آئیے، سرما کی تعطیلات کو بچوں کیلئے خوشی اور تفریح کے ساتھ ساتھ علم، تربیت، ذمہ داری اور انسان دوستی کا پیغام بنائیں، تاکہ آج کی ہماری چھوٹی چھوٹی کوششیں کل ایک روشن، مہذب اور باشعور معاشرے کی بنیاد بن سکیں۔
EPAPER
Updated: October 29, 2026, 3:58 PM IST | Dr. Asma binte Rahmatullah | Mumbai
آئیے، سرما کی تعطیلات کو بچوں کیلئے خوشی اور تفریح کے ساتھ ساتھ علم، تربیت، ذمہ داری اور انسان دوستی کا پیغام بنائیں، تاکہ آج کی ہماری چھوٹی چھوٹی کوششیں کل ایک روشن، مہذب اور باشعور معاشرے کی بنیاد بن سکیں۔
تعطیلات: تربیت کا سنہرا موقع
تعطیلات کا مقصد صرف آرام اور تفریح نہیں بلکہ بچوں کی صلاحیتوں کو نکھارنا، ان میں مثبت عادات پیدا کرنا اور ان کی شخصیت کو بہتر بنانا بھی ہے۔ مائیں بچوں کیلئے ایسا معمول ترتیب دیں جس میں مطالعہ، کھیل، آرام، تخلیقی سرگرمیاں اور خاندانی وقت کو مناسب جگہ حاصل ہو۔ بچوں کو روزانہ کچھ وقت کتابیں پڑھنے، لکھنے، ریاضی کی مشق کرنے اور نئی معلومات حاصل کرنے کیلئے دینا چاہئے۔ اُردو، ہندی، مراٹھی اور انگریزی کی دلچسپ سرگرمیاں بچوں کی لسانی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ تعطیلات بچوں میں مطالعے کی عادت پیدا کرنے کا بھی بہترین موقع ہیں۔ مائیں بچوں کو عمر کے مطابق کہانیاں، معلوماتی کتابیں اور سوانحی مضامین پڑھنے کی ترغیب دیں اور مطالعے کے بعد انہیں اپنی رائے پیش کرنے کا موقع دیں۔
ماں: بچے کی پہلی درس گاہ
ماں کا کردار محض پرورش تک محدود نہیں بلکہ وہ بچہ کی رہنما، مشیر اور شخصیت ساز بھی ہوتی ہے۔ ماں کے الفاظ، رویے، عادات اور طرزِ زندگی بچوں کے ذہن پر گہرے نقوش مرتب کرتے ہیں۔ اگر گھر میں سچائی، محبت، احترام، نظم و ضبط اور باہمی تعاون کا ماحول ہو تو بچے بھی ان خوبیوں کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بچوں کی تربیت صرف نصیحتوں سے نہیں ہوتی، بلکہ عملی مثالوں سے ہوتی ہے۔ اگر ماں وقت کی پابندی کرتی ہے، دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آتی ہے اور اپنی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے نبھاتی ہے تو بچہ بھی ان عادات سے سیکھتا ہے۔ اس لئے مائیں بچوں کے سامنے اپنے عمل سے ایسی مثالیں قائم کریں جو ان کی شخصیت کو مثبت سمت عطا کریں۔ اِن چھٹیوں کو بہترین موقع جان کر بچوں کی تربیت پر خاص توجہ دیں۔
یہ بھی پڑھئے: یہ تدابیر بچوں کو صحت بخش کھانوں سے رغبت دلا سکتی ہیں
اخلاقی تربیت کی اہمیت
تعلیم کا مقصد صرف امتحانات میں اچھے نمبر حاصل کرنا نہیں بلکہ بچوں کو ایک بااخلاق، ذمہ دار اور حساس انسان بنانا بھی ہے۔ سچ بولنا، بڑوں کا احترام کرنا، چھوٹوں سے محبّت کرنا، وعدہ پورا کرنا، اپنی غلطی تسلیم کرنا اور ضرورتمندوں کی مدد کرنا ایسی خوبیاں ہیں جو بچوں کی شخصیت کو مضبوط بناتی ہیں۔ تعطیلات میں مائیں روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات کے ذریعے بچوں کی اخلاقی تربیت کرسکتی ہیں۔ اگر بچہ اپنی غلطی تسلیم کرے تو اس کی حوصلہ افزائی کی جائے اور اگر وہ کسی کی مدد کرے تو اس کے جذبے کو سراہا جائے۔ بچوں کو یہ بھی سکھایا جائے کہ کسی کی زبان، لباس، مذہب یا معاشی حیثیت کی بنیاد پر اس کا مذاق اڑانا درست نہیں۔ اختلافِ رائے کے باوجود دوسروں کا احترام کرنا ایک مہذب معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔
ڈجیٹل دُنیا: سہولت بھی، آزمائش بھی
موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا بچوں کی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ ان ذرائع سے بچے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں لیکن ان کا غیر ضروری استعمال ان کی نیند، توجہ، مطالعے اور سماجی تعلقات کو متاثر کرسکتا ہے۔ تعطیلات میں بچوں کے پاس فارغ وقت زیادہ ہونے کی وجہ سے اسکرین کے سامنے گزارے جانے والے وقت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔اس لئے بچوں کے موبائل فون کے استعمال کیلئے مناسب حدود مقرر کریں اور انہیں تعلیمی ویڈیوز، معلوماتی پروگراموں، مطالعے اور تخلیقی سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔ بچوں کو یہ سمجھانا بھی ضروری ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود ہر معلومات درست نہیں ہوتی۔ انہیں ذاتی معلومات کی حفاظت، نامناسب مواد سے بچاؤ اور آن لائن اجنبی افراد کے ساتھ محتاط رویّہ اختیار کرنے کی تعلیم دی جائے۔
دیوالی، تہذیبی شعور اور باہمی ہم آہنگی
ہندوستان مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کا گہوارہ ہے۔ یہاں ہر تہوار اپنی مخصوص روایات اور ثقافتی اہمیت رکھتا ہے۔ دیوالی کی تعطیلات کے دوران مائیں بچوں کو تہواروں کے سماجی پہلوؤں، خاندانی میل جول اور باہمی احترام کی اہمیت سے آگاہ کرسکتی ہیں۔بچوں میں دوسرے مذاہب اور ثقافتوں کے احترام، رواداری اور امن و ہم آہنگی کا جذبہ پیدا کرنا ضروری ہے۔ ساتھ ہی انہیں اپنی مذہبی شناخت، خاندانی اقدار اور تہذیبی روایات سے بھی واقف کرانا چاہئے۔ بچوں کو یہ سکھانا چاہئے کہ اپنے عقائد پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا ایک اچھے انسان اور ذمہ دار شہری کی علامت ہے۔ دیوالی کے موقع پر پٹاخوں سے پیدا ہونے والے دھوئیں، چنگاری، شور اور حادثات کے خطرات سے بھی بچوں کو آگاہ کیا جائے۔
صحت، کھیل اور تخلیقی سرگرمیوں کی اہمیت
بچوں کی مکمل نشوونما کیلئے جسمانی صحت و ذہنی سکون بھی ضروری ہیں۔ چھٹیوں کے دوران ان کی نیند، متوازن غذا، صفائی اور جسمانی سرگرمیوں کا خیال رکھنا چاہئے۔ بچوں کو کھیل کود، چہل قدمی اور محفوظ جسمانی سرگرمیوں کیلئے مناسب وقت دیا جائے۔ ساتھ ہی مصوری، کہانی نویسی، باغبانی، دستکاری، پہیلیاں حل کرنے اور سائنس کے آسان تجربات جیسی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ ہر بچے میں کوئی نہ کوئی صلاحیت پوشیدہ ہوتی ہے۔ ماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان صلاحیتوں کو پہچانیں اور بچوں کو انہیں نکھارنے کے مواقع فراہم کریں۔ بچوں کی کامیابی کا موازنہ دوسروں سے کرنے کے بجائے ان کی اپنی پیش رفت کو اہمیت دینی چاہئے۔ حوصلہ افزائی اور مثبت رہنمائی سے بچوں میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور وہ نئی چیزیں سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: عورت کے اندر ایک پوری دُنیا، پوری کائنات ہوتی ہے
گھریلو ذمہ داریاں اور خود انحصاری
تعطیلات بچوں کو عملی زندگی کی تربیت دینے کا بھی اچھا موقع ہیں۔ مائیں بچوں کو اپنی کتابیں ترتیب دینے، کھلونے سمیٹنے، اپنا بستر ٹھیک کرنے، پودوں کو پانی دینےاور گھر کے چھوٹے کاموں جیسے کہ کھانے کی میز سجانے، پانی کی بوتلیں بھرنے، کچرا کوڑے دان میں پھینکنے وغیرہ انجام دینے کی ترغیب دے سکتی ہیں۔ اس سے ان میں خود انحصاری، نظم و ضبط اور ذمہ داری کا احساس پیدا ہوگا۔ یہ ذمہ داریاں صرف لڑکیوں تک محدود نہیں ہونی چاہئیں۔ لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کو گھر کے کاموں میں حصہ لینے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے یکساں مواقع ملنے چاہئیں۔ گھر کی ذمہ داریاں خاندان کے تمام افراد کی مشترکہ ذمہ داری ہیں۔ بچوں کو یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ گھر میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹانا محبّت، احترام اور تعاون کی علامت ہے۔
ماں کی محبّت اور بچے کی جذباتی ضروریات
بچے کو صرف کتابیں، کھلونے اور اچھی سہولتیں درکار نہیں ہوتیں بلکہ اسے محبت، توجہ، حوصلہ افزائی اور تحفظ کا احساس بھی چاہئے۔ اکثر والدین مصروفیات کے باعث بچوں کی بات سننے اور ان کے احساسات سمجھنے کیلئے وقت نہیں نکال پاتے۔تعطیلات میں کچھ وقت صرف ان کے لئے مختص کریں۔ ان کی باتیں سنیں، ان کے سوالات کے جواب دیں، ان کی پریشانیوں کو سمجھیں اور ان کے خوابوں کے بارے میں گفتگو کریں۔ بچوں کی غلطیوں پر سخت تنقید کرنے یا دوسروں سے موازنہ کرنے کے بجائے نرمی سے اصلاح کی جائے۔بچے کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ وہ اپنی کامیابی کے ساتھ اپنی ناکامی اور پریشانی بھی والدین کے سامنے بیان کرسکتا ہے۔ گھر کا ایسا ماحول بچوں میں اعتماد پیدا کرتا ہے اور انہیں زندگی کے مسائل کا سامنا کرنے کے قابل بناتا ہے۔
بچوں کی تربیت: والدین کی مشترکہ ذمہ داری
بچوں کی تعلیم و تربیت میں ماں کے ساتھ ساتھ والد، خاندان کے دیگر افراد، اساتذہ اور تعلیمی ادارے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر گھر اور اسکول کے درمیان رابطہ مضبوط ہو تو بچوں کی تعلیمی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ لہٰذا والدین بچوں کی تعلیمی کارکردگی کا جائزہ لیں، ضرورت کے مطابق ان کی رہنمائی کریں اور اساتذہ کیساتھ تعاون برقرار رکھیں۔ تاہم، تعطیلات کو مسلسل پڑھائی اور امتحانات کا دور نہیں بنانا چاہئے۔ بچوں کو آرام، تفریح، خاندانی تعلقات اور اپنی دلچسپیوں کے مطابق سرگرمیوں کیلئے بھی وقت ملنا چاہئے۔اسی طرح خواتین کی صحت اور ذہنی سکون کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ گھر، ملازمت اور بچوں کی تربیت کی ذمہ داریاں خاندان کے افراد میں منصفانہ انداز میں تقسیم ہونی چاہئیں تاکہ ماؤں کو بھی آرام اور اپنی ضروریات کیلئے وقت مل سکے۔
آج کی تربیت، کل کی تعمیر
سرما کی چھٹیاں بظاہر چند دنوں کا وقفہ ہیں لیکن دانش مندی اور منصوبہ بندی کے ساتھ ان دنوں کو بچوں کی شخصیت سازی، تعلیمی ترقی اور اخلاقی تربیت کا اہم ذریعہ بنایا جاسکتا ہے۔ ماؤں کی محبت، توجہ اور رہنمائی بچوں کیلئے ایسی قوت بن سکتی ہے جو انہیں زندگی کے مختلف مراحل میں کامیابی اور خود اعتمادی عطا کرے۔ لہٰذا تعطیلات کو محض وقت گزاری کے بجائے سیکھنے، مطالعے، تخلیقی سرگرمیوں، اچھی عادات اور خاندانی تعلقات کو مضبوط بنانے کے موقع میں تبدیل کیا جائے۔ بچوں کو صرف کامیاب طالبعلم بنانا کافی نہیں بلکہ انہیں بااخلاق، ذمہ دار، خود اعتماد اور حساس انسان بنانا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ یاد رکھئے! ان کے ہاتھوں میں کتاب دینا ضروری ہے، لیکن ان کے دل میں محبت، ذہن میں شعور اور کردار میں اخلاق پیدا کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