سالگرہ منانے کے تعلق سے درمیانی راستہ نکالنا چاہئے، اسے تفریح کے ساتھ ساتھ تربیت کا ذریعہ بنائیں۔
EPAPER
Updated: July 02, 2026, 1:55 PM IST | Dr. Sabiha Naheed | Mumbai
سالگرہ منانے کے تعلق سے درمیانی راستہ نکالنا چاہئے، اسے تفریح کے ساتھ ساتھ تربیت کا ذریعہ بنائیں۔
’’ہیپی برتھ ڈے ٹو یو....‘‘ کا نعرہ تو آج کل ہر گھر میں بلند ہوتا ہے۔ خاص طور پر بچوں کو اپنی سالگرہ کا بڑی بے صبری سے انتظار ہوتا ہے۔ ان کی برتھ ڈے کب آئے اور وہ اپنے دوستوں کے ساتھ مستی کریں، کیک کاٹیں اور کھائیں کھلائیں.... سب سے پہلے ذرا ماضی کے دریچوں سے جھانک کر پتہ لگانے کی کوشش کریں کہ اس برتھ ڈے کی شروعات.... کہاں.... کب.... اور کیسے ہوئی....
حقیقتاً برتھ ڈے منانے کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اس کی شروعات دراصل ۳۰۰۰؍ قبل مسیح مصر میں ہوئی تھی۔ اس زمانے میں بادشاہ وقت کے اعزاز میں ایک علامتی برتھ ڈے پارٹی رکھی جاتی تھی۔ پھر دھیرے دھیرے یہ ارتقائی منازل طے کرتی ہوئی قدیم مصر، یونان اور روم میں رواج پانے لگی۔ ابتدائی عیسائیت کے دنوں میں اس رواج کا اختلاف کیا گیا اور برتھ ڈے پارٹی کے بجائے روح کو سکون حاصل کرانے کے لئے ڈیتھ ڈے منایا جاتا تھا.... لیکن چوتھی صدی میں کیتھولک چرچ نے ۲۵؍ دسمبر کو عیسیٰ مسیح کے برتھ ڈے کی تقریب کا انعقاد کرنا شروع کیا۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے یہ عام لوگوں کے برتھ ڈے کے طور پر منایا جانے لگا۔
یہ بھی پڑھئے: تنہائی ہماری ساتھی، ہمیں بہتر بنانے میں معاون مگر...
کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ زندگی کے ایک اور سال کم ہونے کا تو غم منانا چاہئے۔ اس کی خوشی کس بات کی.... اور سیلیبریشن کس بات کا.... یہ تو ایک منفی پہلو ہوا لیکن ایک مثبت سوچ یہ بھی پائی جاتی ہے کہ زندگی کا ایک اور سال خیر و عافیت کے ساتھ گزر گیا تو اسے سلیبریٹ کرنا چاہئے.... باتیں تو دونوں ہی اپنی اپنی جگہ مناسب ہیں.... لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس سالگرہ کو سلیبریٹ کرنا ہی ہے تو کس طرح کیا جائے۔ کیونکہ آپ جس سماج اور معاشرہ میں رہ رہے ہیں اس کی تمام باتوں کو سرے سے رد نہیں کیا جاسکتا۔ ہاں! اس میں اپنے انداز میں ترمیم و تبدیلی ضرور کی جاسکتی ہے تاکہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے!
آپ کا بچہ اپنے دوستوں کی برتھ ڈے پارٹیوں میں جاتا رہتا ہے تو اس کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے برتھ ڈے میں بھی اپنے دوستوں کو بلائے.... یہ ایک عملی دشواری یا مسئلہ ہے۔ اس لئے آپ اپنے بچوں کو سرے سے منع نہیں کرسکتے.... اور اتنی چھوٹی عمر میں مذہب کے فلسفے بھی ان کی سمجھ سے باہر ہیں۔ ایسی صورت میں بیچ کا کوئی راستہ تو نکالنا ہی ہوگا۔
آپ بچوں کو اپنی پارٹی سلیبریٹ کرنے دیں۔ اپنے دوستوں کے ساتھ موج مستی بھی کرنے دیں لیکن اس کے ساتھ کچھ اخلاقی اور اصلاحی پہلو کو بھی ملحوظ رکھا جائے تو یہ پارٹی آپ کے بچے کی دلجوئی اور تفریح کے ساتھ ساتھ تربیت کا بھی ایک اچھا ذریعہ بن جائےگی۔
یہ بھی پڑھئے: اچھا مہمان بننا بھی کسی ہنر سے کم نہیں
آپ کچھ ایسا پروگرام بنائیں کہ اس موقع پر آپ کے آس پاس کے غریب اور نادار بچوں کو بھی اس پارٹی کا کسی نہ کسی شکل میں حصہ بنائیں تاکہ بچوں کو ہر طرح کے لوگوں ساتھ مل کر اپنی خوشیاں بانٹنے کی ترغیب ملے۔
یا ایسا کریں کہیں آس پاس پکنک کا پروگرام بنائیں جس میں ان بچوں کو بھی شامل کریں۔
یا پھر ایسا بھی کریں کہ اس موقع پر اس برتھ ڈے بوائے یا گرل جو بھی ہو اس سے کچھ چھوٹے موٹے تحفے ان کے ہاتھوں سے تقسیم کروائیں۔
یا پھر ایسا کریں اس دن کسی اولڈ ایج ہوم میں جاکر بچوں کے ذریعے ان خوشیوں سے محروم بزرگوں میں تحفے تقسیم کروا کر دعائیں لیں۔
اس سے بچے کے اندر ایثار و قربانی اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے کا جذبہ بھی پروان چڑھے گا اور یقینی طور پر یہ عمل آپ کے لئے بھی کہیں نہ کہیں تسکین کا باعث ہوگا۔
زندگی کے مختلف رویوں کو لچیلا اور آسان بنائیں.... کیونکہ ہمارا دین بھی چند بنیادی مسئلوں کے علاوہ ہمیں میانہ روی اور رویے میں نرمی کی تلقین کرتا ہے۔