Inquilab Logo Happiest Places to Work

سوشل میڈیا نے خواتین سے ان کی اصل پہچان چھین لی؟

Updated: July 02, 2026, 1:49 PM IST | Dr. Sharmeen Ansari | Mumbai

بے شک اس میڈیا کے کئی فوائد ہیں مگر نقصان بھی ہے مثلاً یہ کہ وہ دوسروں کی زندگی دکھا کر ہمیں اپنی زندگی سے غافل کرتا ہے۔ ہم دوسروں کی طرف زیادہ اور اپنی طرف کم دیکھنے لگتے ہیں، دوسروں کے سفر کو سراہتے ہیں لیکن اپنے سفر کی قدر کرنا بھول جاتے ہیں اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب خوشی ہمارے ہاتھوں سے پھسلنا شروع ہو جاتی ہے۔

Being influenced by the glamorous lives of others on social media robs us of the peace of our own lives. Photo: INN
سوشل میڈیا پر دوسروں کی پُرکشش زندگی سے متاثر ہونے سے اپنی زندگی کا سکون چھن جاتا ہے۔ تصویر: آئی این این

رات سونے سے پہلے اور صبح آنکھ کھلتے ہی آج کل ہم میں سے اکثر خواتین سب سے پہلے اپنے موبائل فون کی اسکرین دیکھتی ہیں۔ چند لمحوں میں ہمارے سامنے درجنوں چہرے آجاتے ہیں۔ کوئی اپنی خوشحال ازدواجی زندگی دکھا رہی ہے، کوئی اپنے خوبصورت گھر کی سجاوٹ، کوئی اپنی کامیاب کاروباری زندگی، کوئی اپنی بے عیب جلد، نفیس لباس اور پرتعیش طرزِ زندگی کی جھلکیاں پیش کر رہی ہے۔ ہم چند منٹوں میں نہ جانے کتنی زندگیاں دیکھ لیتے ہیں۔ پھر انجانے میں اپنے دل پر نظر ڈالتے ہیں اور ایک خاموش سا سوال جنم لیتا ہے: ’’آخر میری زندگی ایسی کیوں نہیں؟‘‘ یہ سوال بظاہر بہت معمولی لگتا ہے، لیکن یہی سوال آہستہ آہستہ انسان کی خوشی، اطمینان اور خود اعتمادی کو نگلنا شروع کر دیتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم دوسروں کو دیکھتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کی چمکتی ہوئی تصویروں کا موازنہ اپنی پوری زندگی سے کرنے لگتے ہیں۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں بہت سی خواتین اپنی اصل پہچان سے دور ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہیئر کلر کروانے کے بعد بال روکھے کیوں ہوجاتے ہیں؟

جب دوسروں کی زندگی ہماری خواہش بن جاتی ہے

انسان فطری طور پر سیکھتا بھی ہے اور متاثر بھی ہوتا ہے۔ کسی کامیاب خاتون کو دیکھ کر حوصلہ ملنا ایک اچھی بات ہے۔ کسی کی محنت، نظم و ضبط یا صلاحیت سے متاثر ہونا بھی مثبت عمل ہے۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب متاثر ہونا آہستہ آہستہ نقل میں بدل جاتا ہے۔ پھر ہم اپنی خواہشات بھی دوسروں سے مستعار لینے لگتے ہیں۔ ہمیں یہ سوچنے کی فرصت ہی نہیں ملتی کہ ہم خود کیا چاہتے ہیں۔ ہم صرف یہ دیکھتے ہیں کہ دوسروں کے پاس کیا ہے۔

سوشل میڈیا کا وہ کھیل جسے بہت کم لوگ سمجھتے ہیں

سوشل میڈیا زندگی کی مکمل تصویر نہیں دکھاتا۔ وہ صرف منتخب لمحات دکھاتا ہے۔ کامیابی نظر آتی ہے، جدوجہد نہیں۔ مسکراہٹ نظر آتی ہے، آنسو نہیں۔ خوبصورت تصویر نظر آتی ہے، اس تصویر کے پیچھے کی تھکن، پریشانی اور قربانیاں نہیں لیکن ہمارا دماغ اکثر یہ فرق بھول جاتا ہے۔ اسی لئے ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ مسلسل سوشل کمپریزن یعنی دوسروں سے موازنہ انسان کے ذہنی سکون کو متاثر کرتا ہے۔

