Inquilab Logo Happiest Places to Work

خاتون گھر کی معیشت کی نگہبان اور بجٹ کی منتظم ہوتی ہے

Updated: August 10, 2026, 10:53 AM IST | Jasmine Shaukat | Mumbai

مہنگائی نے جہاں عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے، وہیں عورت کے حسنِ تدبر کا امتحان بھی لیا ہے۔ بازار جانے سے پہلے فہرست بنتی ہے، فہرست میں ترجیحات طے ہوتی ہیں اور پھر قیمتوں کا موازنہ کیا جاتا ہے۔ عورت بازار میں صرف خریدار بن کر نہیں جاتی، وہ ایک ماہر منتظم کی طرح ضرورت، معیار اور قیمت کے درمیان توازن قائم کرتی ہے۔

The woman, in addition to running her household frugally, also knows the art of hospitality. Picture: INN
عورت کفایت شعاری سے اپنا گھر چلانے کے ساتھ ساتھ مہمان نوازی کا ہنر بھی بخوبی جانتی ہے۔ تصویر: آئی این این
آسمان کو چھوتی قیمتیں، بڑھتے ہوئے اخراجات، محدود آمدنی اور روزمرہ کی ضروریات کی ایک طویل فہرست یہ سب مل کر زندگی کو ایک ایسے بھنور میں دھکیل دیتے ہیں جہاں ہر قدم پر حساب کتاب درکار ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی شخصیت خاموشی سے گھر کی کشتی کو ڈوبنے سے بچاتی، اخراجات کی لہروں کو قابو میں رکھتی اور محدود وسائل میں بھی زندگی کو خوشحالی کا احساس بخشتی ہے تو وہ گھر کی عورت ہے۔ عورت بظاہر گھر کے کچن میں کھڑی ہوتی ہے، مگر حقیقت میں وہ گھر کی پوری معیشت کا نظم سنبھال رہی ہوتی ہے۔ اس کے ہاتھ میں صرف چمچہ اور کفگیر نہیں ہوتے، بلکہ پورے گھر کے بجٹ کی باگ ڈور بھی ہوتی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ مہینے کی آمدنی کتنی ہے، ضروریات کیا ہیں، کہاں خرچ کرنا ہے اور کہاں خواہش کو کچھ دنوں کیلئے مؤخر کر دینا ہے۔ وہ حساب کی کسی کتاب میں شاید اعداد و شمار نہ لکھے، لیکن اس کے ذہن میں گھر کا پورا بجٹ محفوظ ہوتا ہے۔
گھر کی معیشت میں سب سے اہم کردار کفایت شعاری کا ہے، اور یہ ہنر عورت سے بہتر شاید ہی کوئی جانتا ہو۔ وہ بچی ہوئی روٹی سے نیا ناشتہ بنا سکتی ہے، معمولی سبزی کو ذائقے دار سالن میں بدل سکتی ہے اور کم وسائل میں بھی دسترخوان کو کشادہ رکھ سکتی ہے۔ اس کیلئے کفایت شعاری محض پیسے بچانے کا نام نہیں، بلکہ وسائل کی قدر کرنے کا ایک فن ہے۔
 
 
ایک سمجھدار عورت یہ بھی جانتی ہے کہ بچت صرف پیسے رکھنے کا نام نہیں، بلکہ غیر ضروری خرچ سے بچنے کا نام بھی ہے۔ وہ بچوں کو سمجھاتی ہے کہ ہر خواہش فوراً پوری ہونا ضروری نہیں۔ وہ خریداری میں نمود و نمائش کے بجائے ضرورت کو ترجیح دیتی ہے۔ کپڑے ہوں یا برتن، راشن ہو یا گھریلو سامان، وہ استعمال، معیار اور قیمت کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتی ہے۔ یوں وہ خاموشی سے گھر کے بجٹ پر پڑنے والے اضافی بوجھ کو کم کرتی رہتی ہے۔ عورت کی ذمہ داری صرف اخراجات کم کرنے تک محدود نہیں۔ وہ گھر کے افراد کی ضروریات، بچوں کی تعلیم، علاج معالجے، مہمان داری اور مستقبل کی چھوٹی بڑی ضرورتوں کو بھی اپنے حساب میں شامل رکھتی ہے۔ کبھی وہ اپنی خواہش کو پس ِ پشت ڈال کر بچوں کی ضرورت پوری کرتی ہے۔ اس کی قربانی اکثر نظر نہیں آتی، اس کا حساب کسی رجسٹر میں درج نہیں ہوتا، مگر گھر کی خوشحالی میں اس کا حصہ سب سے نمایاں ہوتا ہے۔
مہنگائی کے اس دور میں عورت کا کچن دراصل ایک چھوٹی سی معیشت بن چکا ہے۔ وہاں ہر چیز کا حساب ہے؛ آٹے کی مقدار سے لے کر تیل کے استعمال تک، سبزی کے انتخاب سے لے کر ہفتہ وار راشن تک۔ وہ جانتی ہے کہ اگر آج تھوڑی سی بچت کر لی جائے تو کل کسی اچانک ضرورت کے وقت پریشانی کم ہو سکتی ہے۔ اسی لئے وہ گھر کی ضروریات کو موسم، آمدنی اور حالات کے مطابق ڈھالتی رہتی ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ گھر چلانا صرف پیسوں کا کھیل نہیں، بلکہ تدبیر، صبر اور تعاون کا تقاضا بھی کرتا ہے۔ اگر گھر کے تمام افراد کفایت شعاری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو محدود آمدنی بھی بہت سی ضروریات پوری کرسکتی ہے۔ عورت اس عمل کی رہنما بن سکتی ہے، مگر گھر کی معاشی ذمہ داری صرف اسی کے کندھوں پر ڈال دینا بھی مناسب نہیں۔ سبھی گھر والے اگر فضول خرچی سے بچیں، ضروریات اور خواہشات میں فرق سمجھیں اور آمدنی کے مطابق زندگی گزاریں تو مہنگائی کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
 
 
عورت کی عظمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ مشکل حالات میں بھی گھر کے ماحول کو بوجھل نہیں ہونے دیتی۔ وہ کم میں خوش رہنے کا ہنر جانتی ہے اور دوسروں کو بھی یہ سکھاتی ہے کہ خوشی کا تعلق ہمیشہ مہنگی چیزوں سے نہیں ہوتا۔ کبھی سادہ سا کھانا بھی محبت کیساتھ پیش کیا جائے تو وہ کسی شاہی ضیافت سے کم محسوس نہیں ہوتا۔ کبھی گھر کے افراد مل بیٹھ کر چائے پی لیں تو وہ لمحہ کسی مہنگے ریسٹورنٹ کی میز سے زیادہ قیمتی بن جاتا ہے۔ عورت اپنی محبت اور سلیقے سے محدود وسائل میں بھی زندگی کو خوبصورت بنا دیتی ہے۔
عورت صرف گھر کی دیکھ بھال کرنے والی نہیں، بلکہ گھر کی معیشت کی نگہبان، بجٹ کی منتظم اور مشکل وقت میں خاندان کی مضبوط سہارا ہے۔ اس کے حسنِ تدبر نے نہ جانے کتنے گھروں کو معاشی بحران سے بچایا ہے اور نہ جانے کتنی خواہشوں کو قربان کرکے گھر کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کیا ہے۔
 
 
حقیقت تو یہ ہے کہ مہنگائی کے بھنور میں گھر کی کشتی صرف آمدنی کے سہارے نہیں چلتی؛ اسے تدبیر، کفایت، صبر اور سمجھداری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اس سفر میں عورت اکثر وہ خاموش ملاح ہوتی ہے جو طوفان کا شور سنے بغیر کشتی کو کنارے تک لے جاتی ہے۔ اس کے ہاتھ میں گھر کا کچن ہو تو وہ محدود وسائل میں بھی دسترخوان سجا دیتی ہے، اس کے ذہن میں بجٹ ہو تو وہ آمدنی کو ضرورتوں میں تقسیم کر دیتی ہے، اور اس کے دل میں محبت ہو تو وہ کم وسائل میں بھی گھر کو خوشیوں سے آباد رکھتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ مہنگائی کے بھنور میں عورت کی تدبیر ہی وہ چراغ ہے جو محدود وسائل کے اندھیرے میں گھر کی راہ روشن رکھتا ہے۔
(مضمون نگار رابعہ گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج بھیونڈی، کی سپروائزر ہیں)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK