ہمسائیگی کا حق صرف رسمی تعلقات کا نام نہیں بلکہ آج کے مصروف دور میں بھی اپنے ہمسایوں کے حال احوال سے باخبر رہنا اور ان کے لئے آسانیوں کا سبب بننا بے حد اہم ہے۔
EPAPER
Updated: June 03, 2026, 2:19 PM IST | Saba Shadab | Mumbai
ہمسائیگی کا حق صرف رسمی تعلقات کا نام نہیں بلکہ آج کے مصروف دور میں بھی اپنے ہمسایوں کے حال احوال سے باخبر رہنا اور ان کے لئے آسانیوں کا سبب بننا بے حد اہم ہے۔
اسلام نے ہمسایوں کے حقوق کی بہت زیادہ تاکید کی ہے، چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم۔ آج جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں وہاں ہمارے اطراف غیر مسلم ہمسائے ایک عام بات ہے۔ ہمارے مذاہب، عقائد، رسم و رواج، کھانا پینا، زبانیں سب مختلف ہیں، لیکن ہم پر ہمسائیگی کا حق واجب ہے۔ ان کے حقوق ادا کرنے کے چند طریقے یہ ہیں:
ثقافتی اختلافات کے باوجود مل جل کر رہنا
ثقافتی اختلافات کے باوجود ایکدوسرے کا احترام کرنا، محبت سے رہنا اور آپس میں اچھے تعلقات قائم رکھنا ہمسائیگی کا حق ادا کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
زبان کے فرق کو کم کرنا
ایک دوسرے کی زبان کا احترام کرنا اور ان کی زبان کو سیکھنے میں دلچسپی کا اظہار کرنا، آپسی محبت کو بڑھاتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم اپنے پڑوسیوں سے ٹوٹی پھوٹی مراٹھی میں بات کرتے ہیں اور وہ ہم سے ٹوٹی پھوٹی اردو میں گفتگو کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے باہمی سمجھ بوجھ اور اپنائیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: خان سر کے کیمپس کے قریب فائرنگ، پولیس کی تحقیقات شروع
تہواروں کے خصوصی پکوان ایک دوسرے کیساتھ بانٹنا
اپنے اپنے تہواروں پر بننے والے خاص پکوان اپنے غیر مسلم ہمسایوں کے ساتھ بانٹنے سے محبت اور بھائی چارہ بڑھتا ہے۔ جیسے ہمارے غیر مسلم پڑوسیوں کی دیوالی کا فرسان اور پورن پولی کا ہم انتظار کرتے ہیں، اسی طرح وہ بھی ہمارے گھر عیدین میں بننے والا شیر خورما اور سویاں شوق سے کھاتے ہیں۔
ایک دوسرے کے مذہب کی اچھی باتیں شیئر کرنا
اپنے اپنے مذہب کی اچھی اور مثبت تعلیمات ایک دوسرے کے ساتھ احترام اور خوش اخلاقی کے ساتھ شیئر کی جائیں۔ اس دوران کسی کے عقائد پر تنقید یا فیصلہ کن رویہ اختیار نہ کریں۔ سچائی، امانت داری، ہمدردی، احترام، انسانیت اور سب کے ساتھ یکساں سلوک کا درس دینے والی مذہبی تعلیمات کا ذکر کرنے سے باہمی احترام، رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ ملتا ہے۔
ہمارے اپنے پڑوسی
ہمارے پڑوس میں ایک برہمن فیملی رہتی ہے۔ ان کا پورا گھر خالص سبزی خور ہے۔مذہب، رسم و رواج اور طرز زندگی کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہوئے بھی وہ ہر سال عید، بقر عید کے موقع پر ہمارے گھر ضرور آتے ہیں، بڑی خوش اخلاقی سے ملتے ہیں۔ ایک دن ہم باہر گئے ہوئے تھے۔ اتفاقاً ہمارے گھر کا دروازہ کھلا رہ گیا۔ ان کی نظر جب کھلے دروازہ پر پڑی تو وہ فکرمند ہوگئے۔ انہوں نے ہمیں کال کرکے اطلاع دی۔ انہیں صرف گھر کے سامان کی فکر نہیں تھی بلکہ ہماری بلیوں کا بھی خیال تھا کہ کہیں بلیاں باہر نہ چلی گئی ہوں اور انہیں کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے گھر کا دروازہ ٹھیک سے بند کیا اور ہمیں اطمینان دلایا کہ سب خیریت سے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کھیل کی دنیا کے ابھرتے ستارے چراغ تیاگی کی موت
ہم اور وہ
ہمارے پڑوس میں ایک بوڑھی دادی گھر میں اکیلی رہتی ہیں۔ ایک دن وہ دروازے پر پریشان کھڑی نظر آئیں۔ ہمارے دریافت کرنے پر انہوں نے اپنی زبان میں کچھ کہا۔ زبان کے فرق کی وجہ سے وہ اپنی بات واضح نہیں کر پا رہی تھیں اور ان کی بات ہمیں سمجھ نہیں آرہی تھی۔ کبھی اردو، کبھی مراٹھی اور کبھی اشاروں کا سہارا لیا۔ آخر کار ہمیں معلوم ہوا کہ وہ اپنے بیٹے کے لئے فکرمند ہیں۔ بیٹا دبئی میں رہتا ہے اور وہ اس سے فون پر بات کرنا چاہتی ہیں لیکن انہیں موبائل میں سمجھ نہیں آرہا۔ ہم نے موبائل میں ان کے بیٹے کا نمبر ڈھونڈا۔ فون ملا کر ان کی بات کروا دی۔ اس کے بعد ہم نے طے کیا کہ ہم ایک دوسرے کی زبان کے چند نئے الفاظ روز سیکھیں گے۔
ہمسائیگی کا حق صرف رسمی تعلقات کا نام نہیں بلکہ آج کے مصروف دور میں بھی اپنے ہمسایوں کے حال احوال سے باخبر رہنا اور ان کے لئے آسانیوں کا سبب بننا بے حد اہم ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’بھارت میں مسلمانوں کا سیاسی ایجنڈا‘‘ فکری جمود سے آئینی شعور تک کا سفر
ہمسائیگی کا حق صرف ضرورت کے وقت مدد کرنے یا خوشی و غم میں شریک ہونے تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ کی زندگی میں چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ جیسے ہمارے فوٹ ویئر راستے میں اس طرح نہ رکھے ہوں کہ ہمارے ہمسایوں کو دشواری ہو۔ کوڑے دان صاف ستھرا ہو اس سے بدبو یا کسی قسم کی گندگی نہ پھیلے۔ ہمارے گھر کے فنکشن اور تہواروں میں شور حد سے زیادہ نہ ہو اور نہ ہی کامن ایریا میں مہمانوں کے چہل پہل سے پڑوسیوں کو تکلیف پہنچے۔ گاڑیوں کی بے ترتیب پارکنگ سے بھی گریز کرنا ضروری ہے۔
لہٰذا چھوٹی چھوٹی احتیاطی تدابیر اور احساس ذمہ داری سے ہی محبت، احترام اور بھائی چارے کی فضا قائم ہوتی ہے جو کہ درحقیقت ہمسائیگی کے حق کی ادائیگی کی بنیاد ہے۔