Inquilab Logo Happiest Places to Work

تربیت کا یہ انداز بچوں میں ڈر پیدا کرتا ہے

Updated: April 28, 2026, 2:09 PM IST | Syed Shamshad Bi Ahmed Ali | Mumbai

کبھی کبھی بچوں کے ساتھ ماں کا رویہ سخت ہوتا ہے۔ جس سے بچے میں خوف پیدا ہوجاتا ہے۔ بچوں کی تربیت کے دوران ماں کا رویہ نرم اور محبت آمیز ہونا چاہئے۔ غلطی ہو جانے پر سختی کرنے سے بچے باغی ہوجاتے ہیں۔ کیا اُنہیں ہلکی سزا نہیں دی جاسکتی اور اس سے پہلے سمجھانا بجھانا نہیں چاہئے؟

One should neither be too strict nor too lenient with children, but rather find a middle ground. Photo: INN
بچوں کے ساتھ نہ بہت زیادہ سختی نہ بہت زیادہ نرمی اختیار کرنی چاہئے بلکہ درمیانی راہ نکالنا چاہئے۔ تصویر: آئی این این

بچوں کی تربیت میں ماں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ ماں نہ صرف محبت اور نرمی سے بچے کی تربیت کرتی ہے بلکہ اسے زندگی کے کئی مشکلوں کا سامنا کرنا بھی سکھاتی ہے۔ بچے نرم مٹی کی مانند ہوتے ہیں انہیں جس سانچے میں ڈھالیں گے وہ ویسے بن جاتے ہیں۔ ماں بچے کی پہلی استاد ہوتی ہے۔ بچوں کو اچھی عادتیں سکھانے کے لئے مائیں خود اپنی پیش کریں کیونکہ بچہ سن کر نہیں دیکھ کر سیکھتا ہے۔ ماں کو چاہئے کہ کچھ اس طرح سے بچے کے ساتھ پیش آئے جس سے بچے کی صحیح معنوں میں تربیت ہو نہ کہ بچے کے دل میں ڈر پیدا ہو۔ ماں کو بچے کی تربیت کے تعلق سے مندرجہ ذیل باتوں کا دھیان رکھنا چاہئے:

مارنا پیٹنا

بچے بہت معصوم اور ناسمجھ ہوتے ہیں۔ اگر بچہ کوئی غلطی کرتا ہے تو ماں کو چاہئے کہ وہ اسے مارنے پیٹنے کے بجائے پیار و محبت سے سمجھائے۔ ماں اگر بچے کے ساتھ سختی سے پیش آئے گی تو معصوم بچے کے دل میں ماں سے ڈر اور دوری پیدا ہوجائے گی۔ بچے معصوم ہوتے ہیں انجانے میں غلطی کر جاتے ہیں، زیادہ سختی کرنے سے وہ باتوں کو چھپانے لگتے ہیں۔ جبکہ ماں کے محبت اور شفقت سے سمجھانے پر بچہ اپنی غلطی کو ٹھیک سے سمجھتا ہے اور آئندہ اپنی غلطی کو دہرانے سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ ماں کو چاہئے کہ وہ اپنے بچے سے پیار سے بات کرے۔ بچے کی باتوں کو سنیں اور سمجھیں۔ اور بچے کو پیار بھرے انداز میں صحیح اور غلط میں فرق سمجھائے۔ ماں اگر اس طریقہ کو اپنائے گی تو بچہ نہ صرف ایک اچھا انسان بننے کی کوشش کرتا ہے بلکہ اس کا یقین بڑھتا اور مضبوط ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نکھری اور چمکدار جلد کیلئے کوکونٹ مِلک سے ماسک تیار کریں

چیخنا چلانا

بچہ جب بھی کوئی غلطی کرے تو ماں کو اس بچے پر چیخنا چلانا نہیں چاہئے۔ بہتر یہ ہے کہ بچے کے ساتھ پُرسکون لہجے میں بات کی جائے۔ اکثر بچوں سے غلطیاں ہوتی ہیں یہ فطری بات ہے۔ اور ان ساری غلطیوں کے ذریعے سے ہی بچہ سیکھتا ہے۔ اگر ماں محبت اور خلوص کیساتھ بچے کو سمجھائے گی تو بچہ اپنی غلطی کو اور بہتر طریقے سے سمجھے گا۔ اور غلطی کو دوبارہ نہ کرنے کی پوری کوشش کرے گا۔ بچے کیساتھ بہت زیادہ سختی کرنے پر ڈانٹ ڈپٹ کرنے پر بچہ بہت ڈر جاتا ہے۔ اس کے معصوم سے نازک دل میں ڈر پیدا ہوجاتا ہے۔ اور اس کے یقین اور دماغ پر منفی اثر پڑتا ہے۔ اسلئے یہ بہت ضروری ہے کہ ماں کو چاہئے کہ وہ صبر پیار و محبت کے ساتھ بچے کی پرورش اور تربیت کرے۔

دھمکیاں دینا

اگر بچہ کوئی غلطی کرے یا ماں کا کہنا نہ مانے تو ماں کو اس بچے کے کھلونے نہیں چھیننا چاہئے۔ اسے دھمکی نہیں دینا چاہئے کہ ’’مَیں تمہارا کھلونا چھین لوں گی۔‘‘ اچھا ہوگا کہ بچے کو نرمی اور پیار کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کرنا چاہئے۔ بچے معصوم ہوتے ہیں ماں کی زیادہ سختی دکھانے پر بچے کے اندر ڈر اور ضد پیدا ہوجاتی ہے۔ جب ایک ماں بچے کو پیار و محبت کے ساتھ سمجھاتی ہے، اسے اس کی، کی گئی غلطی کا احساس کراتی ہے تو بچہ اس غلطی کو دوبارہ کرنے کے بارے میں سوچتا ہی نہیں ہے۔ ایسا کرنے سے بچہ اپنے اندر اعتماد اور اچھا اخلاق پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور ماں اپنے بچے کی تربیت اور بہتر انداز میں کرسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سلکی بالوں کو کرل کرنا مشکل، یہ طریقہ کارگر

کمرے میں بند کرنا

بچے کی غلطی پر ماں کو اسے اکیلے اندھیرے بند کمرے میں نہیں چھوڑنا چاہئے۔ اس سے زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ بچے کو ایک اچھی، پُرسکون اور محفوظ جگہ پر کچھ وقت کے لئے بٹھائے۔ ایسا کرنے سے بچہ اپنی کی گئی غلطی کے بارے میں اکیلے بیٹھ کر سوچے گا اور اپنے آپ کو وہ اکیلا اور ڈرا ہوا بھی محسوس نہیں کرے گا۔ سکون اور خوشگوار ماحول میں بیٹھنے سے بچہ اپنے جذبات کو سمجھ سکتا ہے۔ اسے قابو میں رکھ سکتا ہے۔ اور بہتر سے بہتر انداز میں چیزوں کو سیکھ سکتا ہے۔ آگے بھی غلطی کرنے کے بارے میں سوچنا ہی نہیں۔ یہ طریقہ اپنانے سے ماں اپنے بچے کی اور بہتر رہنمائی اور بہترین تربیت کرسکتی ہے جو کہ بچے کی تربیت میں مفید ثابت ہوتی ہے۔

ایک ماں بچے کی اچھی تربیت سے معاشرے کی بنیاد بناتی ہے۔ بچے کی پہلی استاد ماں ہوتی ہے جو اپنے بچے کو نہ صرف بولنا اور چلنا سکھاتی ہے بلکہ اچھے اخلاق، سچائی اور احترام جیسے اہم اقدار بھی سکھاتی ہے۔ بچے کی اچھی اور صحیح تربیت میں ماں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ کیونکہ ہر بچہ اپنی ماں کے رویے اور عادتوں پر دیکھ کر سیکھتا ہے۔ اگر ماں اپنے بچے کی تربیت محبّت، صبر اور حکمت کے ساتھ کرے تو بچہ آگے چل کر معاشرے میں ایک اچھا، ذمہ دار اور بااخلاق انسان بن سکتا ہے۔ بچوں کو ذمہ دار انسان بنانے کی کوشش ہونی چاہئے نہ کہ اس کے دل میں ڈر اور خوف پیدا کرنے کی۔ ایک ماں کی اچھی تربیت نہ صرف بچے پر بلکہ پورے معاشرے کی بہتری کا سبب بنتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK