور تعلقات کو اغوا کرسکتی ہے، عوامی رائے متاثر کر سکتی ہے اور سماجی تقسیم کو گہرا کر سکتی ہے۔
EPAPER
Updated: January 25, 2026, 9:01 PM IST | Vatican City
پوپ لیو چہاردہم نے جنریٹو مصنوعی ذہانت کے خطرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ انسانی شناخت اور تعلقات کو اغوا کرسکتی ہے، عوامی رائے متاثر کر سکتی ہے اور سماجی تقسیم کو گہرا کر سکتی ہے۔
سماجی مواصلات کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں پوپ لیو چہاردہم نے جنریٹو مصنوعی ذہانت کے خطرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ انسانی شناختوں اور تعلقات کو ہائی جیک کر سکتی ہے، عوامی رائے متاثر کر سکتی ہے اور سماجی تقسیم کو گہرا کر سکتی ہے۔ پوپ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کانظام اپنے تخلیق کاروں کے عالمی نقطہ نظر کی عکاسی کرتے ہیں ۔ڈیٹا میں موجود تعصبات کو دہرا کر سوچ کو متاثر کرسکتی ہے۔پوپ نے کہا، ’’چیلنج، انسانی شناخت اور حقیقی تعلقات کی حفاظت کاہے۔‘‘ واضح رہے کہ پوپ لیو چہاردہم کا یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا ہے جب جنریٹو مصنوعی ذہانت تصاویر،موسیقی اور متن کو نقل کرنے، تبدیل کرنے اور تیار کرنے میں ایسی ترقی کر رہی ہے کہبیشتر اوقات انسان کے تیار کردہ کاموں سے ممیز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: قابض یہودیوں نے ۲۰۲۵ء میں ۲۴۰؍ فلسطینیوں کو قتل اور ہزاروں کو زخمی کیا: یواین
۲۰۲۳ء میں، لیو کے پیشرو پوپ فرانسس ایک وائرل جعلی مصنوعی ذہانت کی بنائی ہوئی تصویر کا موضوع بنے جس میں انہیں سفید پفر جیکٹ پہنے ہوئے دکھایا گیا تھا۔اس کے بعد سے، جنریٹو مصنوعی ذہانت کچھ ممتاز شخصیات کا پسندیدہ آلہ بن گئی ہے، جن میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بھی شامل ہیں، جنہوں نے کمپیوٹر سے بنائی گئی تصاویر اپنے آن لائن اکاؤنٹس پر پوسٹ یا ،ری پوسٹ کی ہیں۔ بعد ازاں پوپ لیو چہاردہم نے خبردار کیا کہ صرف چند کمپنیوں کے پاس مصنوعی ذہانت کی ترقی پر اہم اختیار ہے، اور مصنوعی ذہانت کے ٹول ،حقیقت اورتصنوع کے درمیان فرق کرنے میں پیش آنے والی دقت میں اضافہ کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو نے پوپ کے لبنان دورے پر تنقید کی، عالمی سطح پر سفارتی کشیدگی
یاد رہے کہ گزشتہ مئی میں ریاستہائے متحدہ سے پہلے پوپ کے طور پر اپنے انتخاب کے بعد سے، لیو چہاردہم مسلسل مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثرات ، اور خطرات سے خبردار کرتے رہے ہیں۔انہوں نے ان نظاموں پر بھی تنقید کی جو شماریاتی امکان کو قابل اعتماد علم کے طور پر پیش کرتے ہیں، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ ایسے آلات آخر کار صرف تخمینے پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آنے والا چیلنج موثر حکمرانی قائم کرنا ہے ساتھ ہی انہوں نے نوجوانوں کو اس بارے میںباخبر کرنے کی اپیل کی کہ الگورتھم حقیقت کے ادراک کو کس طرح متاثر کرتے ہیں۔گزشتہ مہینے، انہوں نے فوجی تنصیباتمیں مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے انتباہ کیا کہ’’ زندگی اور موت کے فیصلے مشینوں کے حوالے نہ کیے جائیں۔‘‘