ہم دوسروں کو ان کی ذمہ داریاں تو زور شور سے یاد دلاتے ہیں لیکن اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنا پسند کرتے ہیں۔ یہی ضد اور انا آپس کی رنجشوں کو بڑھاتی ہے جس کا نتیجہ، بسا اوقات، یہ نکلتا ہے کہ ہنستے کھیلتے خاندان بکھر جاتے ہیں۔ذرا سی انا کی خاطر لوگ سالہا سال تنہا رہنا اور اپنوں سے کٹ کر جینا تو قبول کر لیتے ہیں مگر اپنے گلے شکوے مٹا کر ساتھ جینے کو تیار نہیں ہوتے۔
پرانے وقتوںمیں لوگ فراخ دل تھے، تلخیاں بھلا کر ایک دوسرے کے گلے مل جایا کرتے تھے۔ تصویر: آئی این این
ایک سمجھدار عورت کی نظر میں اٹھتے بیٹھتے ہر وقت رشتے اور اپنا پیارا خاندان ہی سب سے قیمتی اثاثہ ہوتا ہے۔ ہم عورتیں تو ویسے بھی دل سے سوچتی ہیں اور یہ بات بخوبی جانتی ہیں کہ اس بھاگتی دوڑتی دنیا میں ہر انسان کو اپنوں کے سہارے کی کتنی ضرورت پڑتی ہے؟ اَجنبی لاکھ اچھے ہوں مگر ضرورت کے وقت اپنے ہی کام آتے ہیںخواہ وہ خون کے رشتے ہوں یا سسرالی ناطے۔ محبتوں کا حسین بندھن ہو یا پھر اچھے پڑوسیوں کا ساتھ۔ جو جتنا دل کے قریب ہوگا اسے ہماری تکلیف کا اتنا ہی احساس ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے مذہب اور اقدار میں رشتوں کو جوڑ کر رکھنے اور نبھانے پر بہت زور دیا گیا ہے مگر افسوس! جیسے جیسے ہم ظاہری ترقی اور مادّیت کی دوڑ میں آگے بڑھ رہے ہیں، ہمارے رشتے اندر سے اتنے ہی کھوکھلے ہوتے جا رہے ہیں۔ آج مادی آسائشوں نے ہمیں خود کفیل تو بنا دیا ہے لیکن دلوں سے بے غرض اپنائیت ختم کر دی ہے۔ اب ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں کسی کی کوئی مدد نہیں چاہئے، اس لئے کسی سے بلاوجہ کا رابطہ رکھنے کی بھی ضرورت نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بچّوں کی بہترین پرورش مضبوط، باوقار اور خوشحال قوم کی ضمانت
پرانے وقتوں میں جب گھروں میں مال و دولت کی کمی تھی، شادی بیاہ کے موقع پر کتنے ہی ہاتھوں کی ضرورت پڑتی تھی؟ تب لوگ سالوں پرانی تلخیاں بھلا کر ایک دوسرے کے گلے مل جایا کرتے تھے، تاکہ تقریب بخیر و خوبی انجام پائے۔ آج اللہ کا شکر ہےکہ فراوانی ہے، رشتے دار نہ آئیں تو پیسے پھینک کر کرائے پر کام کرنے والے لوگ مل جاتے ہیں، اس لئے اب اپنوں کو منانے کی زحمت کون گوارا کرے؟ مگر سچ پوچھیں تو اپنوں کے ہونے سےجو خلوص بھری دعائیں اور محبتیں ملتی ہیں وہ دنیا کی کسی دولت سے نہیں خریدی جا سکتیں۔ آج کا المیہ یہ ہے کہ رشتے دار، سگے چچا، ماموں، پھوپھی اور خالہ تو کیا؟ سگے ماں باپ کی خوشی اور رضامندی تک کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ اپنی من مانی اور نام نہاد پسند کے چکر میں انسان اپنوں کے دل توڑ کر رکھ دیتا ہے۔ بھلا ایسی بنیادوں پر خوشیوں میں کبھی برکت آسکتی ہے؟
یہ بھی پڑھئے: ڈجیٹل دُنیا خواتین کو کئی مواقع فراہم کر رہی ہے
بات صرف شادی بیاہ یا تقریبات کی نہیں ہے، اصل دُکھ تو یہ ہے کہ آج کے اِس پرتعیش دور میں گھر قیمتی فرنیچر اور سجاوٹ سے تو بھرتے جا رہے ہیں مگر محبت اور اپنائیت سے خالی ہوتے جا رہے ہیں۔ باپ کو بیٹے کی خبر نہیں اور بیٹے کو باپ کی کوئی پروا نہیں۔ بیوی شوہر سے بیزار ہے اور شوہر کو بیوی کے سکون کی کوئی فکر نہیں۔ ان کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم سب اپنا حق تو بہت مانگتے ہیں لیکن دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی ذرا بھی پروا نہیں کرتے۔ بیوی چاہتی ہے کہ اس کا شوہر اس کی ہر ضرورت پوری کرے، اس کی نازبرداری کرے مگروہ خود اس کے لئے گھر کا سکون اور محبت کا باعث نہیں بنتی۔ دوسری طرف شوہر یہ تمنا رکھتا ہے کہ اس کی بیوی ہر بات میں اس کی تابع رہے لیکن خود اس کی خوشی اور آرام کا خیال نہیں رکھتا۔ یہی حال تقریباً ہر رشتے کا ہے۔ ہم دوسروں کو ان کی ذمّےداریاں تو زور شور سے یاد دلاتے ہیں لیکن اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈال لیتے ہیں۔ یہی ضد اور انا آپس کی رنجشوں کو بڑھاتی ہے اور بات یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ ہنستے کھیلتے خاندان بکھر جاتے ہیں۔ ذرا سی انا کی خاطر لوگ سالہا سال تنہا رہنا اور اپنوں سے کٹ کر جینا تو قبول کر لیتے ہیں مگر اپنے گِلے شکوے مٹا کر ساتھ جینے کو تیار نہیں ہوتے۔
اس دُوری کی ایک بڑی وجہ ہماری اپنی کم علمی بھی ہے۔ ہم نے بس وہ باتیں سیکھ رکھی ہیں جو ہمارے مفاد میں ہوں اور دوسروں سے حسنِ سلوک کے احکامات کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ مثال کے طور پر اکثر مرد حضرات یہ حدیث بڑے فخر سے دہراتے نظر آتے ہیں کہ اگر کسی کو سجدہ کرنے کی اجازت ہوتی تو بیوی کو حکم دیا جاتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ دوسری احادیث میں یہ بھی تو کہا گیا ہے کہ برا ہے وہ انسان جو رات کو اپنی بیوی سے ضرورت پوری کرے اور دن میں اسے مارے پیٹے یا گالیاں دے اور بہترین انسان وہ ہے جو اپنے گھر والوں کیلئے سب سے اچھا ہو۔ اسی طرح والدین بھی اکثر یہ کہتے سنے جاتے ہیں کہ اولاد کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ والدین کے سامنے اُف بھی کرے مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر انہوں نے بچپن میں اپنی اولاد کی اسلامی اور اخلاقی تربیت پر دھیان دیا ہوتا تو آج انہیں یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ یاد رکھئےکہ والدین کی ذمّےداری صرف بچوں کا پیٹ پالنا اور اسکول کالج یا کوچنگ کی فیسیں بھر دینا نہیں، ان کی تربیت سب سے اہم ہے۔اپنوں سے دُوری اور نااتفاقی کی جڑ انا کا مسئلہ ہے، اسے ختم کرنےکی ضرورت ہے۔ آئیے دلوں سے کدورتیں نکالیں، محبتیں بانٹیں اور خوش رہیں۔ یاد رکھئےکہ بیتا ہوا وقت اور گزرے ہوئے لوگ لوٹ کر واپس نہیں آتے۔