Inquilab Logo Happiest Places to Work

تحفہ دینا چاہئے مگر اِن باتوں کا خیال رکھیں

Updated: July 16, 2026, 2:48 PM IST | Odhani Desk | Mumbai

عام طور پر شادی بیاہ، بچے کی پیدائش، سالگرہ وغیرہ پر تحفے دیئے جاتے ہیں مگر ضروری نہیں کہ تحفہ کسی موقع پر ہی دیا جائے۔ تحفوں کا لین دین موقع کے بغیر بھی ممکن ہے۔

Even if the gift is a rose, it brings a smile to the faces of those around you. Photo: INN
تحفہ گلاب کا پھول ہی کیوں نہ ہو، اپنوں کے چہرے پر مسکراہٹ لے آتا ہے۔ تصویر: آئی این این

تحفہ دینا چاہئے یہ ہمارے نبی کریمؐ کی سنت ہے۔ ایک دوسرے کو تحفہ دینے سے آپس میں محبت بڑھتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ تحفہ ملنے پر خوشی محسوس ہوتی ہے۔ عام طور پر شادی بیاہ، بچے کی پیدائش، سالگرہ وغیرہ پر تحفے دینا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، نیا گھر خریدنے، ملازمت ملنے یا امتحانات میں کامیاب ہونے پر بھی تحفے دیئے جاتے ہیں۔ آج کل مدرس ڈے، فادرز ڈے، وائف یا ہسبنڈ ڈے پر بھی تحائف دینے کا رواج فروغ پا رہا ہے۔

تحفہ وصول کرتے وقت تو خوشی ہوتی ہے لیکن موقع کی مناسبت سے تحفہ دینا ایک مشکل کام ہے کیونکہ سامنے والے کے لئے کون سا تحفہ مناسب ہوگا؟ یہ سمجھنا بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ تحفہ دینے والے کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ تحفہ قیمتی ہو ضروری نہیں لیکن اس کا حسنِ انتخاب شرط ہے۔ لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اکثر امیر رشتہ دار کو تحفہ دیتے وقت کچھ افراد احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں۔اس صورت میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ تحفہ کو تحفہ کی طرح قبول کرنا چاہئے، دینے والی کی نیت کو اہمیت دینا چاہئے۔ اس کی قیمت پر توجہ نہیں دینی چاہئے۔ اگر تحفہ کسی اپنے کو دے رہے ہیں تو اس کی پسند اور ناپسند کا خیال رکھنا چاہئے۔ عام طور پر کپڑے، ضروریات کی چھوٹی موٹی چیزیں، گھریلو آرائشی اشیاء اور کھلونے وغیرہ دیئے جاتے ہیں۔ کچھ نہ سمجھ پانے کی صورت میں پھول کا انتخاب کیا جاتا ہے جو انتہائی خوبصورت تحفہ ہوتا ہے۔ اسے پانے والا ہمیشہ خوش ہوتا ہے۔ بازار یا آن لائن گلدستے کے کئی متبادل مل جائیں گے۔ ہاں، بڑے بڑے گلدستے نہیں دینا چاہئے کیونکہ اسے لے کر جانا اور گھر میں رکھنا مسئلہ ہوسکتا ہے۔ بچوں کو ان کی سالگرہ یا کامیابی پر کھلونے، گیمز، کتابیں وغیرہ دی جاتی ہیں۔ بعض دفعہ تو کئی کئی لوگ ایک ہی جیسی چیز لے کر پہنچتے ہیں۔ یہ اتفاق ہوتا ہے مگر صاحبِ خانہ کیلئے انہیں رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’سوری‘ کہنا اچھا ہے مگر ہر بات پر سوری، سوری کہنا اچھا نہیں

تحفہ کا انتخاب کرتے وقت دانشمندی سے کام لینا چاہئے یوں نہیں کہ بس خانہ پری کردی۔ بچوں کی بہتر کارکردگی جیسے امتحان میں کامیابی اور دیگر مقابلوں میں جیتنے پر ہر کسی کو تحفہ دینا ہی چاہئے۔ اس سے ملنے والی خوشی تو عارضی ہوتی ہے مگر بچے کی جو ہمت افزائی ہوتی ہے وہ دائمی ہوتی ہے اور زندگی میں آگے بڑھنے میں اس کا حوصلہ افزائی کا سبب بنتی ہے۔ زبانی تعریف و توصیف بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے جس میں پیسوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آج کل کتابوں کے تحفے کم ہی دیئے جاتے ہیں جو بہترین کہلائے جاسکتے ہیں۔ بچے کو اس کی عمر کے لحاظ سے اگر خوبصورت اور کارآمد کتابیں دی جائیں تو وہ زندگی بھر اس کا ساتھ نبھائیں گی۔

کسی مریض کی عیادت کیلئے جاتے وقت اگر ایک پھول بھی لیا جائے تو وہ اس کے مرجھائے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر سکتا ہے۔ پھول اپنی مختصری زندگی میں لوگوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ لانے کا عظیم کام انجام دیتے ہیں۔ لمبی بیماری سے شفایاب ہونے یا ملازمت سے سبکدوش ہونے پر بھی لوگ تحفے دیتے ہیں۔ مقصد صرف اپنی خوشی کا اظہار ہوتا ہے اور لینے والے کو اپنی اہمیت کا احساس ہوتا ہے جو ایسی زندگی کی ایک نئی روح پھونک دیتا ہے۔ تھوڑے سے پیسے خرچ کرکے بہت بڑی خوشی خریدی جاسکتی ہے۔

دنیا میں ایسے بھی لوگ ہیں جو کبھی کسی کو کچھ دینا پسند نہیں کرتے۔ جس طرح دینے والے موقع کے متلاشی ہوتے ہیں اور مختلف بہانوں سے دیتے ہیں اسی طرح نہ دینے والے بھی بہانہ ڈھونڈتے ہیں۔ مثلاً قریبی رشتہ داروں اور اپنے خاندان کے افراد کو اس لئے نہیں دیتے کہ اپنے ہی لوگ ہیں۔ سب کچھ ان کا ہی تو ہے۔ دور کے رشتہ دار ہوں تو انہیں دینا ضروری نہیں۔ کچھ لوگ یہ بہانہ بناتے ہیں کہ انہیں کس چیز کی کمی ہے۔ سب کچھ تو ہے تو ان کے پاس پھر دینے کی کیا ضرورت۔ کچھ لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ کس نے انہیں کیا دیا تھا؟ اگر نہیں دیا تو پھر وہ کیوں دیں وغیرہ وغیرہ۔ غرض دینے کے اگر سو بہانے ہیں تو نہ دینے کے بھی دو سو بہانے ہیں۔ لیکن اپنے آپ کو تحفہ دینے والوں میں شامل کریں تاکہ دل کو اطمینان اور خوشی ملے اور اگر کوئی آپ کو تحفہ نہیں دیتا ہو تو اس پر اپنا دل چھوٹا نہ کریں بلکہ وقتاً فوقتاً خود کو تحفہ دیں۔ اپنے لئے پھول خریدیں یا کوئی پسندیدہ شے اپنے لئے خریدیں کیونکہ اپنے آپ کی بھی حوصلہ افزائی ضروری ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یہ ہنر سیکھ لئے جائیں تو شخصیت میں اعتماد پیدا ہوتا ہے

یاد رکھیں، تحفہ دینے کے لئے ضروری نہیں کہ کوئی تقریب ہی ہو۔ بلا وجہ بھی تحفہ دیا جاسکتا ہے۔ مثلاً اگر آپ کسی کے گھر جارہے ہوں تو خالی ہاتھ نہ جائیں بلکہ کچھ پھل یا مٹھائیاں ہی خرید لیں۔ اگر گھر میں بچے ہوں تو چاکلیٹ سے اچھا تحفہ کیا ہوسکتا ہے۔

معاشی طور پر کمزور رشتہ دار کے یہاں جا رہے ہیں تو واپس لوٹتے وقت بچوں کو نقد دے سکتے ہیں، اس سے ان کی مدد ہوجائے گی اور ان کی خودداری کو بھی ٹھیس نہیں پہنچے گی۔ ساتھ ہی اپنے بچوں کو بھی تحفہ کی اہمیت سے آگاہ کریں اور انہیں اپنے دوستوں کو تحفہ دینے کیلئے آمادہ کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK