زکوٰۃ سال بھر میں کبھی بھی ادا کی جاسکتی ہے لیکن ۷۰؍ گنا اجر حاصل کرنے کی نیت سے ہم میں سے بیشتر لوگ اس مبارک مہینے کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ اچھی بات ہے۔ اس مضمون میں بااختیار خواتین کی توجہ زکوٰۃ کی ادائیگی کی طرف دلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ساتھ ہی مستحقین کو تلاش کرکے زکوٰۃ دینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
بہت سی عورتیں صاحبِ نصاب ہیں اس لئے انہیں زکوٰۃ کی ادائیگی کیلئے بھی فعال رہنا چاہئے۔ تصویر: آئی این این
رمضان کا مہینہ مسلمانوں کے لئے بہت اہم ہے۔ ہم اس ماہ بدنی، مالی ان دو عبادتوں کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔ روزہ تو فرض ہے روزہ نماز تلاوت جیسی بدنی عبادت کے ساتھ صدقہ کی کثرت اور زکوٰۃ کی ادائیگی بھی اس ماہ خوب ہوتی ہے۔ سالانہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے ماہ رمضان کا انتخاب پورے معاشرہ نے اپنا لیا ہے وجہ ۷۰؍ گنا اجر کا لالچ اور سالانہ حساب کی گڑبڑ بھی نہیں ہوتی۔ امسال جس طرح سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے تو زکوٰۃ کی رقم جو سونے پر نکالی جاتی ہے وہ بھی زیادہ بن رہی ہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی اس کی طے شدہ ۸؍ مدوں میں ہوں اس پر نظر ہونا چاہئے۔ مَیں اپنی ان بہنوں سے مخاطب ہوں جو مالی طور پر بااختیار ہیں۔ ملازمت یا کاروبار کے ذریعہ مالی طور پر مستحکم جن خواتین پر زکوٰۃ واجب ہے یہاں ان کی ذمہ داری صرف زکوٰۃ نکالنے کی ہی نہیں بلکہ تقسیم کرنے تک بہت اہم ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ رکوٰۃ کی ادائیگی کی ۸؍ مدیں ہیں، یعنی زکوٰۃ کے آٹھ مصارف ہیں:
(۱)فقیر
وہ شخص جس کے پاس نصاب سے کم مال ہو اور ضروریات پوری نہ ہوتی ہوں۔
(۲)مسکین
وہ شخص جو فقیر سے بھی زیادہ تنگ دست ہو اور اس کے پاس کچھ بھی نہ ہو یا بہت کم ہو۔
(۳)عاملین ِ زکوٰۃ
وہ لوگ جو اسلامی حکومت کی طرف سے زکوٰۃ جمع کرنے اور تقسیم کرنے پر مقرر ہوں۔
(۴)مؤلفۃ القلوب
وہ لوگ جن کے دلوں کو اسلام کی طرف مائل کرنا مقصود ہو (ابتدائی دور میں اس کا استعمال زیادہ تھا)۔
(۵)رقاب
غلاموں کو آزاد کرانے کیلئے زکوٰۃ دینا۔
(۶)غارمین
وہ مقروض لوگ جو قرض میں دبے ہوں اور ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔
(۷)فی سبیل اللہ
اللہ کی راہ کے کاموں میں، خصوصاً ایسے دینی کام جن میں کوئی مستحق شخص شامل ہو۔
(۸)ابن السبیل
وہ مسافر جو سفر میں محتاج ہو گیا ہو اگرچہ اپنے وطن میں مالدار ہو۔
یہ بھی پڑھئے: عید کے موقع پر چہرے کی شادابی بڑھانے کیلئے یہ نسخہ آزمائیں
درج بالا مدوں میں آپ جہاں چاہیں وہاں زکوٰۃ دے سکتی ہیں:
اسی سلسلے میں مجھے اپنے پروفیسر مرحوم علیم نختارے سَر کی بات یاد آتی ہے۔ سر کہا کرتے تھے زکوٰۃ کی ادائیگی میں اس بات کا خیال رکھیں کہ اگر ہم کسی کو خود کفیل بنا سکیں تو بنا دیں یعنی کوئی ہنر سکھا دیں، دکان یا سامان کے لئے رقم دے کر اس کا کاروبار شروع کرواسکیں، کسی کی کورس کی فیس ادا کر دیں، رکشا دلوا دیں، کام کشروع کرنے کے لئے سلائی مشین جیسی دیگر مشین کی ضرورت ہو تو وہ بندوبست زکوٰۃ کے پیسوں سے کر دیں تاکہ وہ انسان خود کفیل بن سکے۔ اگر ایک شخص کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں زکوٰۃ کی رقم لگائی جائے تو وہ اس کا احسن مصرف ہے۔
پیاری بہنو! ماہ رمضان میں بہت سے لوگ آپ کے پاس زکوٰۃ کی رقم کے لئے آتے ہیں۔ ایک روایت یہ بھی بن گئی ہے کہ ایک مرتبہ کسی کو رقم دو تو وہ ہر سال پابندی سے آتے ہیں گویا یہ لگی بندھی رقم اب ہر سال ملنا طے ہے۔ کئی افراد سے اس طرح پیسے جمع کرنا کچھ لوگوں کا رجحان بن گیا ہے۔ ان میں کتنے مستحق ہیں؟ کتنے عادتاً مانگتے ہیں؟ زکوٰۃ مانگنے والے کم علم کم شعور والے ہوسکتے ہیں۔ لیکن جن کو زکوٰۃ ادا کرنی ہے ان پر یہ لازم ہے کہ وہ باعلم رہیں اور اصل مستحق کو تلاش کرکے ان تک زکوٰۃ کی رقم پہنچائیں۔ ہر سال ایک ہی شخص کو زکوٰۃ ادا کرنے کی روایت کو ختم کرنے کی کوشش ہونی چاہئے کیونکہ جب اللہ ہم سے پوچھے گا تب کیا جواب دیں گے۔
باعلم نہ صرف زکوٰۃ کہ مدوں و مصارف سے بلکہ اپنے آس پاس کے ماحول میں زکوٰۃ کے حقیقی مستحقین سے اگر اللہ نے ہمیں صاحب نصاب بنایا ہے تو اس کی رحمت وعطا پر شکر ادا کرتے ہوئے ہمیں ذمہ داری بھی نبھانی ہے۔
ہم آج کے دور کی بااختیار خواتین ہیں۔
ہم آزاد بھی ہیں کہ اپنے پیسے پر ہمیں پورا اختیار بھی ہے۔ یہ اچھی بات ہے۔ مگر اس آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی ۱۰۰؍ فیصد ہم پر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کیا آپ کی عیدالفطر کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں؟
ہماری نانیوں دادیوں کے دور میں وہ بڑی بے اختیار زندگی گزار کر اس دنیا سے چل بسیں۔
پیسے کے تمام اختیارات و انتظامات عموماً مردوں کے ذمہ ہوا کرتے تھے سارے حساب کتاب کا معاملہ عورتوں سے دور رکھا جاتا تھا اس لئے حشر میں ان کی پکڑ بھی نہیں ہوگی۔ لیکن ہم تو با اختیار ہیں ہماری پکڑ بڑی سخت ہوگی۔
اس لئے دُنیا کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت کو سنوارنے کی فکر کریں اور زکوٰۃ کی رقم ادا کرنے میں کوتاہی نہ برتیں۔