نوعمروں کے اندر کوئی نہ کوئی تخلیقی صلاحیت ہوتی ہے۔ کسی کو مصوری پسند ہوتی ہے، کسی کو خطاطی، کسی کو خاکہ سازی، کسی کو دستکاری یا سجاوٹ کا شوق ہوتا ہے۔ اگر ان صلاحیتوں کو مناسب رہنمائی مل جائے تو ان میں نکھار پیدا ہوتا ہے جو محنت و ریاضت سے آپ کی امتیازی شناخت بن جاتی ہیں۔
کم عمری ہی سے بچیوں کو تعلیم کے ساتھ ہنر اور مہارتیں سیکھنے کا موقع دینا چاہئے۔ تصویر: آئی این این
آج کے ترقی یافتہ معاشرے میں صرف نصابی تعلیم کو کامیابی کا معیار نہیں سمجھا جاتا بلکہ تعلیم کے ساتھ مختلف ہنر، تخلیقی صلاحیتیں اور عملی مہارتیں بھی یکساں اہمیت رکھتی ہیں۔ ایک ایسی لڑکی جو تعلیم کے ساتھ کئی مفید ہنر سیکھتی ہے وہ نہ صرف خود اعتماد بنتی ہے بلکہ مستقبل میں اپنے خاندان، معاشرے اور پیشہ ورانہ زندگی میں بھی زیادہ کامیاب ثابت ہوتی ہے۔ اسلئے ماؤں، بڑی بہنوں اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ لڑکیوں کو صرف امتحان کی تیاری تک محدود نہ رکھیں بلکہ اُن کی شخصیت کے ہمہ جہت ارتقاء پر بھی توجہ دیں۔
تخلیقی فنون:
یہ شخصیت میں اعتماد پیدا کرتے ہیں۔ نوعمروں کے اندر کوئی نہ کوئی تخلیقی صلاحیت ہوتی ہے۔ کسی کو مصوری پسند ہوتی ہے، کسی کو خطاطی، کسی کو خاکہ سازی، کسی کو دستکاری یا سجاوٹ کا شوق ہوتا ہے۔ اگر ان صلاحیتوں کو مناسب رہنمائی مل جائے تو ان میں نکھار پیدا ہوتا ہے جو محنت و ریاضت سے آپ کی امتیازی شناخت بن جاتی ہیں۔ پینٹنگ، اسکیچنگ، کرافٹ ورک، پیپر آرٹ، مٹی کے برتن بنانے، جیولری ڈیزائننگ، ایمبرائیڈری، اور سجاوٹی اشیاء تیار کرنا لڑکیوں میں صبر، باریک بینی، حسن ذوق اور تخلیقی سوچ پیدا کرتے ہیں۔ یہی اوصاف پیشہ ورانہ زندگی میں بھی کام آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بالوں کو مضبوط بنانے کے لئے پیاز کا عرق کارگر
سلائی، کڑھائی، فیشن ڈیزائننگ، ٹیکسٹائل آرٹ:
ہاتھ سے کام کرنے کی مہارت کبھی پرانی نہیں ہوتی۔ سلائی، کڑھائی، کروشیا، بنائی، پیچ ورک، فیشن ڈیزائننگ، بلاک پرنٹنگ اور فیبرک پینٹنگ جیسے ہنر لڑکیوں کو خود کفیل بھی بناسکتے ہیں۔ آج خواتین گھر بیٹھے کپڑوں کی سلائی، ڈیزائننگ، بچّوں کے ملبوسات، بیگز، کشن کور، پردے اور دستکاری کی اشیاء تیار کرکے با عزت آمدنی حاصل کر رہی ہیں۔ ان سب سے نہ صرف معاشی خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے بلکہ جمالیاتی ذوق بھی پروان چڑھتا ہے۔
بیکنگ، پکوان اور فوڈ پریزینٹیشن کا فن:
کھانا پکانا صرف روزمرہ کی ضرورت نہیں بلکہ ایک فن بھی ہے۔ نوعمر لڑکیوں کو مختلف صحت بخش کھانے، بیکنگ، کیک سجاوٹ، چاکلیٹ سازی، اچار، جیم، سوس اور سلاد اور غذائیت سے بھرپور پکوان بنانے کی تربیت دی جاسکتی ہے۔ آج کل فوڈ پریزینٹیشن، فوڈ فوٹوگرافی اور آن لائن فوڈ بزنس بھی مقبول ہو رہے ہیں۔ اگر یہ ہنر تعلیم کے ساتھ سیکھ لئے جائیں تو مستقبل میں روزگار کے نئے دروازہ کھل سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یہ سبزیاں بچوں کا قد بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں
موسیقی، خطاطی، فوٹو گرافی اور دیگر فنون لطیفہ:
ہر معاشرے میں فنون لطیفہ شخصیت کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خوشخطی، فوٹو گرافی، قدرتی مناظر کی تصویر کشی، باغبانی، پھولوں کی آرائش، اندرونی سجاوٹ اور دیگر تخلیقی سرگرمیاں انسان میں حسن ذوق پیدا کرتی ہیں۔ اسی طرح اگر کسی بچی میں آواز، ترنّم یا کسی ساز کی فنی تعلیم حاصل کرنے کی صلاحیت ہو اور وہ اپنے خاندانی اور سماجی ماحول کے مطابق مثبت انداز میں اس صلاحیت کو پروان چڑھائے تو اس کی شخصیت میں اعتماد، نظم و ضبط اور جمالیاتی احساس پیدا ہوتا ہے۔
ڈجیٹل آرٹس اور جدید مہارتیں:
آج کی دنیا میں بہت سے ہنر کمپیوٹر کے ذریعے سیکھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر گرافک ڈیزائننگ، ڈجیٹل السٹریشن، اینیمیشن، ویڈیو ایڈیٹنگ، فوٹو ایڈیٹنگ، ویب ڈیزائننگ، سوشل میڈیا مینجمنٹ، مواد نویسی، اور مثنوی ذہانت کے تخلیقی استعمال جیسے شعبے نوعمر لڑکیوں کے لئے بیشمار مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ یہ مہارتیں صرف ملازمت ہی نہیں بلکہ گھر بیٹھے فری لانسنگ اور چھوٹا کاروبار کرنے میں بھی مدد دیتی ہیں۔ اس طرح تعلیم کیساتھ ہنر بھی حاصل ہوتا ہے اور خود اعتمادی بھی بڑھتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رشتوں میں حدود قائم رکھنا کیوں ضروری ہے؟
شخصیت نکھارنے والے عملی ہنر:
صرف فنی ہنر کافی نہیں بلکہ چند عملی مہارتیں بھی ضروری ہیں جو زندگی کے ہر شعبے میں کام آئیں۔ مثلاً مؤثر گفتگو، وقت کی منصوبہ بندی، ٹیم ورک، تقریر، کتاب خوانی، مسائل حل کرنے کی صلاحیت، مہمان نوازی، تقریبات کی تنظیم، مالی منصوبہ بندی، اور بنیادی کاروباری شعور، یہ تمام ہنر ایک لڑکی کو پُر اعتماد، با وقار اور ذمہ دار شخصیت عطا کرتے ہیں۔ ایسے افراد ہر ماحول میں اپنی مثبت شناخت بنا لیتے ہیں۔
یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ نو عمر لڑکیوں کی بہترین تعلیم وہ ہے جس کے ساتھ کوئی نہ کوئی عملی ہنر بھی شامل ہو۔ ایک لڑکی اگر ان تمام ہنر میں سے کوئی ایک ہنر بھی سیکھ لے تو وہ زندگی کے ہر میدان میں زیادہ کامیاب با اعتماد اور با وقار بن سکتی ہے۔ تخلیقی کام چھوٹے پیمانے سے شروع ہو کر بڑے کاروبار کی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔ اس سے مالی خودمختاری حاصل ہوتی ہے۔ لہٰذا اس بات کا اہتمام کیا جائے کہ ہر لڑکی کی صلاحیت کو اُجاگر کیا جائے۔ جس سے وہ خود اعتمادی کے ساتھ ساتھ مستقبل کے چیلنجوں کا بخوبی مقابلہ کرسکے۔ تعلیم اور ہنر کا یہ کامیاب امتزاج ایک خوشحال خاندان، با صلاحیت نسل اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہوسکتا ہے۔