Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسکاٹ لینڈ: برطانوی فوج کا چھینا ہوا گرو گرنتھ صاحب کا ۳۰۰ سال پرانا نسخہ گلاسگو میں زیارت کیلئے پیش

Updated: July 01, 2026, 9:56 PM IST | Glasgow

گزشتہ سال نومبر میں، ایڈنبرا میں سکھ برادری نے ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا جہاں پورے اسکاٹ لینڈ سے عقیدت مند پہلی بار اس مقدس دستاویز کو دیکھنے کیلئے جمع ہوئے۔ اب اس نسخے کو گلاسگو کے مرکزی گردوارہ میں لایا گیا ہے، جہاں عقیدت مند اس کی زیارت کر سکتے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

سکھوں کی مقدس کتاب ”گرو گرنتھ صاحب“ کا ایک ۳۰۰ سال پرانا ہاتھ سے لکھا ہوا نسخہ اسکاٹ لینڈ لایا گیا ہے اور اب اسے گلاسگو کے مرکزی گردوارہ میں عقیدت مندوں کیلئے رکھا گیا ہے۔ یہ قلمی نسخہ کبھی سکھ سلطنت کے دوسرے حکمران مہاراجہ کھڑک سنگھ کی ملکیت تھا۔ مانا جاتا ہے کہ ۱۸۴۸ء میں پنجاب کے قلعہ ڈولے والا پر قبضے کے دوران برطانوی افواج نے اسے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: مقبوضہ فلسطینی میں جنگ بندی کے باوجودغیر یقینی صورتحال: اقوام متحدہ کا انتباہ

اسکاٹ لینڈ میں ہندوستان کے قونصلیٹ جنرل کے مطابق، بعد میں یہ نسخہ سر جان اسپینسر لاگن نے ایڈنبرا یونیورسٹی کے حوالے کر دیا تھا، یہ وہی انگریز اہلکار تھے جو کوہِ نور ہیرا سکھ سلطنت سے ملکہ وکٹوریہ کے پاس لے کر گئے تھے۔ گرو گرنتھ صاحب کا یہ نسخہ ۱۷۰ سال سے زائد عرصے تک یونیورسٹی کے آرکائیوز میں موجود رہا، یہاں تک کہ سکھ محققین نے ۲۰۲۵ء میں یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر تلاش کے دوران اس سے متعلق اندراجات دریافت کئے۔ اس دریافت کے بعد، اس نسخے کی بڑے پیمانے پر بحالی اور تحفظ کا کام کیا گیا۔

گزشتہ سال نومبر میں، ایڈنبرا میں سکھ برادری نے ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا جہاں پورے اسکاٹ لینڈ سے عقیدت مند پہلی بار اس مقدس دستاویز کو دیکھنے کیلئے جمع ہوئے۔ اب اس نسخے کو گلاسگو کے مرکزی گردوارہ میں رکھا گیا ہے، جہاں عقیدت مند اس کی زیارت کر سکتے ہیں۔ ہندوستانی قونصلیٹ نے ایکس پر لکھا کہ ان کی ٹیم نے ایڈنبرا اور گلاسگو کے گردوارہ نمائندوں کے ساتھ مل کر اس نسخے کو اسکاٹ لینڈ لانے میں حصہ لیا۔ انہوں نے اسے ”ہمارے مشترکہ ورثے کے تحفظ اور جشن کی جانب ایک بامنی قدم“ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: امن بورڈ کی پہلی حکمت عملی پر مبنی گاڑیاں بین الاقوامی فوجی اڈے پر پہنچی

سماجی تنظیم ’سکھ سنجوگ‘ کی منیجنگ ڈائریکٹر ترشنا سنگھ نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ اس نسخے کے ساتھ ان کا پہلا سامنا ”حیرت انگیز تجربہ“ تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے دادا دادی اور نانا نانی کے بارے میں سوچ کر افسردہ ہوئیں، جو ۱۹۳۰ء کی دہائی کے آخر سے گلاسگو میں رہ رہے تھے لیکن وہ کبھی نہ جان سکے کہ سکھ تاریخ کا یہ ٹکڑا قریب ہی واقع ایک یونیورسٹی میں رکھا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ”میں نے اپنے بزرگوں اور والدین کے بارے میں سوچا جو ۱۹۳۰ء کی دہائی کے آخر سے اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں مقیم تھے، وہ نہیں جانتے تھے کہ ہماری تاریخ کا یہ خوبصورت اور شاندار حصہ یہاں یونیورسٹی میں پڑا ہوا ہے۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK