Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی کی بیٹی نے تاریخ رقم کی، سی اے اور اے سی سی اے دونوں امتحان میں کامیابی

Updated: July 16, 2026, 1:02 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

عصری تعلیم کے ساتھ دین سے بھی مضبوط وابستگی، ۲۹؍ پارے حفظ کرلئے، ۳۰؍واں پارہ آخری مرحلے میں، ملازمت کی متعدد پیشکشوں کے باوجود گھر سے پیشہ ورانہ خدمات انجام دینے کو ترجیح ۔

Talented student Ingila Pathan. Photo: INN
ہونہار طالبہ انجیلا پٹھان۔ تصویر: آئی این این

محنت، عزم، مستقل مزاجی اور دینی و اخلاقی اقدار کے حسین امتزاج نے بھیونڈی کی ایک مسلم بیٹی کو وہ اعزاز بخشا ہے جس پر پورا شہر فخر کر رہا ہے۔ شہر کی ہونہار طالبہ انجیلا پٹھان نے بیک وقت چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ (سی اے ) اور اسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹینٹ (اے سی سی اے) کے امتحانات کامیابی سے پاس کرکے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ بھیونڈی کا نام بھی قومی اور بین الاقوامی سطح پر روشن کیا ہے۔ اس نمایاں کامیابی کے ساتھ وہ بھیونڈی کی پہلی مسلم طالبہ بن گئی ہیں جس نے یہ دونوں اعلیٰ پیشہ ورانہ اسناد حاصل کی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: سیٹوں میں ۵۰؍ فیصد اضافہ ہوا تو ہم ’حلقہ بندی بل‘ کی حمایت کریں گے: سپریہ سلے

انجیلا پٹھان کی والدہ جویریہ قاضی نے نمائندۂ انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی صاحبزادی کا یہ سفر کئی برسوں کی مسلسل محنت، سخت نظم و ضبط، مستقل مزاجی اور بلند حوصلوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انجیلا نے کبھی شارٹ کٹ پر یقین نہیں رکھا بلکہ ہر مرحلے پر پوری دیانت داری اور لگن کے ساتھ اپنی منزل کی طرف قدم بڑھائے۔انہوں نے بتایا کہ انجیلا کی ابتدائی تعلیم کے ایم ای ایس انگلش اسکول میں پانچویں جماعت تک ہوئی، جبکہ چھٹی سے دسویں جماعت تک انہوں نے اسکالر اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد گیارہویں اور بارہویں جماعت بی این این کالج سے مکمل کی، پھر بی کام کی ڈگری حاصل کی اور بعد ازاں ایم کام ڈسٹنس ایجوکیشن کے ذریعے مکمل کیا۔تعلیم کا سفر یہیں نہیں رُکا بلکہ انہوں نے پہلے ہندوستان کے چارٹرڈ اکاؤنٹنسی ادارے سے سی اے کی پیشہ ورانہ اہلیت حاصل کی اور اس کے بعد برطانیہ کے ادارے سے اے سی سی اے مکمل کرکے عالمی سطح کی پیشہ ورانہ شناخت حاصل کی۔ اس کامیابی کے بعد وہ بین الاقوامی سطح پر خدمات انجام دینے کی اہل بن گئی ہیں۔جویریہ قاضی نے بتایا کہ انجیلا کی کامیابی صرف عصری تعلیم تک محدود نہیں بلکہ دینی شعور بھی ان کی شخصیت کا نمایاں حصہ ہے۔ وہ اس وقت قرآن کریم حفظ کر رہی ہیں، ۲۹؍پارے مکمل حفظ کرچکی ہیں جبکہ ۳۰ویں پارے کی تکمیل آخری مرحلے میں ہے۔ نماز، روزے اور اسلامی اقدار کی پابندی ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے، جبکہ حجاب بھی انہوں نے کسی دباؤ کے بغیر اپنی مرضی اور دینی شعور کے تحت اختیار کیا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بچوں کی شخصیت سازی میں گھر کے ماحول کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ انجیلا کی پرورش ایک ایسے ماحول میں ہوئی جہاں تعلیم کے ساتھ اخلاق، سادگی، دیانت داری اور دین داری کو بھی یکساں اہمیت دی گئی۔ اسی تربیت نے انہیں دنیاوی کامیابی کے ساتھ دینی وابستگی بھی عطا کی۔

یہ بھی پڑھئے: ٹی ای ٹی کا پرچہ آگرہ کے پرنٹنگ ہائوس سے ۸؍ ہزار روپے میں حاصل کیا گیا تھا

جویریہ قاضی کے مطابق سی اے اور اے سی سی اے جیسے انتہائی مشکل کورسیز کے دوران تقریباً ۸۰ فیصد تعلیم آن لائن حاصل کی گئی جبکہ امتحانات مقررہ مراکز پر دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ آن لائن تعلیم کے باوجود انجیلا نے خود کو منظم رکھا، وقت کی پابندی کی اور ہر مرحلے پر محنت کو اپنا شعار بنایا جس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔انہوں نے بتایا کہ انجیلا کو مختلف اداروں کی جانب سے ملازمت کی پُرکشش پیشکش بھی موصول ہوئی لیکن انہوں نے فی الحال گھر سے ہی اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے کو ترجیح دی ہے ۔ ان کا ماننا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں گھر سے رہتے ہوئے بھی عالمی معیار کی خدمات انجام دی جاسکتی ہیں ۔انجیلا کی اس کامیابی پر شہر بھر کے تعلیمی، سماجی اور مذہبی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK