عید الفطر صرف خوشی منانے کا دن نہیں بلکہ شکر ادا کرنے، محبت بانٹنے اور انسانیت کی خدمت کرنے کا دن ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اس مبارک موقع پر اپنے دلوں کو کینہ اور نفرت سے پاک کریں۔
EPAPER
Updated: March 18, 2026, 3:21 PM IST | Simee Sadaf Mir Naved Akhtar | Mumbai
عید الفطر صرف خوشی منانے کا دن نہیں بلکہ شکر ادا کرنے، محبت بانٹنے اور انسانیت کی خدمت کرنے کا دن ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اس مبارک موقع پر اپنے دلوں کو کینہ اور نفرت سے پاک کریں۔
رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ پورا مہینہ مسلمان روزہ رکھ کر، عبادت کرکے اور نیک اعمال کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب یہ بابرکت مہینہ اختتام کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عید الفطر کی صورت میں ایک خوبصورت انعام عطا فرماتا ہے۔ عید الفطر دراصل خوشی، شکر گزاری اور بھائی چارے کا پیغام لے کر آتی ہے۔ عید کا دن مسلمانوں کیلئے بے حد مسرت اور خوشی کا دن ہوتا ہے۔ اس دن صبح سویرے مسلمان غسل کرکے نئے یا صاف کپڑے پہنتے ہیں، خوشبو لگاتے ہیں اور عیدگاہ یا مسجد میں جا کر عید کی نماز ادا کرتے ہیں۔ نماز کے بعد لوگ ایک دوسرے کو گلے لگا کر عید کی مبارکباد دیتے ہیں اور دلوں میں موجود ناراضگیوں کو ختم کر دیتے ہیں۔ اس طرح عید ہمیں محبت، بھائی چارے اور اتحاد کا درس دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فرزانہ لطیف شیخ روزہ کے اہتمام کے ساتھ بیس افراد کیلئے ٹفن تیار کرتی ہیں
عید الفطر کی ایک اہم خوبی یہ بھی ہے کہ اس دن غریبوں اور محتاجوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ اسلام نے ہمیں سکھایا ہے کہ عید کی خوشیوں میں ہر فرد کو شریک کیا جائے۔ اسی مقصد کے لئے صدقۂ فطر ادا کیا جاتا ہے تاکہ معاشرے کے کمزور اور ضرورتمند لوگ بھی عید کی خوشیوں سے محروم نہ رہیں۔ یہ عمل ہمیں ہمدردی، ایثار اور انسانیت کی خدمت کا درس دیتا ہے۔
خواتین کے لئے بھی عید کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ وہ گھر کی صفائی، لذیذ کھانوں کی تیاری اور اہل ِ خانہ کے لئے خوبصورت انتظامات میں مصروف رہتی ہیں۔ نئے کپڑے، مہندی، چوڑیاں اور مختلف پکوان عید کی خوشیوں کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ بچوں کے لئے عیدی اور میٹھے پکوان عید کی خوشیوں کو دوبالا کر دیتے ہیں۔
عید الفطر ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ رمضان المبارک میں جو صبر، تقویٰ اور نیکی کی عادت ہم نے اختیار کی ہے، اسے سال بھر برقرار رکھنا چاہئے۔ اگر ہم عید کے بعد بھی نیک اعمال جاری رکھیں، دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کریں اور اللہ کی اطاعت میں زندگی گزاریں تو یہی عید کی حقیقی روح ہے۔
یہ بھی پڑھئے: خاموش التجا؛ صدقہ اُنہیں دیں جو مانگ نہیں سکتے
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ عید الفطر صرف خوشی منانے کا دن نہیں بلکہ شکر ادا کرنے، محبت بانٹنے اور انسانیت کی خدمت کرنے کا دن ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اس مبارک موقع پر اپنے دلوں کو کینہ اور نفرت سے پاک کریں، ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور اخوت کا برتاؤ کریں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ہمیں رمضان جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی۔
عید الفطر ہم سب کے لئے امن، محبت اور خوشیوں کا پیغام لے کر آئے (آمین)۔