• Wed, 14 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

معصومیت، بناوٹ سے پاک انسان کی اصل پہچان

Updated: January 12, 2026, 4:03 PM IST | Taha Nallamandu | Mumbai

بیشک، آج کے اس پُرہنگام دور میں، جہاں ہر چہرہ کسی نہ کسی نقاب میں لپٹا ہوا ہے معصومیت ایک نایاب وصف بنتی جا رہی ہے۔ معصومیت کوئی وقتی جذبہ یا سیکھنے کی مشق نہیں، بلکہ یہ دل کی وہ خالص کیفیت ہے جو انسان کی فطرت میں ازل سے شامل ہوتی ہے۔

An innocent person does not change their style to impress someone. Photo: INN
معصوم انسان کسی کو متاثر کرنے کیلئے اپنا انداز نہیں بدلتا۔ تصویر: آئی این این

بیشک، آج کے اس پُرہنگام دور میں، جہاں ہر چہرہ کسی نہ کسی نقاب میں لپٹا ہوا ہے معصومیت ایک نایاب وصف بنتی جا رہی ہے۔ معصومیت کوئی وقتی جذبہ یا سیکھنے کی مشق نہیں، بلکہ یہ دل کی وہ خالص کیفیت ہے جو انسان کی فطرت میں ازل سے شامل ہوتی ہے۔ یہ وہ حسن ہے جو نہ بناوٹ مانگتا ہے اور نہ ہی دکھاوے کا سہارا لیتا ہے معاشرے نے رفتہ رفتہ سادگی کو کم فہمی اور معصومیت کو نادانی کے خانے میں رکھ دیا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ معصوم انسان سب سے زیادہ باشعور ہوتا ہے، کیونکہ وہ خود سے سمجھوتہ نہیں کرتا۔ وہ جیسا ہے، ویسا ہی رہنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ اسکی شخصیت مصنوعی رنگوں سے نہیں، بلکہ سچائی، خلوص اور سادگی سے نکھرتی ہے۔ اخلاقی زوال کے اس عہد میں، جہاں مفاد پرستی کو ذہانت کا نام دیا جاتا ہے، معصومیت ایک خاموش احتجاج ہے۔ یہ اعلان ہے اس بات کا کہ انسان اب بھی اپنی اصل پر قائم رہ سکتا ہے۔ سادہ اور بےساختہ ہونا آسان نہیں؛ اس کے لئے مضبوط کردار، صاف نیت اور دل کی سچائی درکار ہوتی ہے۔ معصوم انسان کسی کو متاثر کرنے کیلئے اپنا انداز نہیں بدلتا۔ اسے نہ تعریف کی بھوک ہوتی ہے اور نہ شہرت کی طلب۔ اسکے رویے میں ٹھہراؤ اور گفتار میں خلوص ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وقتی چمک دمک تو آنکھوں کو دھوکہ دے سکتی ہے مگر دل صرف سچ کو پہچانتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پیشہ ورانہ زندگی میں ٹائم مینجمنٹ کی اہمیت و افادیت

یہ ضروری نہیں کہ معصومیت ہر کسی کو پسند آئے، مگر جو دل سچائی کی قدر کرتا ہے، وہ اس وصف کی عظمت کو ضرور محسوس کرتا ہے۔ جو انسان آپ کو آپ کے اصل وجود کے ساتھ قبول کرے، وہی آپ کی سادگی میں دنیا کی سب سے خوبصورت حقیقت دیکھ سکتا ہے۔ آخر میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ معصومیت انسان کا وہ قیمتی سرمایہ ہے جو وقت کے ساتھ کم نہیں ہوتا، بلکہ مزید نکھر جاتا ہے۔ اگر معاشرہ اس وصف کو کمزوری سمجھنے کے بجائے طاقت تسلیم کر لے، تو بہت سی اخلاقی اور سماجی الجھنیں خود بخود سلجھ سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK