Inquilab Logo Happiest Places to Work

فرانس میں جی ۷؍سمٹ کا آغاز،۱۶؍ماہ بعد مودی اور ٹرمپ کی دوبدوملاقات

Updated: June 17, 2026, 11:03 AM IST | Agency | Paris

امریکہ ، ہندوستان،برطانیہ، کنیڈا،جرمنی، اٹلی، جاپان ،مصر کے سربراہان کیساتھ یورپی یونین کے ذمہ داران بھی شریک، ۱۷؍ جون تک سربراہی اجلاس چلے گا،کئی اہم موضوعات پر بات چیت ہوگی۔

G 7 Meet.Photo:INN
جی سیون میٹنگ۔ تصویر:آئی این این
فرانس کے شہر ایویان لے بین میں منعقدہ جی سیون سربراہی اجلاس کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو ملاقات کی۔  اس دوران دونوں لیڈران نے ایک دوسرے سے خیرسگالی کا اظہار کیا اور مختصر بات چیت کی۔ تقریباً ڈیڑھ سال کے بعد دونوں لیڈران کی پہلی بالمشافہ ملاقات تھی۔اگرچہ دونوں لیڈران کے درمیان ہونے والی مختصر بات چیت کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم اس ملاقات نے ایک ایسی دوطرفہ گفتگو کی بنیاد رکھ دی ہے جسے انتہائی اہم اور حساس سمجھا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے حکام سفارتی کشیدگی کے ایک دور کے بعد تعلقات میں دوبارہ پیش رفت لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔خیال رہے کہ ہندامریکہ کے تعلقات اُس وقت دباؤ کا شکار ہوگئے تھے جب امریکہ نے ہندوستانی مصنوعات پر تعزیری محصول عائد کیے تھے اور ٹرمپ نے بارہا یہ دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ سال ہندپاک کے درمیان پیدا ہونے والی فوجی کشیدگی کو ختم کرنے میں انہوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔کئی مہینوں تک ٹرمپ عوامی طور پر یہ کہتے رہے کہ انہوں نے ان دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان ایک مکمل جنگ کو روکنے میں مدد کی۔
جی سیون اجلاس کے پہلے دن کیا ہوا؟
رپورٹ کے مطابق جی۷؍کے لیڈران نے منگل کو اس بات پر اتفاق کیا کہ یوکرین کے خلاف چار سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے روس پر دباؤ مزید بڑھایا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ ماسکو کو ایک معاہدہ کرنا چاہیے۔
 
 
۱۵؍ سے۱۷؍ جون تک جاری رہنے والا یہ اجلاس فرانس کے قصبے ایویان لے بین  میں جنیوا جھیل کے کنارے منعقد ہو رہا ہے۔ اس میں فرانس، برطانیہ، کینیڈا، جرمنی، اٹلی، جاپان اور امریکہ کے سربراہان کے علاوہ یورپی یونین  کے نمائندے بھی شریک ہیں۔جی سیون لیڈران نے منگل کو جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ وہ عالمی قرضوں کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی کوششوں میں اضافہ کریں گے۔بیان میں کہا گیا کہ ’’بڑھتے ہوئے عالمی قرضوں کے خطرات اقتصادی استحکام کے لیے خطرہ بن رہے ہیں اور ضروری عوامی خدمات پر اخراجات کے لیے مالی گنجائش کو محدود کر رہے ہیں۔‘‘ لیڈران نے ایسے ممالک کی مزید مدد پر بھی زور دیا جن کے قرضے پائیدار ہیں اور جو اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل کر رہے ہیں، لیکن سرمایہ کاری کے مواقع سے محروم ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نےکثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں سے مطالبہ کیا کہ وہ رِسک شیئرنگ کو فروغ دیں۔  ٹرمپ نے جی۷؍اجلاس کے موقع پر کہا کہ امریکہ جلد ہی روسی تیل پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے گا۔ اس اجلاس میں عالمی لیڈرروس پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ یوکرین پر اپنے حملے کو ختم کرے۔
 
 
سمٹ کے پہلے دن یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا، اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی، جنوبی کوریا کے صدر لی جا میونگ،مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی ،برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، کینیا کے صدر ولیم روٹو،میزبان ملک فرانس کے صدر ایمانویل میکرون جاپان کی وزیر اعظم سنائے تاکیشی ، وزیر اعظم نریندر مودی ، کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی ، جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز،یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وون ڈیر لین اوربرازیل کے صدر ڈا سلوامنگل کو فرانس کے شہرایویان-لے-بین میں منعقد ہ جی سیون سمٹ کے دوران گروپ فوٹو کھنچوائی ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK