Inquilab Logo Happiest Places to Work

’سوری‘ کہنا اچھا ہے مگر ہر بات پر سوری، سوری کہنا اچھا نہیں

Updated: July 15, 2026, 1:00 PM IST | Momin Rizwana Mohammad Shahid | Mumbai

آج کی نو عمر بچیوں کی گفتگو پر اگر غور کیا جائے تو محسوس ہوگا کہ ’سوری‘ ان کے جملوں کا لازمی حصہ بنتا جا رہا ہے۔ کبھی سوال پوچھنے پر سوری، کبھی اپنی رائے دینے پر سوری، کبھی کسی کی توجہ چاہنے پر سوری، حتیٰ کہ اپنی موجودگی پر بھی سوری۔ اس ذہنیت کو سمجھنے اور بدلنے کی سخت ضرورت ہے۔

Apologizing is a sign of character. But saying sorry over and over again affects one`s character. Photo: INN
معافی مانگنا کردار کی خوبصورتی ہے۔ لیکن بات بات پر سوری کہنے سے شخصیت متاثر ہوتی ہے۔ تصویر: آئی این این

’’سوری....!‘‘ ایک چھوٹا سا لفظ.... مگر بعض اوقات یہی لفظ کسی شخصیت کی اندرونی کیفیت کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ آج کی نو عمر بچیوں کی گفتگو پر اگر غور کیا جائے تو محسوس ہوگا کہ ’سوری‘ ان کے جملوں کا لازمی حصہ بنتا جا رہا ہے۔ کبھی سوال پوچھنے پر سوری، کبھی اپنی رائے دینے پر سوری، کبھی کسی کی توجہ چاہنے پر سوری، حتیٰ کہ اپنی موجودگی پر بھی سوری۔ ایسا نہیں کہ ہماری بیٹیاں بدتمیز ہیں یا انہیں معافی مانگنے کا بے جا شوق ہے، بلکہ اس کے پیچھے ایک پورا سماجی پس منظر ہے، جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ہم نے اپنی بیٹیوں کو ہمیشہ یہ سکھایا کہ نرم گو رہو، برداشت کرو، بڑوں کی عزت کرو، کسی کا دل نہ دکھاؤ۔ یہ تمام تعلیمات اپنی جگہ بے حد قیمتی ہیں، مگر بعض اوقات ان کی تعبیر اس انداز میں کی جاتی ہے کہ بچی ہر وقت خود کو ہی غلط سمجھنے لگتی ہے۔ وہ اپنی خواہش، اپنی رائے اور اپنی ضرورت کو بھی دوسروں پر بوجھ محسوس کرتی ہے۔

یوں ’’سوری‘‘ اس کی زبان پر نہیں، اس کی شخصیت پر لکھا جانے لگتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یہ ہنر سیکھ لئے جائیں تو شخصیت میں اعتماد پیدا ہوتا ہے

اس میں صرف گھر کا ماحول ہی ذمہ دار نہیں۔ آج سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، جہاں ہر بات پر رائے دی جاتی ہے، ہر تصویر پر تبصرہ ہوتا ہے اور ہر اختلاف کو تنقید کا رنگ دے دیا جاتا ہے۔ نو عمر ذہن اس ماحول سے بہت جلد متاثر ہوتے ہیں۔ انہیں محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید خاموش رہنا یا پہلے سے معذرت کر لینا ہی محفوظ راستہ ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر بات پر معذرت کرنا واقعی اچھے اخلاق کی علامت ہے؟

اسلام نے ہمیں حسنِ اخلاق سکھایا ہے، مگر ساتھ ہی عزتِ نفس بھی عطا کی ہے۔ نبی کریمؐ کی سیرت میں انکساری بھی ہے اور وقار بھی۔ آپؐ نے غلطی پر معافی مانگنے کی تعلیم دی، مگر کبھی یہ تعلیم نہیں دی کہ انسان بغیر کسی قصور کے خود کو مجرم ثابت کرتا پھرے۔

یہ بات خاص طور پر ہماری بیٹیوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ سوال پوچھنا بے ادبی نہیں، اپنی رائے دینا گستاخی نہیں، اپنی ضرورت بیان کرنا خود غرضی نہیں اور اپنے حق کی بات کرنا غرور نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: بالوں کو مضبوط بنانے کے لئے پیاز کا عرق کارگر

اگر آپ سے واقعی غلطی ہوئی ہے تو دل سے ’’سوری‘‘ کہئے، کیونکہ معافی مانگنا کردار کی خوبصورتی ہے۔ لیکن اگر آپ نے صرف اپنی بات کہی ہے، اپنی ذمہ داری نبھائی ہے یا ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے اختلاف کیا ہے تو ہرگز خود کو قصوروار محسوس نہ کیجئے۔

ایک اور پہلو بھی قابلِ توجہ ہے۔ جو لڑکی ہر وقت دوسروں سے معذرت کرتی رہتی ہے، وہ آہستہ آہستہ خود اپنی نظروں میں بھی اپنی اہمیت کم کر دیتی ہے۔ اسے لگنے لگتا ہے کہ شاید اس کی خوشی، اس کی رائے یا اس کے خواب دوسروں سے کم اہم ہیں۔ یہی احساس آگے چل کر خود اعتمادی کی کمی، فیصلہ کرنے میں ہچکچاہٹ اور دوسروں پر غیر ضروری انحصار کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

والدین اور اساتذہ کو چاہئے کہ وہ بچیوں کی تربیت میں توازن پیدا کریں۔ انہیں ادب کے ساتھ اعتماد بھی دیں، انکساری کے ساتھ خودداری بھی سکھائیں، اور یہ احساس بھی دلائیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو عزت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔

ہماری بیٹیاں ایسی ہوں کہ اگر ان سے غلطی ہو تو معذرت کرنے میں دیر نہ کریں، اور اگر وہ حق پر ہوں تو احترام کے ساتھ اپنی بات کہنے میں بھی نہ ہچکچائیں۔ زندگی میں بعض اوقات ’’سوری‘‘ سے زیادہ ضروری دو جملے ہوتے ہیں:

’’میری بھی ایک رائے ہے!‘‘ اور.... ’’مجھے اپنی بات کہنے کا حق ہے۔‘‘

ہمیں اپنی بیٹیوں کو یہی اعتماد دینا ہوگا، کیونکہ ایک باوقار لڑکی نہ صرف اپنی شخصیت کو نکھارتی اور سنوارتی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کی تربیت کا معیار بھی بلند کرتی ہے۔ موجودہ دور کی خوش آئند بات یہ ہے کہ نئی نسل صحیح اور غلط کا فرق بخوبی جانتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوعمر بچیاں صحیح اور غلط کا فرق سمجھتے ہوئے اپنی رائے پیش کرتی ہیں جو اچھی بات ہے۔ حالانکہ انہیں اپنی بات تمیز کے دائرے میں رہتے ہوئے اعتماد کے ساتھ کہنا چاہئے۔ نوعمر بچیاں ’پرسنل اسپیس‘ کے متعلق بھی حساس ہوتی ہیں۔ یقیناً ہر شخص کا اپنی ذات پر حق ہے اس لئے ہر کوئی پرسنل اسپیس چاہتا ہے۔ گھر کے بڑوں کا بھی بیٹیوں کو ہر بات میں روکنا ٹوکنا درست نہیں، ہاں اُن کی رہنمائی کرنا ضروری ہے جو نرم انداز میں ہونا چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے: یہ سبزیاں بچوں کا قد بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں

آخر میں صرف اتنی سی بات:

معافی مانگنا حسنِ اخلاق ہے، لیکن ہر وقت خود کو قصوروار سمجھنا حسنِ اخلاق نہیں، بلکہ خود اعتمادی کی کمی کی علامت بن سکتا ہے۔ اپنی بیٹیوں کو باادب ضرور بنائیے، مگر اس کے ساتھ انہیں یہ بھی سکھائیے کہ وہ اللہ کی عطا کردہ عزتِ نفس کی حفاظت کرنا جانیں۔ یہی توازن انہیں مضبوط، باوقار اور کامیاب عورت بنائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK