Inquilab Logo

اوڑھنی اسپیشل: میری ماں!

Updated: May 16, 2024, 1:51 PM IST | Saaima Shaikh | Mumbai

گزشتہ ہفتے مذکورہ بالا عنوان دیتے ہوئے ہم نے ’’اوڑھنی‘‘ کی قارئین سے گزارش کی تھی کہ اِس موضوع پر اظہارِ خیال فرمائیں۔ باعث مسرت ہے کہ ہمیں کئی خواتین کی تحریریں موصول ہوئیں۔ ان میں سے چند حاضر خدمت ہیں۔

The greatness of a mother cannot be described in words. Photo: INN.
ماں کی عظمت کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ تصویر : آئی این این۔

میری ماں ..... صبر و تحمل کا نمونہ


میری ماں، میری سانس، میری زندگی، میری کائنات، میری جنت، میرا سب کچھ۔ میری ماں نے اپنا سب کچھ مجھ پر نچھاور کردیا۔ اپنی ہستی فنا کردی۔ مجسم پیکر قربانی۔ بیحد شریف، نہایت دیندار، خاموش طبیعت اور صبر و تحمل کا نمونہ۔ میں ان کی تعریف نہیں کررہی، کہتی تھی ان کو خلق خدا غائبانہ کیا، ہر وہ شخص جس نے انہیں دیکھا، شاہد ہے میرے ان الفاظ کا۔ میری ماں بھی کبھی نوجوان تھیں، ان کے بھی کچھ جذبات تھے، ارمان تھے، ان کی بھی کچھ خواہشیں تھیں، کچھ امنگیں تھیں، لیکن ماں بنتے ہی انہوں نے اپنے سارے جذبے، سارے شوق دفن کرکے صرف میری ہی ہو کر رہ گئیں۔ آخر میں ان کی اکلوتی بیٹی جو تھی۔ 
 اللہ پاک سب کی ماؤں کو صحت و تندرستی کے ساتھ سلامت رکھے۔ پروردگار، ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے رحمت و شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا۔ 
ناز یاسمین سمن (پٹنه، بہار)
میری ماں سے مَیں نے صبر کرنا، محبت کرنا اور شفقت سے پیش آنا سیکھا

 
ماں کے قدموں تلے جنّت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کی مثال بھی ماں کی محبت سے جوڑ کر دی ہے۔ ماں ایک ایسی ہستی ہے جس کے بغیر گھر ویران ہوتا ہے۔ ماں کے بغیر زندگی ادھوری معلوم ہوتی ہے۔ آج مَیں جو کچھ بھی ہوں وہ سب میری ماں کے بدولت ہے۔ مجھے کامیاب بنانے میں اماں کا ہاتھ ہے۔ میری ماں بہت محنتی ہے، مَیں نے ماں کی زبان سے آج تک کسی کام کے لئے ’نہ‘ نہیں سنا۔ اگر ماں گھر پر نہ ہو تو پورا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ اب میری ماں میرے بچوں کی بھی پرورش میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ میری ماں سے مَیں نے صبر کرنا، محبت کرنا اور شفقت سے پیش آنا سیکھا ہے۔ زندگی کے اتار چڑھاؤ میں ان کے تجربات بہت کام آئیں۔ ماں کی دی ہوئی سیکھ پر عمل کرکے بڑی بڑی مشکلیں آسان ہوگئیں۔ اللہ میری ماں کو سلامت رکھے (آمین)۔ 
قمر النساء جمیل احمد (مالونی، ملاڈ)
ماں کا ساتھ چھوڑ جانا کبھی بھلایا نہیں جا سکتا 


میری امی! زندگی کا حسین ترین احساس، ایسا احساس ایسا جذبہ ایسی انوکھی خوشبو جس سے نہ صرف میرے دل و دماغ بلکہ میری روح بھی معطر ہے۔ زندگی کی کٹھن راہوں میں جب بھی مشکلات نے مجھ کو گھیرا، حوصلے پست ہوئے، امی نے میرے شکست خوردہ وجود کو اپنی ممتا کی آغوش میں پناہ دے کر جینے کی نئی امنگ دی۔ امی کی محبت بہتی ندی کے جھرنوں کی طرح اور تنگ و تاریک راستوں میں روشنی کی لو کی مانند جگمگاتی رہی۔ ہمارے پچپن میں ہم دونوں بہنوں کے ساتھ کھیلنا، ہوم ورک میں ہماری مدد کرنا، ہمیں روزانہ اسکول پہنچانا اور چھٹی کے وقت لینے آنا امی کا معمول تھا۔ کوئی مقابلہ ہو یا شہر میں منعقد ہونے والی مختلف ادبی و ثقافتی تقاریب امی ہر جگہ ہمارے ساتھ شریک ہوتیں۔ امی سے اچھا دوست اور ہمراز مجھے آج تک نہیں ملا۔ امی نے ہمیشہ تعلیم اور خود مختاری کو خصوصی اہمیت دی۔ امی کے بقول ’’انسان کو خصوصاً خواتین کو خودمختار ہونا چاہئے اور قادر مطلق کے علاوہ کسی کا محتاج نہیں ہونا چاہئے۔ ‘‘ امی جن کی خوشی، غم، کامیابی، ناکامی، لگن، تھکن سب کچھ ہم سے ہی وابستہ تھا۔ افسوس کہ مشیت ایزدی نے چند روز قبل ہمیں ان کی گھنی چھاؤں سے دور کر دیا۔ بہت سے رشتے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں اور زخم مندمل ہو جاتے ہیں لیکن ماں کا ساتھ چھوڑ جانا کبھی بھلایا نہیں جا سکتا کیونکہ ماں تو احساس کا رشتہ ہے۔ اللہ انہیں غریق رحمت کرے (آمین)۔ 
طیبہ اسرار احمد (بھیونڈی، تھانے)
ماں سراپا محبّت ہے


مَیں جب بھی اپنی شادی سے پہلے کی زندگی کو سوچتی ہوں تو اکثر امی کی محبت، حد درجہ فکر کرنے کے بے شمار مناظر آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں۔ وہ ممتا، وہ محبت کرنے کا منفرد انداز آج بہت یاد آتا ہے۔ مجھے اب بھی وہ وقت بہت اچھے سے یاد ہے جب کالج سے لیٹ آنے پر میں امی کو اپنا منتظر پاتی تھی۔ گھر کے سارے افراد دوپہر کا کھانا کھا کر قیلولہ کر رہے ہوتے تھے لیکن امی میرے انتظار میں بھوکی رہتی تھی۔ ایک دفعہ کا واقعہ یاد آتا ہے تو آج بھی آنکھیں آنسوؤں سے بھر جاتی ہیں۔ مجھے ڈبل ٹائیفائیڈ ہوگیا تھا اور حالت کافی خراب ہوچکی تھی اس وقت میری ساری تکلیف مجھے امی کے چہرے پر نظر آتی تھی۔ اس وقت انہیں خود اپنا بھی ہوش نہیں تھا۔ میری خدمت، میرے بہتر علاج کی فکر کرنا، مجھے وقت پر دوا دینا، میرے لئے پرہیز کا کھانا بنانا، راتوں کو جاگنا ان کا معمول بن گیا تھا۔ جب تک میں صحت یاب نہیں ہوگئی تب تک امی کو چین نہیں ملا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے ان کے قدموں کے نیچے جنت رکھ دی ہے۔ اللہ میری امی کی عمر دراز کرے اور انہیں صحت و تندرستی عطا کرے (آمین)۔ 
خان امرین حفاظت (ممبرا، تھانے)
سادگی اور خاکساری ان کی پہچان تھی
تقریباً پاؤ صدی پہلے میری ماں، میری جنّت، میری آنکھوں کی ٹھنڈک، میری روح کا سکون موت کے ہاتھوں مجھ سے جدا ہوگئی تھیں۔ اس قدر طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی ماں ایک ’ہالہ‘ کی طرح میرے آس پاس موجود رہتی ہیں۔ ان کے کردار کی خوبیوں کو کس طرح بیان کروں۔ الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔ قلم رک جاتی ہے۔ جذبات بے قابو ہوجاتے ہیں۔ انتہائی غربت و کسمپرسی کی حالت میں ہم دس بہن بھائیوں کی پرورش کی۔ ہماری تعلیم و تربیت پر توجہ دی۔ ہمیشہ شکر گزاری اور محنت و مشقت کی زندگی گزاری۔ غیبت، حرص و حسد جیسے الفاظ کا انہیں مطلب ہی نہیں معلوم تھا۔ سادگی اور خاکساری ان کی پہچان تھی۔ لوگوں کے کام آنا ان کا مشغلہ تھا۔ ان کی نصیحتوں میں ہمیشہ ایک جملہ نمایاں رہتا تھا: ’’دوسروں کی غلطیوں کو بھول جاؤ اور معاف کرو۔ ‘‘
 مَیں بہت شرمندہ ہوں ماں ! مَیں نے معاف کرنا سیکھ لیا۔ لیکن بھول جانا میرے بس سے باہر ہے۔ یا اللہ! دنیا کی تمام ماؤں کے ساتھ میری ماں پر بھی اپنا فضل و کرم نازل فرما (آمین)۔ 
شیخ رابعہ عبدالغفور (ممبئی)
ہم ان کی ممتا کی گھنی چھاؤں سے محروم ہوگئے


ماں قدرت کا دیا ہوا ایک تحفہ ہے جن کی لوریوں میں نسیم سحری کی لطافت، جن کی پکار میں ممتا کی حلاوت، جن کے آغوش میں خدا کی رحمت و راحت، جن کی تنبیہ پر مستقبل کی بشارت، جن کی اطاعت فردوس کی ضمانت، ماں محبت کا وہ سرچشمہ ہے جس کا حق ہم کبھی ادا نہیں کرسکتے۔ افسوس ہماری والدہ مرحومہ کو سفر آخرت پر روانہ ہوئے ایک سال گزر گیا۔ ہم ان کی ممتا کی گھنی چھاؤں سے محروم ہوگئے۔ اللہ ان کے درجات بلند کرے (آمین)۔ 
ڈاکٹر حسنہ جعفری (علی گڑھ، یوپی)
وہ سب لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے


اس موضوع پر انسان اگر پوری کتابیں بھی بھر دیں تو اس لفظ کے معنی اور اس کی تعریف کو پورا نہیں کرسکتے۔ دنیا کی ساری ماؤں کی طرح میری امی جان بھی بہت زیادہ پیاری، نرم دل اور محبت کرنے والی خاتون تھی۔ بچپن ہی سے مَیں نے انہیں اپنی ساری ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی کیساتھ پورا کرتے دیکھا تھا اپنی ضرورتوں اور خوشیوں کی پروا کئے بغیر سب کی ضرورتوں کا خیال رکھتے دیکھا۔ میری امی جان نے میرے بچپن سے لے کر ان کی زندگی کی آخری سانس تک میری چھوٹی سے چھوٹی خوشی کا خیال رکھا اور زندگی کے ہر مقام پر میرے ساتھ کھڑی رہی۔ آج بھی وہ دن یاد کرکے میری روح تک کانپ جاتی ہے جس دن انہوں نے میرے ہاتھوں میں اپنی زندگی کی آخری سانسیں لیں اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملی۔ ان کی خوش اسلوبی اور مزاقیہ طبیعت کی وجہ سے آج بھی وہ سب لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ اللہ میری امی جان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور ان کی مغفرت فرمائے (آمین)۔ 
سمیرا اظہر سرگروہ (نوی ممبئی)
میری امی وفا، قربانی، ممتا اور محبت کا پیکر تھیں

 
ماں اللہ تعالیٰ کی سب سے انمول نعمت ہے لیکن بدقسمتی سے مَیں اس نعمت سے محروم ہوں۔ میری امی کا انتقال برسوں پہلے ہوچکا ہے لیکن ان کی ممتا اور محبت میرے دل و دماغ میں اب تک زندہ ہے۔ میری ماں نے ہم بہن بھائیوں کو دینی و دنیاوی تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا اور ہمیں بہترین تربیت سے نوازا۔ میری ماں کے مزاج میں محبت، ہمدردی، خلوص، ملنساری اور انکساری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ مجھے اب تک وہ بات یاد ہے جب مَیں چوتھی یا پانچویں جماعت میں زیر تعلیم تھی۔ مَیں کھانے کی بہت چور تھی، خاص کر صبح کا ناشتہ نہیں کرتی تھی۔ میری امی روزانہ اسکول میں میرے لئے ٹفن میں ناشتہ لایا کرتی تھیں۔ مَیں سلائی سکھانے والی ٹیچر سے بہت ڈرتی تھی میری امی نے میری اس کمزوری کو بھانپ لیا تھا۔ اس ٹیچر کے سامنے میری امی مجھے ناشتہ کروا دیا کرتی تھی اور مَیں ڈر کی وجہ سے ناشتہ کر لیا کرتی تھی۔ یہ تھی میری امی کی ممتا و محبّت! میری امی وفا، قربانی، ممتا اور محبت کا پیکر تھیں۔ ممتا اور محبت ہم پر لٹایا کرتی تھیں اور میرے والد کی وفا دار بیوی ثابت ہوئیں۔ 
ریحانہ قادری (جوہو اسکیم، ممبئی)
اپنی بیٹیوں کی تعلیم کیلئے کوشاں رہیں

 
میری امی نرم مزاج، زندہ دل اور محنتی تھیں۔ ہم پانچوں بہنوں کی اچھی پرورش کے لئے انہوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ابا کی کم آمدنی کے باوجود بھی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کا ارادہ کیا تھا اُن کا جو انہوں نے اپنی محنت سے پورا کیا۔ سلائی بنائی کڑھائی میں طاق تھیں اور چاہتی تھیں کہ سب بیٹیوں کو اپنے جیسا ماہر کر دیں ہر چیز میں۔ سب میں سب ہنر تو نہیں ڈال پائیں وہ مگر اُن کی ہر بیٹی نے ان سے کچھ نہ کچھ ضرور سیکھا۔ امی ہمیشہ قرآن پاک پڑھ کر مرحومین کو بخشتی رہتی تھیں۔ آج انہیں گزرے ڈیڑھ سال ہوگیا ہے اور مَیں کوشش کرتی ہوں کہ ان کی مغفرت کے لئے جو ہوسکتا ہے کرتی رہوں۔ اللہ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے (آمین)۔ 
یاسمین محمد اقبال (میرا روڈ، تھانے)
 وہ خوش مزاج، نیک اور ملنسار تھی


میری ماں دنیا کی سب سے عظیم انسان تھی۔ میری امی گاؤں کی ایک بہت ہی سیدھی سادی عورت تھی۔ وہ خوش مزاج، نیک اور ملنسار تھی۔ گھر میں بھائیوں کے بعد میں پہلی بیٹی ہوئی۔ اس لئے ماں مجھ سے بہت پیار کرتی تھی۔ امی کو پڑھنا لکھنا نہیں آتا تھا اس لئے وہ چاہتی تھی کہ ان کے بچے پڑھ لکھ کر قابل بنے۔ انہوں نے ہمیں پڑھانے اور قابل بنانے کے لئے کافی مشقت کی۔ دکھ اور تکلیفوں کا بھی سامنا کیا۔ یہ امی کی محنت اور دعاؤں کا ہی اثر ہے کہ آج ان کی تینوں بیٹیاں ٹیچر بن گئی ہیں۔ میری امی نے بہت دکھ، تکلیف اور برا وقت دیکھا تھا اور آج جب اچھا وقت آیا تو امی ہم سب کا ساتھ چھوڑ کر چلی گئی۔ ہم سب کو تنہا کر گئی۔ اللہ دنیا کی ہر ماں کو سلامت رکھے (آمین)۔ 
سیّد شمشاد بی احمد علی (کرلا، ممبئی)
میری کامیابی میری ماں

 
چند الفاظ اپنی امی ثمینہ بیگم محمد خلیل کے نام۔ یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے۔ اے میری ماں میرا سارا مقام تم سے ہے۔ امی جان آپ نے ہمیں دنیا و آخرت کے علم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لئے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ میری ماں کی عمر دراز کرے (آمین)۔ 
ڈاکٹر حنا کوثر کلیم خان (ناسک، مہاراشٹر)
میری امی میں صبر و شکر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے


میری ماں دنیا کی بہترین ماں ہیں۔ ہر اولاد اپنی ماں کے بارے میں یہی کہتی ہے۔ اب چاہے کوئی کچھ بھی سمجھے۔ مجھے میری ماں کائنات کی سب سے اچھی ماں لگتی ہیں۔ میری امی پر نظم و ضبط، سلیقہ شعاری، وقت کی پابندی، اصول و ضوابط اور خوبصورتی، معصومیت آکر ختم ہوتی ہے۔ میری امی میں صبر و شکر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ مَیں اپنے بچوں کی بہترین ماں ہوں لیکن جو کچھ مَیں نے اپنے بچوں کو سکھایا ہے وہ سب مَیں نے اپنی امی سے سیکھا ہے۔ میری امی میری بہترین استاد بھی ہیں۔ ہمارے مالی حالات بہت زیادہ بہتر نہیں تھے لیکن میری امی کی سلیقہ شعاری کی بدولت ہمیں کبھی کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہوئی۔ نہ ہی مَیں نے کبھی اپنی امی کو خدا کی ناشکری کرتے دیکھا۔ عاجزی و انکساری کا پیکر ہیں میری امی۔ جو ایک بار ان سے ملتا ہے ان کا گرویدہ ہوجاتا ہے۔ اللہ میری امی کو صحت و تندرستی اور عمر دراز عطا فرما (آمین)۔ 
ناہید رضوی (جوگیشوری، ممبئی)
مجھے ماں اور پھول میں کوئی فرق نظر نہیں آتا
دنیا کی اس تپتی دھوپ میں اگر کوئی میرا ہمدرد اور غمگسار ہے تو وہ میری پیاری امی جان ہے۔ وہ ہمیشہ میرے دکھ میں دکھی ہوجاتی ہیں۔ مجھے ماں اور پھول میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ اس ظالم دنیا میں سب سے شفیق ہستی ماں ہی ہے۔ بغیر لالچ کے اگر کوئی پیار ملتا ہے تو وہ امی کا ہی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا کی تمام ماؤں کو صحت و تندرستی دے (آمین)۔ 
حافظہ سنجیدہ فاطمہ (اعظم گڑھ، یوپی)
دشمن کو معاف کرنا ان کی خاص صفت


میری ماں اعلیٰ اخلاق کی مالک ہے۔ دوسروں کی بدسلوکی کو نظرانداز کرنا، دشمن کو معاف کرنا، ملازموں کے ساتھ گھر کے فرد جیسا سلوک کرنا، دوسروں کے غموں پر تڑپ اٹھنا، اپنے اوپر آئے غموں پر صبر کرنا ایسی بے شمار خوبیاں ہیں میری ماں کے اندر۔ میری اماں جان ہمیشہ کہتی ہیں : بیٹی سو بلا ایک چپکی میں پار ہوجاتی ہے اس لئے صبر کا دامن کبھی نہ چھوڑنا۔ مَیں اپنی ماں کی اس نصیحت پر عمل کرنے کی پوری کوشش کرتی ہوں۔ اللہ میری ماں کو صحت دے (آمین)۔ 
تسنیم کوثر (ارریہ، بہار)
میری ماں : بہت زیادہ محبت کرنے والی
میری امی میری خوشی ہیں وہ جب خوش ہوتی ہیں تو اس وقت میرا دل بہت خوش ہوتا ہے۔ میں اپنی امی کی ایک ہی بیٹی ہوں اس لئے میری امی مجھ سے بہت محبت کرتی ہیں اور میری ساری خواہشیں بھی پوری کرتی ہیں یہاں تک کہ میں کچھ نہیں بھی کہتی ہوں پھر بھی وہ اپنی خوشی سے میری خوشی کے لئے کرتی ہیں۔ وہ میرے ابو کے نہ ہونے کا بالکل بھی احساس ہونے نہیں دیتی۔ ایک ماں ہی ہوتی ہے جس میں اتنی ہمت، اتنا صبر اور اتنی محبت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ میری امی کو تمام خوشیاں نصیب کرے اور ان کی عمر دراز کرے (آمین)۔ 
فریحہ رحمان (مدنپورہ، بنارس)
میری ماں میری رول ماڈل
ماں ایک بہت ہی عظیم جذبہ کا نام ہے۔ نانا نانی، دادا دادی کے بہت جلد راه عدم کو کوچ کرنے کی وجہ سے بچپن سے آج تک بڑے بزرگوں میں ہم نے اپنی ماں کو پایا۔ امی بنا اپنی صحت، بنا اپنی خواہشات کی پروا کئے ہمیشہ ہم سب بھائی بہنوں کی پڑھائی، ہمارے روشن مستقبل کے لئے دن رات لگی ہوئی ہیں۔ بڑے سے بڑے مشکل حالات میں ہم نے اپنی ماں کو بنا ٹوٹے، بنا حالات کو کوسے، بہترین حل نکالتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس پر فتن دور میں امی نے ہمیں مضبوط کردار، اپنے فیصلے پر قائم رہنا، اور مشکل حالات کا مایوس ہوئے بغیر ڈٹ کر مقابلہ کرنا سکھایا۔ نہ صرف ہم لوگوں کے لئے بلکہ ہمارے عزیز و اقارب کے لئے ہم نے ہمیشہ انہیں خیر خواہ دیکھا ہے۔ دوسروں کے حالات پر تبصرہ کرنے، ان کا مذاق اڑانے اور فالتو وقت ضائع کرنے، بے جا گفتگو کو طویل کرنے کے بجائے ہمیشہ اپنے کام سے کام رکھنا، ہم نے امی سے‌ ہی سیکھا ہے۔ اللہ تعالی میری ماں کو ہمیشہ خوش رکھے اور ان کو دنیا اور آخرت میں وہ ساری خوشیاں نصیب کرے جن کی وہ حقدار ہیں (آمین)۔ 
صوفیہ طارق (ارریہ، بہار)
افسوس! ماں کے سایے سے محروم رہی
ماں یہ لفظ کانوں میں رس گھول دیتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اللہ کی عظیم ترین شے جسے اس نے اپنی محبت سے مشابہ کیا ہو۔ کیا ہی اچھی ہوتی ہوگی مگر افسوس میں یہ اپنی زندگی میں محسوس نہیں کر پائی۔ میں ساڑھے چار سال کی تھی اور میری چھوٹی بہن پونے دو سال کی۔ بھائی کی پیدائش پر وہ اس دار فانی سے رخصت ہوگئیں۔ اس وقت ان کی عمر صرف ۲۱؍ سال تھی۔ ان کی ساری خواہشات پوری ہوگئیں جو وہ چاہتی تھیں وہی ہوا۔ وہ علی گڑھ میں آنا چاہتی تھیں۔ یہاں اپنا گھر بنانا چاہتی تھیں اور ہماری تعلیم اے ایم یو میں کرانا چاہتی تھیں۔ ان کی دعائیں اللہ نے سن لی یہاں ہمارا گھر بھی بن گیا اور ہم نے تعلیم بھی اے ایم یو سے حاصل کی لیکن افسوس کہ انہوں نے اپنا آخری گھر یہاں علی گڑھ منٹوئی میں بنا لیا۔ 
اللہ سے دعا ہے کہ وہ جنت میں ہمیں ان سے ملوائے۔ ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ ہمیں ان کے لئے صدقہ جاریہ بنائے (آمین)۔ 
طلعت شفیق (دہلی گیٹ، علی گڑھ، یوپی)
ایسی صابر خاتون مَیں نے نہیں دیکھی


رب کریم نے میری امی کو صبر و شکر، ایثار و تحمل، بردباری، عجز و انکساری، خندہ پیشانی، خوش اخلاقی، خوبصورتی، سمجھداری اور ہنر مندی کا پیکر بنا کر میرے لئے دنیا میں بھیجا ہے۔ ایسی صابر خاتون مَیں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھی۔ ذمہ داری کا احساس ان میں اس قدر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے کہ ہم بھائی بہنوں نے زندگی میں کبھی بنا سحری کے کوئی روزہ نہ رکھا بنا الارم کے رات کے تین بجے اٹھ کر سب کیلئے سحری تیار کرنا میری امی کا وہ وصف ہے جسے میں دل و جان سے سلام کرتی ہوں۔ مجھے کبھی اسکول پہنچنے میں دیر نہیں ہوئی کیونکہ میری امی ہمیشہ مجھے وقت پر تیار کرتی تھیں۔ گھر کے ڈھیروں کاموں کے درمیان ہم بھائی بہنوں کی پڑھائی میں مدد کرنا، ہمارے یونیفارم ہمارے بستوں کاپی کتابوں کا خیال رکھنا۔ بہت زیادہ دولتمند نہ ہونے کے باوجود ہم ہمیشہ صاف ستھرے معقول کپڑوں میں ملبوس ہوتے تھے۔ سارے خاندان میں میری امی کی تربیت کی دھوم تھی۔ ان کے احسانات کی ایک طویل فہرست ہے لیکن جگہ کی تنگی کے سبب تمام کو بیان کرنا ناممکن ہے۔ 
اللہ تعالیٰ سے تہہ دل سے گزارش ہے کہ انہیں صحت و عافیت کے ساتھ لمبی زندگی عطا ہو (آمین)۔ 
رضوی نگار اشفاق (اندھیری، ممبئی)
ان کی بیٹی ہونا میرے لئے اعزاز ہے

 
ماں کی قربانیوں، شفقت اور محبت پر تو اجل سے ہر مصنف اور شاعر نے لکھا ہے اور یہ سلسلہ ابد تک جاری رہیگا کیونکہ ماں کی شخصیت ہے ہی ایسی۔ عاجزی، صبر، ملنساری، حقوق العباد ادا کرنا ان کی دی گئی تعلیم کے سمندر کے کچھ موتی ہیں جنہیں میں نے اپنی شخصیت کے دھاگے میں پرونے کی کوشش کی ہے۔ ایک معلمہ ہونے کے ساتھ جس طریقے سے انہوں نے امورِ خانہ داری کو سنبھالا اسے دیکھ کر ہر کوئی رشک کرتا ہے۔ ان کا سلیقہ شعاری اور خود اعتمادی خاندان میں اتنا ہی مشہور ہے جتنا ان کا بنایا ہوا کھانا۔ اس لئے ان کی بیٹی ہونا میرے لئے اعزاز تو ہے ہی لیکن ایک ذمہ داری بھی۔ اکثر سوچتی ہوں کہ کیا میں ان کی پرچھائی بن پاؤں گی؟ ویسے تو الله تعالیٰ نے مجھے بن مانگے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے لیکن اس میں سر فہرست ہمیشہ میری امی رہے گی۔ میری امی نے ہم بہن بھائیوں کو ایکدوسرے سے جوڑے رکھا ہے۔ ان کی پرورش اور محنت سے آج ہم سب بھائی بہن اطمینان بخش ازدواجی اور معاشی زندگی گزار رہے ہیں۔ الله نے ایسے ماں باپ چن کر میری دنیا تو بنا دی دعا ہے کہ ان کی تعلیم سے میری آخرت بھی سنور جائے۔ اچھی ساس کا ملنا بھی ایک نعمت ہے جو آپ کی زندگی کو سہل اور خوشگوار بنا دیتی ہے۔ ہر قدم پر رہنمائی کرنے کیلئے میں اپنی ساس کی شکر گزار ہوں۔ ان کی خوش مزاجی ان کے نام ’عزیز النساء‘ کی طرح انہیں سب کا عزیز بناتی ہے۔ 
رضویہ جہاں زیب خان (بھیونڈی، تھانے)

مَیں کہتی تھی ’مدر انڈیا ہے میری ماں ‘ اور وہ کچھ نہ کہتی


میری ماں خاموش مزاج ہے۔ پورا دن کام میں مصروف رہتی ہے۔ ساری ذمہ داریاں اپنے سر لینے کے بعد بھی اسے چین نہیں۔ وقت ملتا ہے تو اپنی بیٹی کے فراک سل لیتی ہے۔ سوئٹر بن لیتی ہے۔ گھر میں اس وقت مٹی کے چولہے پر کھانا بنتا تھا اسے میری ماں اپنے ہاتھوں سے بناتی تھی۔ اس پر بنے کھانے کا مزہ ہی الگ ہوتا تھا۔ مسالہ سل بٹے سے پیستی تھی۔ لذیذ کھانے بنانا وہ جانتی تھی۔ کیا تھی میری ماں۔ میں کہتی تھی مدر انڈیا ہے میری ماں اور وہ کچھ نہ کہتی۔ کام کرانے کا بھی خوب ہنر معلوم تھا۔ بیٹی بڑی ہوتی گئی اور اس سے گھر کے کام کو کرنے کا ہنر سکھانے لگی۔ آج اس کی بیٹیاں اپنی زندگی میں خوش ہیں کیونکہ انہیں بھی سارے ہنر معلوم ہیں۔ وہ بھی اب بنا رُکے بنا تھکے گھر داری میں لگی رہتی ہیں۔ ماں کو ایسا ہی ہونا چاہئے۔ اس ماں کو سلام کہ میں اس کی بیٹی ہوں لیکن ایک وقت ہوتا ہے۔ ایک عمر ہوتی ہے ہر انسان ایک عمر کے بعد کمزور ہو جاتا ہے تب اسے اس کے بچوں کی ضرورت پڑتی ہے اس حالات میں ماں کا ساتھ دینا چاہئے اور اس کو پیار سے رکھنا چاہئے۔ اللہ سب کی ماں کو صحت اور تندرستی کے ساتھ رکھے۔ انہیں وہ خوشی ملے جس کی وہ حقدار ہیں (آمین)۔ 
نشاط پروین (مونگیر، بہار )
میری ماں كى آغوش تو علم و ادب کا گہوارہ ہے


میری ماں کی عظمت بیان کرنا میرے لئے بہت مشکل کام ہے۔ ان کی شفقت اور ممتا لاجواب ہے۔ ان کی بہترین تربیت اور ابتدائی تعلیم کے فیضان کا ہی ثمرہ ہے کہ آج میں اعلی تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوں۔ میری ماں كى آغوش تو علم و ادب کا گہوارہ ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ مراسلہ نگاری کے ساتھ ہی روزنامہ انقلاب میں چھپنے والے عنوان پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے قابل ہوسکی۔ مَیں انقلاب کی ممنون ہوں کہ یومِ مادر کی مناسبت سے امی کو خراج تحسین پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔ 
فاطمہ فہد (بنارس، یوپی)
ماں ترے بنا جینا اچھا نہیں لگتا!
ماں اپنی ہر خواہش کو قربان کرکے اپنی خوشیوں کو چھوڑ کر اپنی اولاد کی بہتری کیلئے اور اس کی خوشی کیلئے ہر ممکن کوشش کرتی ہے اسی میں اسے سکون حاصل ہوتا ہے تبھی تو اللہ جب بندوں سے اپنی محبت کو بتانا چاہتا ہے تو ماں کی محبت کی مثال دیتا ہے۔ میری ماں بھی ایک ایسی ہی ماں تھیں جو ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن ہمارے دلوں میں ہماری یادوں میں ہر وقت موجود رہتی ہیں۔ ۲؍ جولائی کی وہ صبح جس نے ہماری امی کو ہم سے جدا کر دیا: جینے کو تو جیتے ہیں ہر روز ہی ہم/ ماں ترے بنا جینا اچھا نہیں لگتا!
ایس خان (اعظم گڑھ، یوپی)
میری والدہ صبر، ایثار اور قربانی کا پیکر ہیں 
ہر کسی کو اپنی والدہ سے بہت محبت ہوتی ہے۔ میں اپنی والدہ محترمہ کی بات کروں تو وہ صبر، ایثار اور قربانی کا پیکر ہیں۔ ہمارا مستقبل سنوارنے میں انہوں نے اپنی زندگی لگا دی۔ میری والدہ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ تھیں۔ گھر اور کام، دونوں انہوں نے بہت اچھے سے سنبھالا۔ ہماری والدہ نے ہماری اسلامی نہج پر تربیت کی ہے۔ زندگی کے ہر معاملے میں وہ ہمیں دین کے ہر پہلو سے روشناس کرواتی ہیں۔ میری والدہ کا نام خیرالنساء ہے وہ اپنے نام کے مطابق ہر کسی سے بھلائی کا معاملہ کرتی ہیں۔ ان کے اندر تقویٰ و پرہیزگاری موجود ہیں۔ وہ صوم و صلوٰۃ کی پا بند ہیں۔ ہر جمعہ گھر میں میری والدہ کی نگرانی میں اجتماع لیا جاتا ہے۔ ان کے اندر دین اسلام کیلئے ایک تڑپ اور ایک جذبہ ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے گھر میں عورتوں کیلئے انہوں نے ایک چھوٹا سا مدرسہ شروع کیا ہے جہاں پر خواتین کہ پڑھنے کا نظم کیا گیا ہے۔ دین کے کاموں میں وہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں۔ میری والدہ محترمہ ابھی فریضہ حج کیلئے گئی ہوئی ہیں جن کے جانے سے گھر ویران ہوگیا ہے۔ درس و تدریس سے وابستہ ہوتے ہوئے بھی میری والدہ امور خانہ داری، شوہر کی خدمت، بچوں کی بہترین پرورش، خاندان والوں سے تعلقات، ہر چیز میں اعتدال رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ہر ایک کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ 
سمیرہ گلنار محمد جیلانی (ناندیڑ، مہاراشٹر)
میری امی دنیا کی سب سے اچھی امی ہے
ماں اس جہاں میں سب سے بڑی دولت ہے اور دونوں جہاں کے لئے بہت بڑی نعمت و رحمت ہے۔ میری امی دنیا کی سب سے اچھی امی ہے کیونکہ انہوں نے اپنی اولاد کیلئے تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کی ہیں۔ اور اپنی اولاد کی بہتر تعلیم کیلئے اولاد سے دور رہنے کا درد بھی برداشت کیا ہے۔ میری ماں میری زندگی ہے کیونکہ انہوں نے مجھے اپنی زندگی دی ہے اور میری کامیابی میری امی ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب کی امی کو سلامت رکھے، ان کو صحت نصیب عطا فرمائے (آمین)۔ ماں کی محبت کی کوئی مثال نہیں کیونکہ ماں کے جیسے کوئی اور نہیں۔ 
گلناز مطیع الرحمٰن قاسمی (مدھوبنی، بہار)
عجز و انکساری میری امی کی شخصیت کا خاص پہلو ہے


میری ماں محبت، ایثار اور قربانی کے حسین امتزاج کی عمدہ مثال ہیں۔ وہ خاندان کے تمام افراد کی خدمت کرکے خوشی محسوس کرتی ہیں۔ دینی و ادبی کتابوں کے مطالعے کا بہت ذوق رکھتی ہیں۔ روزنامہ انقلاب کی مراسلہ نگار اور مضمون نگار بھی ہیں۔ امتحانات کے دنوں میں ان کی طرف سے میری حوصلہ افزائی مینار نور ثابت ہوتی رہی ہے۔ مشکل حالات میں بھی صبر و شکر کے ساتھ حکمت سے کام لینا اور صدقہ و خیرات کرنا ان کی فطرت میں ہے۔ عجز و انکساری میری امی کی شخصیت کا خاص پہلو ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہوں کہ میری امی کو صحت و تندرستی کے ساتھ لمبی عمر عطا کرے(آمین)۔ 
ہبہ افتخار (نزد ہندوستانی مسجد، بھیونڈی)
میری پسندیدہ شخصیت میری ماں 
اِس موضوع پر قلم اٹھانے سے پہلے میں سوچ میں پڑگئی کہ کیا میرے قلم میں اتنی سکت ہے؟ کیا میرے پاس اتنے الفاظ ہیں کہ میں اس عظیم ترین ہستی کے بارے میں کچھ تحریر کر سکوں ؟ بے لوث محبت، اپنائیت، قربانی اور نہ جانے کتنے اس جیسے الفاظ کا مجموعہ ایک لفظ ماں ہے۔ ماں کی عظمت پر کچھ لکھنا تو سمندر کو کوزے کو سمیٹنے کے مترادف ہے، اس سے بڑھ کر ماں کی عظمت و محبت کی مثال کیا ہوگی، جبکہ خدا تعالیٰ نے اپنی محبت کی تشبیہ ماں کی محبت سے دی ہے۔ بیشک میری والدہ کا وجود بھی انہی لفظوں کا گہوارہ ہے۔ میری والدہ میرے لئے صرف والدہ ہی نہیں بلکہ باقاعدہ طور پر میری اُستانی بھی ہیں۔ وہ میرے علاوہ بھی نہ جانے کتنوں کیلئے قابل تقلید شخصیت ہیں، وہ تقریباً ۳۰؍ سال سے درس نظامی کو مومنات تک پہنچانے کا فریضہ انجام دے رہی ہیں، اور پڑھنا پڑھنا ہی اُن کا اوڑھنا بچھونا ہے، ان کی حقیقی تو صرف چار ہی اولادیں ہیں لیکن روحانی اولادیں بے شمار ہیں، اور ان کی شخصیت کی ایک اہم خوبی یہی ہے کہ وہ اپنی روحانی اولادوں کو حقیقی اولاد پر فوقیت دیتیں ہیں۔ نیک سیرت، سادگی، عاجزی و انکساری کی اعلیٰ مثال، وفا کی پیکر، حیا کی چادر، خلوص و اپنائیت، اعلیٰ اخلاق کی عمدہ مثال، لوگوں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنا، ہر ایک کے بر وقت کام آنا، یہ سب میری والدہ کی شخصیت کے خاص پہلو ہیں، جس کا ہم اپنی آنکھوں سے دن رات مشاہدہ کرتے ہیں۔ جس کی آغوش میں پرورش پائی ہو، جس نے ہاتھ پکڑ کر لکھنا سکھایا ہو، جس کا عکس میری زندگی پر پڑھا ہو، کیا یہ الفاظ اُس کا حق ادا کر سکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں الفاظ اظہار کا ذریعہ تو بیشک ہوسکتے ہیں، مگر احساس کا پیکر نہیں، میری پیاری والدہ ہم آپ کی محبتوں کا بدلہ کبھی نہیں ادا کر سکتے۔ اللہ تعالیٰ آپ کا سایہ ہم پر تاحیات قائم رکھے اور ہمیں آپ کا سچا جانشین بنائے (آمین)۔ 
خولہ ایجاب محمدی (لکھیم پور کھیری، یوپی)
میری ماں میری جنّت
مَیں اپنی ماں سے بے انتہا محبت کرتی ہوں اور دعا کرتی ہوں کہ ان کا سایہ تاحیات میرے سر پر رہے۔ اگر کوئی مصیبت یا کوئی پریشانی آجاتی ہے تو وہ میری ڈھال بن جاتی ہے۔ اگر مَیں بیمار ہوجاؤں تو میرا خیال رات بھر جاگ کر رکھتی ہے۔ میری مثالی شخصیت میری ماں ہے اور ہمیشہ میری ماں ہی رہے گی۔ دنیا میں جو کچھ بھی ملا ہے یہ سب کچھ میری ماں کی دعاؤں کا صلہ ہے۔ ماں دنیا کا سب سے انمول زیور ہے۔ اگر تم کوئی بھی فیلڈ یا میدان میں کامیاب ہونا چاہتے ہو تو ماں کی خدمت کیا کرو۔ 
سعدیہ کریم (لکھنؤ)
وہ مجھے دنیا کی ہر خوشی دینا چاہتی ہے


میری امی کے جیسا کوئی بھی اس دنیا میں نہیں۔ میری امی مجھ سے بے حد محبت کرتی ہے۔ وہ میرے دل کی ہر بات سمجھ جاتی ہے۔ میری طبیعت خراب ہونے پر پریشان ہوجاتی ہے اور دن رات میری تیمارداری کرتی ہے۔ وہ مجھے دنیا کی ہر خوشی دینا چاہتی ہے۔ ماں کے لئے اگر مَیں کتاب لکھوں تو پوری کتاب بھر جائے لیکن اُن کی مکمل شخصیت بیان نہیں ہوسکے گی۔ 
شفاء ناز شیخ عقیل (جلگاؤں، مہاراشٹر)
میری روح میری ماں 


تمام رشتوں میں برتر و بالا رشتہ بلاشبہ ماں کا ہے۔ مشاہیر ادب کی بے شمار نادر نگارشات ماں کے موضوع پر موجود ہیں پھر بھی ماں کی تعریف و توصیف نامکمل سی ہی لگتی ہے۔ میرے وہ ایام جو آغوش مادر سے سن بلوغت تک تربیت و تعلیم کا جو ساتھ رہا ہے وہ آج کے تیز رفتار اور پل پل بدلتے حالات میں مجھے سنبھالے ہوئے ہیں۔ ماں کی تربیت نے ہی آج کے بے حس اور مطلب پرست معاشرہ میں مجھے دینی و دنیاوی معاملات کے ساتھ استحکام بخشا ہے۔ ماں کی بے لوث ممتا کے سائے میں مصائب مشکلات سے ہمیشہ انجان رہی۔ میری روح میری ماں کی کس کس گونا گوں خصوصیات کا احاطہ کروں اس پر میری سوچ میرا قلم دونوں بےبس ہیں۔ میری کامیاب پرورش کیلئے شکریہ کے ساتھ خداوند قدوس سے دعا گو ہوں کہ وہ میری ماں کو جس نے مجھے تصویر کائنات کے ہر رنگ سے آشنا کرایا، ہر حالات میں بلند حوصلوں سے جینے کا ڈھب دیا، اسلامی طرز حیات کے اصول و ضوابط سے ہمکنار کیا، اس ماں کو شاد و آباد رکھنا۔ آج مدتوں بعد اس ماں کے بدن کی جھریوں میں میری کامیابی کی کہانی نظر آتی ہے۔ میرے مولا مجھے بھی میری اولاد کی تربیت کے لئے میری ماں کی یہ صفات عطا فرما (آمین)۔ 
نرگس شہیر مومن بنت زلیخا معین الدین انصاری (بھیونڈی)
میری ماں سب سے اچھی ماں

 
کائنات کی جب تخلیق کی گئی تو میرے رب نے جس ہستی کو مقدم رکھا وہ ماں ہے جس کی گود سے ہی تربیت اور تعلیم کا سلسلہ جاری ہو جاتا ہے۔ میری امی دنیا کی سب سے اچھی امی ہیں کیونکہ انہوں نے تنہا (والد کے انتقال کے بعد) تمام ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھانے کی کوشش کی۔ ہماری تعلیم و تربیت کی فکر انہیں لگی رہتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دین کی سب سے زیادہ فکر اور اس پر عمل بھی ہونا چاہئے کیونکہ فلاح پانے کا راستہ صراطِ مستقیم ہی ہے۔ میں اس اللہ رب العزت سے دعا گو ہوں کہ میری امی کے ساتھ سبھی کے والدین کو صحت و عافیت سے رکھے، عمر میں برکت دے اور ان کا سایہ ہمارے سروں پر قائم رہے (آمین)۔ 
شفا رضوان شیخ ( کرلا، ممبئی)
بھلا کسی نے کبھی رنگ و بو کو پکڑا ہے


کچھ سال پہلے تک نہ انٹرنیٹ تھا نہ سوشل میڈیا کھانا بنانے کی ترکیب ماں کی ڈائری سے ملا کرتی تھی۔ کسی ڈش میں نمک کی مقدار، مسالے کی مقدار مرچ ہمیں اماں کے ساتھ کچن میں رہ کر سیکھنے کو ملی۔ آج بھی ان کی غیر موجودگی میں کسی ڈش میں کوئی کمی رہ جاتی ہے تو اماں کی ڈائری ریفر کر لیتی ہوں۔ اسلامی مہینوں کے نام بھلے ربیع الاول، صفر، ربیع الثانی ہو امّاں کے بتائے بارہ وفات، تیرا تیزی اور شالم (چہلم) ذہن سے چپک کر رہ گئے ہیں۔ کھیر کس دن بنائی جاتی، کھچڑا کب بنایا جاتا ہے اور نیاز کا دن کون سا ہوتا ہے؟ اماں نے بتایا تھا۔ تین بھائیوں میں اکیلی بہن کے درمیان اماں نے کبھی فرق نہیں کیا۔ ان کی تربیت، ان کا غصہ اور ان کی محبت، اب تک یاد ہیں اور ہمیشہ یاد رہیں گی۔ 
شگفتہ راغب شیخ (نیرول، نوی ممبئی)
میری ماں علم و ادب کا گہوارہ ہیں

 
علامہ اقبال نے کہا تھا: وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔ اس ’زن‘ کا عظیم روپ ماں ہے۔ قدرت کا سب سے حسین تحفہ ماں ہے۔ میری ماں علم و ادب کا گہوارہ ہیں۔ رحمدلی، شائستگی اور انکساری ان کی شخصیت کے نمایاں پہلو ہیں۔ سخاوت اور فراخدلی کا جذبہ ان کے اندر ہمیشہ موجزن رہتا ہے۔ مشکل اور نامساعد حالات میں ان کی قوت فیصلہ مثالی ہے۔ میری امی دینی مزاج رکھتی ہیں۔ لہٰذا دینی و ادبی کتب کا مطالعہ کرتی رہتی ہیں۔ وہ روزنامہ انقلاب کے صفحات کو اپنی نگارشات سے مسلسل زینت بخشتی رہتی ہیں۔ انہیں کی حوصلہ افزائی کے سبب میں بھی انقلاب کیلئے لکھتی رہتی ہوں۔ یوم مادر کی مناسبت سے اپنی امی کیلئے خراج تحسین کچھ یوں پیش کرنا چاہتی ہوں : لبوں پہ اسکے کبھی بد دعا نہیں ہوتی/ بس ایک ماں ہے جو مجھ سے خفا نہیں ہوتی!
ڈاکٹر شیبا الف انصاری (بھیونڈی، تھانے)
میری امی میری سہیلی تھی


قدرت کا انمول تحفہ ہے ماں۔ میری امی میری سہیلی تھی۔ ماں کی محبت میں ایسی تاثیر ہوتی ہے کہ وہ بچوں کے حق میں دعا کریں تو اللہ بھی پوری کر دیتا ہے۔ کیسی بھی عادتوں والی لڑکی ہو جب وہ ماں بنتی ہے پھر وہ اپنے بچے کے لئے کچھ بھی کرسکتی ہے۔ اولاد کے ساتھ اتنی شدت سے ایک ماں ہی محبت کرسکتی ہے۔ اللہ نے اس کی بے لوث محبت کی وجہ سے ہی ماں کے قدموں میں جنت کہا ہے۔ 
شاہدہ وارثیہ (وسئی، پال گھر)
سب سے خوبصورت ماں 


میری ماں دنیا کی سب سے خوبصورت ماں ہے۔ مجھے محبت ہے اپنے ہاتھوں کی تمام انگلیوں سے، نہ جانے کون سی انگلی پکڑ کے ’ماں ‘ نے چلنا سکھایا ہوگا۔ جن کی ماں زندہ ہوتی ہے وہ بہت خوش نصیب ہوتے ہیں۔ اللہ پاک ہم سب کی ماوں کو سلامت رکھے (آمین)۔ 
نزہت پروین (گیا، بہار)
اُن کی دعائیں ہر موڑ پر ہمارا ساتھ دیتی ہے


ماں کا رتبہ سب سے بلند ہوتا ہے۔ میری زندگی کی تمام کامیابی کا کریڈٹ میں اپنی امی کے نام کرنا چاہوں گی۔ میرے اندر موجود تمام خوبیاں اور قابلیت اُنہی کی وجہ سے ہے۔ اُن کی دی ہوئی نصیحت پر عمل کرکے میری زندگی میں آسانی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس لئے کہا جاتا ہے ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔ اُن کی دعائیں زندگی کے ہر موڑ پر ہمارا ساتھ دیتی ہے۔ خوش نصیب ہیں ہم سب جن کے سر پر ہماری والدہ کا سایہ ہے۔ جس سے ہم کبھی محروم نہیں ہونا چاہیں گے۔ مَیں یہی کہنا چاہوں گی ماں سے محبت کا اظہار، اُن کی ہماری زندگی میں اہمیت کے اظہار کے لئے کوئی خاص دن نہیں ہونا چاہئے۔ ہمیں روزانہ اُن کی اہمیت کو سمجھنا چاہئے۔ ہمیں اُنہیں بتانا چاہئے ہم اُن سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ انہیں خاص ہونے کا احساس دلائیں۔ ہماری والدہ کے احسان کے آگے یہ کچھ بھی نہیں۔ اُن کی ممتا کیلئے ہم لاکھ کوشش کرلیں لیکن ہم انہیں وہ نہیں دے سکتے جو انہوں نے ہمیں دیا ہے۔ 
مرزا حبا ناظم (ممبئی، مہاراشٹر)
ماں کو سب پتہ ہوتا ہے


دنیا کا سب سے خوبصورت لفظ ماں ہے۔ ماں کے جیسا پیار کوئی نہیں کرسکتا۔ ماں اپنی اولاد کے ہر جذبے کو سمجھ جاتی ہے۔ ماں کو سب پتہ ہوتا ہے کہ ان کے بچوں کیلئے کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ ماں سب کی جگہ لے سکتی ہے لیکن ماں کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔ میری امی ہم سب کا بہت اچھے سے خیال رکھتی ہے لیکن ہماری خوشیوں میں وہ اپنا خیال رکھنا بھول جاتی ہے۔ ہمارے ہر برے وقت میں ہمارے ساتھ کھڑے رہتی ہے اور ہم کو سیدھا راستہ دکھاتی ہے۔ میری امی گھر میں نہیں ہوتی تو میرا من بے چین ہو جاتا ہے۔ میرا ان کے بنا من نہیں لگتا۔ میری امی جیسا کوئی مجھے ملا ہی نہیں اور ملےگا بھی نہیں۔ وہ میری ہر ضرورت میں ساتھ دیتی ہے۔ وہ مجھے ہر خوشی دیتی ہے۔ 
غازیہ نہر شیخ جاوید (جلگاؤں، مہاراشٹر)
....تب مجھے کسی بھی قسم کی فکر لاحق نہیں ہوتی


میری ماں میری زندگی کی سب سے اہم شخصیت ہے۔ وہ ہمیشہ میرے ساتھ ہوتی ہے۔ وہ مجھے زندگی میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ وہ پورے خاندان کا خیال رکھتی ہے۔ وہ بہت محنتی ہے اور ہر ایک کیلئے بہت مہربان ہے۔ جب بھی میرے دوست میرے گھر آتے ہیں تو وہ ہمارے لئے لذیذ کھانا بناتی ہے۔ وہ میری پڑھائی میں میری اور میرے دوستوں کی مدد بھی کرتی ہے۔ وہ ریاضی اور سائنس کے مضامین میں آنے والی دشواریوں کو دور کرنے میں میری مدد کرتی ہے۔ وہ پیچیدہ موضوعات تحمل کے ساتھ سمجھاتی ہے۔ جب میری ماں میرے ساتھ ہوتی ہے تب مجھے کسی بھی قسم کی فکر لاحق نہیں ہوتی۔ میری ماں نے میرے لئے کئی قربانیاں دی ہیں۔ مجھے اپنی ماں سے بے حد محبت ہے۔ 
آفرین عبدالمنان شیخ (شولاپور، مہاراشٹر)
ماں کے جانے کے بعد ابّا نے کوئی کمی نہیں کی


ماں دوست، ہمدرد، مسیحا، خوشی، آنچل اور سکون کا نام ہے۔ ماں بچے کی پہلی درسگاہ اور دوست ہوتی ہے۔ ماں سے بے جھجھک ساری باتیں کہہ دی جاتی ہیں لیکن جن کی ماں نہیں ہوتی وہ اس دنیا میں بہت اکیلا محسوس کرتے ہیں۔ جب ماں دنیا سے جاتی ہے تو دھوپ کی تپش بڑھ جاتی ہے۔ ماں تپتے ریگستان میں ٹھنڈی چھاؤں کی مانند ہوتی ہے۔ ماں کے گزرنے کے بعد پاپا نے ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی اور ماں سے بھی زیادہ ہمیں لاڈ پیار دیا۔ اس لئے یوم مادر پر ہر سال میں ابّا کو مبارکباد دیتی ہوں اور ماں کو یاد کرتی ہوں۔ ایک ماں کی طرح ہی ابا ہمیشہ سب کےبعد سوتے اورسب کا پورا خیال رکھتے ہیں۔ 
جویریہ طارق (سنبھل، یوپی)
وہ صلاح کار بھی ہیں اور استاد بھی
ماں کی عظمت اور تعریف کو چند لفظوں میں بیان کرنا نہایت مشکل ہے۔ میری امی جان بہت نیک، صابر اور شکر گزار خاتون ہے۔ ان ہی کے دم سے ہمارے گھر کی رونق اور شان ہے۔ میرے اندر جتنی بھی اچھی عادتیں ہیں وہ سب میری امی جان کی بدولت ہے۔ میں نے جو سیکھا ان ہی سے سیکھا ہے۔ امی جان میری دوست بھی ہیں، صلاح کار بھی ہیں اور استاد بھی۔ امی نے ہر پل مخلص دوست کی طرح میری رہنمائی کی ہے اور ہر غلط بات پر ڈانٹ کر میری اصلاح بھی کرتی ہیں۔ مجھے قرآن پاک انہوں نے ہی پڑھایا، نماز پڑھنا سکھایا۔ نیز وہ میرے لئے سب کچھ ہیں۔ میں چاہتی ہوں میں بھی ان سے اسی طرح محبت کروں اور ان کا خیال بھی اس طرح رکھوں جیسے وہ رکھتی ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا گوں ہوں کہ اللہ میری والدین کو صحت والی لمبی زندگی عطا کرے (آمین )۔ 
شازیہ رحمٰن (غازی آباد، یوپی)
میری ماں محبت کا پیکر ہے