سب سے بڑا دکھ یہی ہے کہ زندگی بھر جس ہستی کے پاس لوٹ کر آتے رہے، ایک دن وہی ہستی ایسی جگہ چلی جاتی ہے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا اور یہ غم زندگی بھر ساتھ رہتا ہے۔
EPAPER
Updated: October 15, 2026, 4:43 PM IST | Dr. Sharmeen Ansari | Mumbai
سب سے بڑا دکھ یہی ہے کہ زندگی بھر جس ہستی کے پاس لوٹ کر آتے رہے، ایک دن وہی ہستی ایسی جگہ چلی جاتی ہے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا اور یہ غم زندگی بھر ساتھ رہتا ہے۔
ماں کے مرنے کی خبر انسان سنتا ہے، مگر اسے ماننے میں بہت وقت لگتا ہے۔ دل بار بار یہی کہتا ہے کہ یہ حقیقت نہیں ہوسکتی۔ ابھی دروازہ کھلے گا، ماں آواز دے گی، پوچھے گی: ’’بیٹا، کھانا کھایا؟‘‘ اور زندگی پھر پہلے جیسی ہوجائے گی۔ مگر دروازہ نہیں کھلتا۔ آواز نہیں آتی۔ اور پھر انسان کو پہلی بار احساس ہوتا ہے کہ زندگی میں کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جن کی قدر ہمیں ان کے ہمیشہ کے لئے خاموش ہوجانے کے بعد معلوم ہوتی ہے۔
ماں کے جانے کے بعد گھر وہی رہتا ہے۔ وہی دیواریں، وہی کمرے، وہی برتن، وہی پردے، وہی بستر.... مگر گھر سے جیسے روح نکل جاتی ہے۔ اس کی کرسی خالی ہوتی ہے، مگر نظریں بار بار وہیں جاتی ہیں۔ اس کی الماری کھولتے ہوئے ہاتھ ٹھٹک جاتے ہیں۔ اس کا دوپٹہ مل جائے تو اسے سینے سے لگانے کو جی چاہتا ہے، جیسے کپڑے میں ابھی تک ماں کی آغوش باقی ہو۔
یہ بھی پڑھئے: اپنی ذات کو مسلسل نظرانداز کرنا قربانی نہیں
کبھی دل میں کوئی بات آتی ہے اور بے اختیار خیال آتا ہے، ’’یہ بات ماں کو بتاؤں گی!‘‘ پھر اچانک حقیقت سامنے آجاتی ہے۔ ماں نہیں ہے۔ یہ دو لفظ انسان کے اندر کتنی بڑی خاموشی پیدا کردیتے ہیں، اسے صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس نے اپنی ماں کو کھویا ہو۔ ماں کے ہوتے ہوئے ہم کتنے بے فکر ہوتے ہیں۔ اس کی بار بار کی نصیحت کبھی بوجھ لگتی ہے، اس کا بار بار فون کرنا مداخلت محسوس ہوتا۔ ہم کہتے ہیں، ’’ابھی مصروف ہوں، بعد میں بات کرتی ہوں۔‘‘ ہمیں کیا معلوم تھا کہ ایک دن یہی ’’بعد میں‘‘ ہماری زندگی کا سب سے بڑا پچھتاوا بن جائیگا۔ پھر انسان سوچتا ہے....
کاش اس دن ماں کی بات سن لی ہوتی۔
کاش اس کے پاس کچھ دیر اور بیٹھ گئی ہوتی۔
کاش اس کا ہاتھ کچھ دیر اور تھام لیا ہوتا۔
کاش جاتے ہوئے اسے ایک بار اور گلے لگا لیا ہوتا۔ مگر موت کے بعد ’’کاش‘‘ بہت ہوتے ہیں، موقع ایک بھی نہیں ہوتا۔
ماں کے جانے کے بعد خوشیاں بھی ادھوری لگتی ہیں۔ کوئی کامیابی ملے تو دل چاہتا ہے سب سے پہلے ماں کو بتائیں۔ عید آئے تو اس کے ہاتھ کا کھانا یاد آتا ہے۔ بیماری میں دوا سے پہلے اس کی دعا یاد آتی ہے۔ کوئی پریشانی ہو تو دل بے اختیار اسی ہستی کو تلاش کرتا ہے جس کے سامنے رونے کے لئے کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہوتی۔
دنیا میں بہت سے لوگ ہماری بات سن سکتے ہیں، مگر ماں وہ ہوتی ہے جو ہماری خاموشی بھی پڑھ لیتی ہے۔ اسی لئے ماں کے جانے کے بعد تنہائی صرف گھر میں نہیں اترتی، انسان کے اندر اترتی ہے۔ وقت گزرتا ہے۔ آنسو کم ہوجاتے ہیں۔ انسان دوبارہ ہنسنے لگتا ہے، اپنے فرائض ادا کرتا ہے، لوگوں سے ملتا ہے، زندگی کی دوڑ میں واپس شامل ہوجاتا ہے۔ دنیا سمجھتی ہے کہ غم ختم ہوگیا۔ مگر ماں کا غم ختم نہیں ہوتا۔ انسان صرف یہ سیکھ لیتا ہے کہ اس غم کو دل میں لئے ہوئے کیسے جینا ہے۔ کبھی کسی خوشبو سے، کسی پرانی چیز سے، کسی جملے سے، کسی دعا سے یا اچانک کسی خاموش شام میں ماں یاد آجاتی ہے۔ آنکھیں بھیگ جاتی ہیں اور دل بے اختیار کہہ اُٹھتا ہے، ’’امی! آپ ہوتی تو آج یہ بات آپ کو ضرور بتاتی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ناشتے میں اِن غذاؤں کا استعمال نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے
ماں کے بعد انسان کو اپنی زندگی کی وہ تمام چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی قیمتی لگنے لگتی ہیں جنہیں وہ کبھی معمول سمجھتا تھا۔ اس کی آواز، اس کے ہاتھ کی خوشبو، اس کا نماز کے بعد دیر تک دعا مانگنا، گھر میں اس کا چلنا، کسی کام کیلئے آواز دینا.... حتیٰ کہ اس کی ڈانٹ بھی۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ ماں کی ڈانٹ بھی محبت کی ایک شکل تھی۔
اور پھر ایک دن انسان ماں کی چیزوں کو سمیٹتے ہوئے رک جاتا ہے۔ ایک پرانی چادر ہاتھ میں آتی ہے، آنکھوں کے سامنے ماں کا چہرہ آجاتا ہے۔ کوئی پرانا خط ملتا ہے تو انگلیاں کانپنے لگتی ہیں۔ الماری بند کرتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ماں کو دوسری بار بند کر رہے ہوں۔ تب دل سے ایک آہ نکلتی ہے، ’’ماں! تمہیں چیزوں میں کیسے ڈھونڈوں؟ تم تو میری پوری زندگی میں بکھری ہوئی ہو۔‘‘
ماں کے جانے کے بعد انسان کو یہ حقیقت بھی سمجھ آتی ہے کہ ماں صرف ایک رشتہ نہیں تھی؛ وہ دعا تھی، سایہ تھی، حوصلہ تھی، گھر کی رونق تھی اور ہماری بیشمار خاموش دعاؤں کی قبولیت کا وسیلہ تھی۔
اسی لئے جن کے سروں پر آج بھی ماں کا سایہ ہے، وہ اس نعمت کی قدر کریں۔
اس کے پاس بیٹھیں۔
اس کی بات سنیں۔
اس کے ہاتھ چومیں۔
اسے گلے لگائیں۔
اسے یہ نہ کہیں کہ ’’بعد میں بات کریں گے‘‘، کیونکہ زندگی میں ہر ’’بعد میں‘‘ نصیب نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھئے: موازنہ کی عادت زندگی کا سکون چھین لیتی ہے
واقعی! ماں کے جانے کے بعد انسان کے پاس دنیا کی ہر چیز رہ سکتی ہے، مگر دل کی وہ جگہ ہمیشہ خالی رہتی ہے جہاں صرف ماں کا حق تھا۔ لوگ کہتے ہیں وقت ہر زخم بھر دیتا ہے۔ مگر ماں کا زخم نہیں بھرتا۔ بس آنکھیں رونا چھوڑ دیتی ہیں، اور انسان مسکرانا سیکھ لیتا ہے۔ دل کے اندر مگر ایک جگہ ہمیشہ خالی رہتی ہے۔ وہ جگہ کسی اور کے لئے نہیں ہوتی۔ وہ جگہ صرف ماں کی ہوتی ہے۔