تعطیلات کا زمانہ آتے ہی گھروں کا ماحول بدل جاتا ہے۔ بچوں کے معمولات، سونے جاگنے کے اوقات، مصروفیات اور دلچسپیاں سب تبدیل ہونے لگتی ہیں۔
EPAPER
Updated: May 14, 2026, 3:32 PM IST | Samira Azhar Sargroh | Mumbai
تعطیلات کا زمانہ آتے ہی گھروں کا ماحول بدل جاتا ہے۔ بچوں کے معمولات، سونے جاگنے کے اوقات، مصروفیات اور دلچسپیاں سب تبدیل ہونے لگتی ہیں۔
تعطیلات کا زمانہ آتے ہی گھروں کا ماحول بدل جاتا ہے۔ بچوں کے معمولات، سونے جاگنے کے اوقات، مصروفیات اور دلچسپیاں سب تبدیل ہونے لگتی ہیں۔ بظاہر یہ چند دنوں کی فراغت ہوتی ہے مگر حقیقت میں یہی مختصر عرصہ بچوں کی تربیت ، شخصیت سازی اور ذہنی و اخلاقی تعمیر کا نہایت اہم وقت ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ والدین کیلئے تعطیلات راحت کے ساتھ ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی بن جاتی ہیں۔
وقت کی صحیح منصوبہ بندی
تعطیلات میں سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ بچوں کے وقت کو منظم کیا جائے۔ اگر بچے کسی ترتیب اور مقصد کے بغیر وقت گزاریں گے تو آہستہ آہستہ یہی بے مقصدیت اور غیرذمہ داری ان کی عادت بن سکتی ہے، اس لئے ضروری ہے کہ ان کیلئے متوازن معمول بنایا جائے جس میں عبادت، مطالعہ، کھیل، آرام اور گھریلو ذمہ داریاں شامل ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: تربیت جتنی اچھی ہوگی، طلبہ کی شخصیت اتنا نکھرے گی
دینی تربیت پر خصوصی توجہ
تعطیلات دینی تربیت کے لئے بہترین موقع فراہم کرتی ہیں۔ تعلیمی مصروفیات کم ہونے کی وجہ سے بچوں کو نماز کی پابندی، قرآن کی تلاوت اور اسلامی آداب سکھانے پر توجہ دی جائے۔ گھر کا ماحول دینی ہو اور والدین خود عملی نمونہ پیش کریں تو بچوں کے دلوں میں دین کی محبت آسانی سے پیدا ہوجاتی ہے۔
موبائل اور اسکرین سے دوری
آج کے دور میں تعطیلات کا سب سے بڑا مسئلہ موبائل فون اور اسکرین کا بے جا استعمال ہے۔ بچے گھنٹوں ویڈیوز ، گیمز اور سوشل میڈیا میں مصروف رہتے ہیں جس سے نہ صرف ان کی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ ذہنی اور اخلاقی نقصان بھی ہوتا ہے، اس لئے والدین کو چاہئے کہ اسکرین کا وقت محدود کریں اوربچوں کو مفید سرگرمیوں کی طرف متوجہ کریں۔
مطالعہ کی عادت
تعطیلات ،بچوں میں کتاب سے دوستی کرنے کا سنہری موقع فراہم کرتی ہیں۔ نصابی کتابوں کے علاوہ سیرت، اسلامی تاریخی واقعات ، اخلاقی مضامین اور عام معلومات یا جنرل نالج کی کتابیں ضرور خریدیں اور بچوں کو مطالعہ کی طرف راغب کریں۔ ایسی کتابوں کا مطالعہ ان کی سوچ کو مثبت بناتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گھر پر دہی سے مکھن نکالنے کا یہ طریقہ آزمائیں
عملی زندگی کی تربیت
بچوں کو صرف نصیحتیں کافی نہیں ہوتیں بلکہ عملی تربیت زیادہ اثر رکھتی ہے۔ تعطیلات میں انہیں گھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں شریک کرنا چاہئے جیسے صاف صفائی، چیزوں کو ترتیب سے رکھنا، بڑوں کی خدمت کرنا، سودا سلف لانا اور چھوٹے بہن بھائیوں کا خیال رکھنا وغیرہ۔ اس سے ان میں ذمہ داری، نظم و ضبط اور خدمت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
اخلاقی نگرانی
چھٹیوں میں بچوں کا مختلف لوگوں سے میل جول بڑھ جاتا ہے۔ اس لئے والدین کو ان کی طبیعت اور سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہئے ۔ کیونکہ بعض اوقات والدین کی معمولی سی غفلت کسی بڑے نقصان کا سبب بن جاتی ہے۔
بچوں کے ساتھ وقت گزارنا
اکثر والدین مصروفیات کی وجہ سے بچوں کو وقت نہیں دے پاتے لیکن تعطیلات اس کمی کو دور کرنے کا بہترین موقع ہوتی ہیں۔ بچوں کے ساتھ بیٹھنا، گفتگو کرنا، ان کی باتیں سننا اور انہیں محبت دینا ان کی جذباتی تربیت کیلئے بے حد ضروری ہے۔ یادرکھئے کہ جو بچے گھر میں محبت اور توجہ پاتے ہیں وہ ذہنی طور پر زیادہ متوازن اور پراعتماد ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بچوں کو ذہن نشین کرائیں کہ وقت کو کار آمد بنانا ہے
تفریح کی اہمیت
اسلام تفریح سے منع نہیں کرتا بلکہ متوازن اور پاکیزہ تفریح کی اجازت دیتا ہے۔ بچوں کا جسمانی طور پر کھیل کود میں حصہ لینا ، باغات یا تاریخی مقامات کی سیر کرنا یا ایسی سرگرمیوں کا حصہ بننا جس میں ان دماغی صلاحیتوں کو جلا ملے، اس کے لئے تعطیلات بہترین موقع ہوتی ہیں۔
ماں کا کردار
بچوں کی تربیت میں ماں کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ تعطیلات میں ماں اگر تھوڑی سی توجہ، محبت اور حکمت کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرے تو یہی دن ان کی زندگی بدل سکتے ہیں۔ ماں کی بات ، اس کا انداز اور اس کی دعا بچوں کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔
والدین کے لئے لمحہ فکریہ
بہت سے والدین بچوں کو ہر سہولت تو دے دیتے ہیں مگر وقت ، نگرانی اور تربیت نہیں دے پاتے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ اچھی تعلیم سے زیادہ اہم اچھی تربیت ہے۔ اگر بچہ اخلاق، دین اور ذمہ داری کے احساس سے خالی ہو تو صرف ڈگریاں اس کے کردار کو مکمل نہیں بنا سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اپنے بچوں کو ’روبوٹ‘ کے بجائے ’کامل انسان‘ بنائیں
تعطیل کا مختصر عرصہ دراصل ایک امتحان ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کی تربیت کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ اگر یہ وقت حکمت، محبت اور صحیح رہنمائی کے ساتھ گزارا جائے تو بچوں کی شخصیت میں مثبت تبدیلی پیدا کی جاسکتی ہے لیکن اگر یہ دن غفلت، بے مقصدیت اور اسکرین کی نذر ہوجائیں تو اس کے منفی اثرات دیر تک باقی رہتے ہیں،اس لئے والدین کو چاہئے کہ تعطیلات کو صرف آرام کا نہیں، بلکہ تربیت اور اصلاح کا بہترین موقع سمجھیں۔