سائنس کیا کہتی ہے؟

’سوشل کمپریزن تھیوری‘ کے مطابق انسان فطری طور پر اپنی حیثیت، خوبصورتی، کامیابی اور صلاحیتوں کا اندازہ دوسروں سے موازنہ کرکے لگاتا ہے۔ ماضی میں یہ موازنہ محدود تھا۔ آج ایک عام خاتون روزانہ سیکڑوں بلکہ ہزاروں لوگوں کی زندگیاں دیکھتی ہے۔ دماغ مسلسل پیغامات وصول کرتا ہے: ’وہ تم سے زیادہ خوبصورت ہے۔‘ ’وہ تم سے زیادہ کامیاب ہے۔‘ ’اس کا گھر تمہارے گھر سے بہتر ہے۔‘ ’اس کی زندگی تمہاری زندگی سے زیادہ دلچسپ ہے۔‘ اور آہستہ آہستہ یہ پیغامات خود اعتمادی کو کمزور کرنے لگتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اچھا مہمان بننا بھی کسی ہنر سے کم نہیں

ہر خوبصورت راستہ آپ کیلئے نہیں بنایا گیا

ہر انسان منفرد پیدا ہوا ہے۔ اگر باغ میں موجود تمام پھول گلاب بننے کی کوشش کریں تو باغ کی خوبصورتی ختم ہو جائیگی۔ چنبیلی کی خوشبو اپنی جگہ خوبصورت ہے۔ موتیے کی مہک اپنی جگہ قیمتی ہے۔ سورج مکھی کا حسن اپنی جگہ منفرد ہے۔ لیکن اگر وہ سب گلاب بننے کی کوشش کریں تو اپنی اصل خوبی کھو بیٹھیں گے۔ بالکل یہی غلطی آج بہت سی خواتین کر رہی ہیں۔ وہ اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے کے بجائے دوسروں کا تعاقب کر رہی ہیں۔

کامیابی نقل میں نہیں، شناخت میں چھپی ہوتی ہے

جدید نفسیات یہ بتاتی ہے کہ انسان سب سے زیادہ کامیاب اس وقت ہوتا ہے جب اس کے مقاصد اس کی شخصیت، مزاج اور فطری صلاحیتوں کے مطابق ہوں۔ جو خاتون لکھنے سے محبت کرتی ہے، ہوسکتا ہے اس کی کامیابی قلم میں ہو۔ جو لوگوں کی رہنمائی کرنا پسند کرتی ہے، اس کی کامیابی تدریس یا تربیت میں ہو۔ جو تخلیقی ذہن رکھتی ہے، اس کی منزل کسی اور میدان میں ہو۔ لیکن اگر ہم دوسروں کی چمک سے متاثر ہو کر اپنا راستہ بدلتے رہیں تو منزل دھندلی ہوتی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تنہائی ہماری ساتھی، ہمیں بہتر بنانے میں معاون مگر...

اپنی اصل پہچان کی طرف واپس لوٹئے

آپ کو دنیا کی کسی خاتون کی نقل بننے کی ضرورت نہیں۔ آپ کو صرف اپنا بہترین ورژن بننے کی ضرورت ہے۔ دوسروں سے سیکھئے، ان سے متاثر ہوں، ان کی اچھی باتیں اختیار کیجئے، لیکن اپنی شناخت کو ان کی شناخت میں گم مت کیجئے۔ کیونکہ ربِ کریم نے ہر انسان کو الگ صلاحیت، الگ مزاج اور الگ مقصد کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یاد رکھئے! زندگی کا حسن کسی اور جیسا بننے میں نہیں بلکہ اپنے اصل وجود کو پہچاننے میں ہے۔ لہٰذا آپ دوبارہ خود کو تلاش کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK