Inquilab Logo Happiest Places to Work

زینت ایڈوکیٹ ہیں، کئی ذمہ داریاں نبھاتی ہیں مگر روزہ ترک نہیں کرتیں

Updated: March 04, 2026, 3:40 PM IST | Saaima Shaikh | Mumbai

زینت ملانی بحیثیت ایڈوکیٹ کافی مشقت کرتی ہیں۔ کڑی دھوپ میں بھاگ دوڑ کرتی ہیں۔ کورٹ میں وقت پر پہنچنے کے لئے رکشا یا بس کے بجائے پیدل چلنے کو ترجیح دیتی ہیں کیونکہ عام طور پر ٹریفک کے سبب رکشا یا بس سے وقت پر پہنچنا ممکن نہیں ہوتا ہے۔

Advocate Zeenat Amir Malani. Photo: INN
ایڈوکیٹ زینت عامر ملانی۔ تصویر: آئی این این

ایڈوکیٹ زینت عامر ملانی تلوجہ میں رہتی ہیں۔ ممبئی کے تمام کورٹ میں پریکٹس کرتی ہیں۔ کورٹ کی بھاگ دوڑ، خانگی امور اور بیٹی کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ پابندی سے روزہ رکھتی ہیں۔ گزشتہ دنوں کا واقعہ بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’’کرلا ۱۲۰۰؍ سیشن میں ووٹنگ (وکلاء کی کمیٹی میں عہدے کے لئے) تھی جس میں مَیں نے حصہ لیا۔ اس کے بعد کورٹ کے دیگر معاملات نپٹا کر شام کے تقریباً چار بجے تلوجہ یعنی گھر کے لئے نکلی۔ طبیعت عجیب سی محسوس ہورہی تھی۔ گھر پہنچتے ہی چکرا کر گر گئی۔ آدھے گھنٹے تک مجھ پر بیہوشی طاری رہی۔ جب تھوڑی دیر میں حالت بہتر ہوئی تو سب سے پہلے عصر کی نماز ادا کی۔ اس کے بعد افطار تیار کیا اور روزہ کھولا۔ میرا روزہ مکمل ہوا اس بات کی مجھے خوشی تھی جس کے لئے مَیں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔‘‘ وہ کہتی ہیں کہ اس قسم کے واقعات کئی مرتبہ پیش آتے ہیں۔ انہیں کرلا اور سی ایس ٹی کورٹ میں جانا آنا پڑتا ہے اور کئی عدالتی امور سنبھالنے ہوتے ہیں۔ وہ گزشتہ رمضان میں پیش آئے واقعہ کی تفصیل بتاتی ہیں کہ ’’سی ایس ٹی کورٹ سے آتے ہوئے بس میں چکر آگیا اور مَیں گر گئی تھی۔ پھر کسی نے بیٹھنے کے لئے جگہ دی۔ ایک نے میری جانب پانی کی بوتل بڑھائی تو مَیں نے کہا روزے سے ہوں۔ بڑی مشقت کے بعد گھر پہنچی لیکن روزہ نہیں چھوڑا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: بچوں کی تربیت کے دوران ماؤں کا رویہ نہ تو سخت ہو نہ بہت زیادہ نرم

زینت ملانی بحیثیت ایڈوکیٹ کافی مشقت کرتی ہیں۔ کڑی دھوپ میں بھاگ دوڑ کرتی ہیں۔ کورٹ میں وقت پر پہنچنے کے لئے رکشا یا بس کے بجائے پیدل چلنے کو ترجیح دیتی ہیں کیونکہ عام طور پر ٹریفک کے سبب رکشا یا بس سے وقت پر پہنچنا ممکن نہیں ہوتا ہے۔ صبح ۱۱؍ سے شام پانچ تک کورٹ میں کام نپٹاتی ہیں۔ شام میں آفس میں کلائنٹ اٹینڈ کرتی ہیں۔ رمضان کے دنوں میں افطار بعد آفس پہنچتی ہیں اور دیر رات تک مؤکلوں کے معاملات سنتی ہیں۔ اگر اگلے دن شنوائی ہو تو بریفنگ میں دیر بھی ہوجاتی ہے مگر روزہ کبھی ترک نہیں کیا۔ وہ روزہ کے ساتھ ساتھ نماز پڑھتی ہیں، کلام پاک مکمل کرتی ہیں۔

رمضان کے احترام کے متعلق کہتی ہیں، ’’یہ ایک ہی مہینہ ہوتا ہے جس میں ہمیں اللہ کی رحمتوں سے فیض یاب ہونے کا موقع ملتا ہے، اسے کیسے ہاتھ سے جانے دوں۔ میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ روزہ اور عبادات کے ساتھ اپنے کام کے ساتھ پورا پورا انصاف کروں اور اللہ کا بڑا فضل ہے کہ وہ مجھے اس میں کامیاب بھی کرتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: سحری میں اِن غذاؤں کا استعمال دن بھر توانا رکھتا ہے

مشقت کے باوجود آپ کو روزہ رکھنے کا حوصلہ کیسے ملتا ہے؟ کا جواب دیتی ہوئی کہتی ہیں، ’’میری بیٹی آٹھویں جماعت میں زیر تعلیم ہے۔ وہ چار پانچ سال کی عمر سے پابندی سے روزہ رکھ رہی ہے۔ مجھے اسے دیکھ کر حوصلہ ملتا ہے۔ اسکول اور تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ وہ روزہ رکھ سکتی ہے تو مَیں کیوں نہیں؟ بس یہی سوچ مجھ میں جوش بھر دیتی ہے۔ اس کے علاوہ میں جب باہر ہوتی ہوں تو اپنے تمام مسلم ساتھیوں کو روزے کا اہتمام کرتے دیکھتی ہوں تو مجھ میں بھی روزہ رکھنے کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے۔ ہم اپنے ساتھ کھجور بھی ساتھ میں رکھتے ہیں تاکہ راستے میں افطار کا وقت ہوجائے تو روزہ کھول لیں۔ کئی مرتبہ ٹرین میں روزہ کھولتے ہیں۔ ربِ کریم سے دعا ہے کہ وہ ہمارے روزوں اور عبادتوں کو قبول فرمائے (آمین)۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK