Inquilab Logo

نیند سے متعلق اپنی اس عادت کو آج ہی تبدیل کرلیں

Updated: September 18, 2023, 12:52 PM IST | Shobha Katare | Mumbai

آج کل ہم رات دیر تک جاگنے اور دن میں دیر تک سونے کی عادت کو اپنا چکے ہیں۔ دراصل ہم جانے انجانے میں اپنی باڈی کلاک یعنی قدرتی گھڑی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں۔ دیر سے سونا اور دیر سے اٹھنا ہمیں کئی بیماریوں میں مبتلا کرسکتا ہے۔ اپنی باڈی کلاک کی جانب توجہ دیں۔

Sleeping late at night and waking up early makes you feel refreshed. Photo: INN
رات وقت پر سونے اور جلدی بیدار ہونے سے آپ تروتازہ محسوس کرتی ہیں۔ تصویر:آئی این این

یہ کچھ دن پہلے کی بات ہے، جب میں اپنے ایک رشتہ دار کے یہاں ٹھہری تھی۔ اگلے دن مجھے جلدی نکلنا تھا، اس لئے میں نے صبح ۴؍ بجے کا الارم لگائی، لیکن خاتون رشتہ دار نے مجھ سے کہا کہ الارم لگانے کی ضرورت نہیں ہےکیونکہ اس کا بیٹا صبح ۴؍ بجے سوتا ہے اور ۱۲؍ بجے جاگتا ہے، اس لئے وہ مجھے جگا دے گا۔ میں نے سوچا کہ یہ مذاق ہے۔ لہٰذا میں الارم لگا کر سوگئی۔ اگلے دن ٹھیک ۴؍ بجے اس کے بیٹے نے مجھے ’’گڈ نائٹ‘‘ کہہ کر اٹھایا اور کہا، ’’میں اب سونے جا رہا ہوں، بعد میں ملتے ہیں۔‘‘ اس کے بعد میں نے بھی اسے ’’گڈ مارننگ‘‘ کہا اور اٹھ گئی۔ لیکن اس کا معمول دیکھ کر مجھے تعجب ہوا کیونکہ وہ گڈ مارننگ کے وقت گڈ نائٹ اور گڈ آفٹر نون کے وقت گڈ مارننگ کہتا ہے۔ دوپہر میں ناشتہ کرتا ہے، یہ عجیب بات ہے۔ اس طرز زندگی کے بہت سے نقصانات ہیں جنہیں سمجھنا آج کی نسل کے لئے ضروری ہے۔
ہم جانے انجانے میں اپنی باڈی کلاک یعنی قدرتی گھڑی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں۔ دیر سے سونا اور دیر سے اٹھنا ہمیں کئی بیماریوں میں مبتلا کرسکتا ہے۔ اپنی باڈی کلاک کی جانب توجہ دیں۔
مدافعتی نظام مضبوط ہوگا
 متعدد تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مناسب نیند جسم کے نظام کو درست کرنے، اندرونی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کرنے اور تازہ دم رکھنے میں مدد کرتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سوتے وقت ہمارے دماغ کو آرام ملتا ہے اور مناسب نیند کی وجہ سے دماغ جاگنے کے بعد بہتر طریقے سے کام کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ اچھی نیند لینے سے ہمارے جسم میں بڑی مقدار میں سفید خون کے ذرات پیدا ہوتے ہیں، جو انفیکشن اور بیماریوں سے لڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یادداشت اور سوچنے کی طاقت میں بھی اضافہ ہوتا ہے جس سے کاموں کو بہتر طریقے سے انجام دینے کے لئے جسم کو توانائی ملتی ہے۔
ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے
وقت پر سونے اور صبح جلدی اٹھنے پر خوشی محسوس ہوتی ہے، یعنی اس عمل سے مزاج خوشگوار ہوتا ہے۔ دوسری جانب دیر سے جاگنے پر پورے دن سستی طاری رہتی ہے۔ یہ فطری بات ہے کہ اگر آپ صبح کے وقت خوش اور تروتازہ محسوس کریں گی تو آپ موٹاپا، ذیابیطس، امراض قلب، ہائی بلڈ پریشر وغیرہ جیسے کئی سنگین مسائل سے دور رہیں گی۔ صحتمند جسم دماغی صحت کو بھی بہتر بناتا ہے۔
بھوک پر قابو پانے میں مدد
اگر آپ سونے کے وقت پر جاگ رہی ہوں تو گھریلین نامی ہارمون جو آپ کو بھوک کے بارے میں بتاتا ہے، کی تعداد بڑھ جاتی ہے جبکہ پیٹ بھرنے کا احساس دلانے والا ہارمون لپٹین کی سطح گھٹ جاتی ہے اور اس طرح آپ کچھ زیادہ ہی کھالیتی ہیں جو موٹاپے کا سبب بنتی ہے۔ وہیں جلدی سونے اور مناسب نیند لینے سے ان ہارمونس کو کنٹرول کرنے اور صحت بخش غذا کھانے کی عادت پروان چڑھتی ہے۔
ہارمونز کی سطح میں بگاڑ
جلدی اور وقت پر سونا ہمارے جسم کو تناؤ سے متعلق کورٹیسول ہارمونز کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔ رات کے ابتدائی اوقات میں اس ہارمون کی سطح سب سے کم ہوتی ہے۔ رات کو جلدی سونے سے اس کی سطح کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے جس کا مجموعی صحت پر اچھا اثر پڑتا ہے۔
نقصانات
نیند کی کمی کی وجہ سے مزاج میں چڑچڑاپن شامل ہو جاتا ہے۔
دیر سے سونا اور جاگنے کی وجہ سے سر درد کی شکایت ہوسکتی ہے۔
سلیپ پیٹرن میں تبدیلی کی وجہ سے بینائی کی کمزور ہوتی ہے۔
دیر رات تک جاگنے اور دن میں دیر تک سونے کی وجہ سے توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔
یادداشت کمزور ہوتی ہے۔
برسوں سے رات ۸؍ سے ۱۰؍ بجے کے درمیان سونا ایک اچھی عادت سمجھی جاتی رہی ہے۔ تاہم، آج کل کے معمولات کی وجہ سے لوگ اکثر وقت پر سو نہیں پاتے۔ لیکن یہ عادت صحت پر بہت سے منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے کیونکہ ہمارا جسم نیچرل سیرکیڈین ریڈم پر کام کرتا ہے۔ اس سے مراد سونے اور جاگنے کا قدرتی نظام ہے جو ہمارے جسم میں ہونے والے ذہنی، مزاج سے متعلق اور جسمانی تبدیلیوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ ہارمونز جسم کے درجہ حرارت اور کھانے کی عادت و اطوار کو متاثر کرتا ہے۔ نیچرل سیرکیڈین ریڈم میں تبدیلی ہونے کی وجہ سے ذیابیطس، موٹاپا، ہائی بلڈ پریشر اور ڈپریشن سمیت کئی صحت کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس لئے اپنے طرز زندگی کو تبدیل کریں۔ گھر والوں کو بھی وقت پر سونے اور جلدی اٹھنے کی تلقین کریں۔ گھر کے کسی بھی فرد کو بیڈ روم میں موبائل فون رکھنے کی اجازت نہ دیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK