بدلتے زمانے کے ساتھ خواتین ِ خانہ کو کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جنہیں وہ خوش اسلوبی سے انجام دے رہی ہیں۔ لیکن ان سب چکر میں وہ اپنی ذات کو فراموش کر دیتی ہیں۔ ان کے غیر معمولی کاموں کو ’روزانہ کا معمول‘ سمجھ لیا جاتا ہے۔ اس سوچ کو بدلنا ہوگا اور سب سے پہلے انہیں خود اپنی اہمیت سمجھنی ہوگی۔
گھریلو امور ہوں یا مہمانوں کی ضیافت یا بچوں کی تربیت، خواتین ِ خانہ ہر معاملے میں مثالی کردار ادا کرتی ہیں۔ تصویر: آئی این این
کسی بھی معاشرے کی مضبوطی کا انحصار صرف اس کی معیشت، سیاست یا جدید ٹیکنالوجی پر نہیں ہوتا بلکہ اس کی اصل طاقت مضبوط خاندان ہوتے ہیں، اور ہر مضبوط خاندان کی بنیاد ایک ایسی خاتونِ خانہ پر استوار ہوتی ہے جو خاموشی نہیں بلکہ بے لوث محبت، ایثار، صبر اور مسلسل محنت کے ذریعے اپنے گھر کو سنوارتی ہے۔ وہ بیک وقت ماں، بیوی، بیٹی، بہو، معلمہ، منتظم، مشیر اور تربیت کار کے کردار ادا کرتی ہے۔ اس کی ذمہ داریاں طلوعِ آفتاب سے پہلے شروع ہوتی ہیں اور اکثر رات گئے تک جاری رہتی ہیں، لیکن اس کی خدمات کو معاشرے میں وہ مقام نہیں مل پاتا جس کی وہ حقدار ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مائیکروویو میں کھانا گرم کرنے کیلئے کون سا کنٹینر استعمال کرنا چاہئے؟
اکیسویں صدی میں معاشرہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ ان تبدیلیوں کے اثرات سب سے زیادہ خاتونِ خانہ کی زندگی پر مرتب ہو رہے ہیں۔ وہ ایک طرف روایتی گھریلو ذمہ داریاں نبھا رہی ہے تو دوسری طرف بدلتے دور کے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ رہنے کی کوشش کر رہی ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، بچوں کی تعلیم، علاج، بجلی، پانی اور دیگر اخراجات نے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں خاتونِ خانہ محدود وسائل کے باوجود گھر کا نظام برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کرتی ہے۔ آج کی خاتونِ خانہ کا ایک بڑا چیلنج بچوں کی تربیت بھی ہے۔ پہلے بچوں کی دلچسپی کھیل کے میدان، کتابوں اور اجتماعی سرگرمیوں میں ہوتی تھی، لیکن اب موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے ان کی دنیا بدل دی ہے۔ والدین، خصوصاً مائیں، مسلسل اس فکر میں رہتی ہیں کہ بچوں کو ٹیکنالوجی کے فوائد بھی ملیں اور وہ اس کے منفی اثرات سے بھی محفوظ رہیں۔ یہ توازن قائم رکھنا آسان نہیں، کیونکہ ایک طرف تعلیمی تقاضے ہیں تو دوسری طرف ڈجیٹل دنیا کی کشش۔
بدلتے ہوئے خاندانی نظام نے بھی خاتونِ خانہ کے مسائل میں اضافہ کیا ہے۔ مشترکہ خاندانوں کی جگہ چھوٹے خاندانوں نے لے لی ہے جس کے باعث گھریلو ذمہ داریوں کا سارا بوجھ اکثر ایک ہی خاتون پر آ جاتا ہے۔ بچوں کی دیکھ بھال، بزرگوں کی خدمت، مہمان نوازی، تعلیم، صحت اور گھریلو انتظام—یہ سب ذمہ داریاں وہ تنہا نبھاتی ہے۔ اس کے باوجود اس کی محنت کو عموماً ’گھر کا معمول‘ کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
مسلسل ذمہ داریاں، آرام کی کمی، جذباتی دباؤ، تنہائی، معاشی پریشانیاں اور اپنی ذات کیلئے وقت نہ ملنا بہت سی خواتین کو ذہنی تھکن کا شکار بنا دیتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ اکثر خواتین اپنی کیفیت کا اظہار بھی نہیں کر پاتیں کیونکہ انہیں یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ یہ سب ان کے فرائض کا حصہ ہے۔ حالانکہ ایک خوشحال خاندان کیلئے خاتونِ خانہ کی ذہنی آسودگی بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی اس کی جسمانی صحت۔
یہ بھی پڑھئے: باورچی خانہ گھر کا خاص حصّہ؛ دیکھ ریکھ بھی خاص ہو
ایک اور قابلِ توجہ مسئلہ گھریلو کاموں کی غیر مساوی تقسیم ہے۔ اگر گھر کے تمام افراد اپنی استطاعت کے مطابق ذمہ داریوں میں ہاتھ بٹائیں تو نہ صرف خاتونِ خانہ کا بوجھ کم ہوگا بلکہ بچوں میں تعاون، احترام اور ذمہ داری کا شعور بھی پیدا ہوگا۔ اسلامی تعلیمات بھی باہمی تعاون، حسنِ سلوک اور گھر کے افراد کے ساتھ شفقت کی تلقین کرتی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ خواتین کو تعلیم، ہنر اور ذاتی ترقی کے مواقع بھی فراہم کئے جائیں۔ بہت سی خواتین اپنی گھریلو ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے بھی مطالعہ، آن لائن تعلیم، گھریلو صنعت، دستکاری یا دیگر مثبت سرگرمیوں کے ذریعے نہ صرف اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکتی ہیں بلکہ خاندان کی معاشی مدد بھی کر سکتی ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ اور بااعتماد خاتون پورے خاندان کی فکری و اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ہمیں اپنے معاشرے میں یہ سوچ بھی تبدیل کرنی ہوگی کہ صرف گھر سے باہر کام کرنے والا فرد ہی معاشی یا سماجی ترقی میں حصہ ڈال رہا ہے۔ گھر سنبھالنے والی خاتون بھی ایک مکمل منتظم، تربیت کار اور خدمت گزار ہے، جس کی محنت کی معاشی قدر کا اندازہ لگایا جائے تو اس کی اہمیت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ اس کی خدمات کا اعتراف، اس کے فیصلوں کا احترام اور اس کے جذبات کا خیال رکھنا ہر خاندان کی ذمہ داری ہے۔ لہٰذا خاتونِ خانہ کو صرف ذمہ داریوں کا محور نہ سمجھیں بلکہ اسے عزت، اعتماد، محبت اور تعاون فراہم کریں۔ اس کی رائے کو اہمیت دیں، اس کی محنت کو سراہیں، اسے اپنی ذات کیلئے وقت نکالنے کا موقع دیں اور گھر کو ایک مشترکہ ذمہ داری کے طور پر دیکھیں۔ یہی رویہ مضبوط خاندانوں اور صحتمند معاشرے کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بارش کے موسم میں اِن اشیاء سے پرہیز کرنا چاہئے
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ خاتونِ خانہ کی بے لوث خدمات دراصل ایک روشن معاشرہ کی تعمیر کی جدوجہد ہے۔ وہ نسلوں کی تربیت کرتی ہے، اقدار کو زندہ رکھتی ہے اور محبت و ایثار کا چراغ روشن رکھتی ہے۔ اگر ہم واقعی ایک مہذب، ترقی یافتہ اور خوشحال معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اس عظیم کردار کو صرف الفاظ میں نہیں بلکہ اپنے رویوں، فیصلوں اور اجتماعی سوچ میں بھی وہ مقام دینا ہوگا جس کی وہ حقیقی معنوں میں مستحق ہے۔