گزشتہ ہفتے مذکورہ بالا عنوان دیتے ہوئے ہم نے ’’اوڑھنی‘‘ کی قارئین سے گزارش کی تھی کہ اِس موضوع پر اظہارِ خیال فرمائیں۔ باعث مسرت ہے کہ ہمیں کئی خواتین کی تحریریں موصول ہوئیں۔ ان میں سے چند حاضر خدمت ہیں۔
EPAPER
Updated: March 14, 2024, 3:11 PM IST | Saaima Shaikh | Mumbai
گزشتہ ہفتے مذکورہ بالا عنوان دیتے ہوئے ہم نے ’’اوڑھنی‘‘ کی قارئین سے گزارش کی تھی کہ اِس موضوع پر اظہارِ خیال فرمائیں۔ باعث مسرت ہے کہ ہمیں کئی خواتین کی تحریریں موصول ہوئیں۔ ان میں سے چند حاضر خدمت ہیں۔
نفس پر قابو پانا
رمضان کا سب سے اہم مقصد تقویٰ ہے۔ چونکہ انسان اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کیلئے پیدا کیا گیا ہے۔ روزہ انسان کو کھانے پینے کی چیزوں سے روکے رکھتا ہے۔ یہ صبر ہمیں پیغام دیتا ہے کہ اپنے نفس پا قابو پانا چاہئے۔
ثمینہ علی رضا خان (کوسہ، ممبرا)
اپنے رب کو راضی کرنا چاہتی ہوں
رمضان میں کاموں کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں مگر مَیں اپنی سب بڑی ذمہ داری جو اللہ کو راضی کرنے کی ہے اس پر زیادہ توجہ دینے کی کوشش کرتی ہوں۔ اس رمضان اپنا دل صاف کرنا چاہتی ہوں۔ اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرنا چاہتی ہوں۔ میری ذمہ داری یہ بھی ہوگی کہ مَیں اپنے گھر کے ساتھ ساتھ غرباء اور مسکین کا بھی خیال رکھوں۔ رمضان میں اچھے اچھے پکوان کی تیار کرنے کے ساتھ ساتھ نماز اور قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف رہوں گی۔ ساتھ ہی صدقہ اور زکوٰۃ کروں گی، ان شاء اللہ!
سمیر اظہر سرگروہ (نوی ممبئی)
وقت کی پابندی اہم ہے
رمضان المبارک میں سحری اور افطار کا درست نظم کرنے کیلئے وقت کی پابندی ضروری ہے۔ گھر کے سبھی لوگ روزہ کا اہتمام کریں۔ نماز اور قرآن کی پابندی کریں۔ روزہ کی حالت میں گناہ سے بچیں۔ سحری اور افطار میں صحت بخش غذا لیں تاکہ کمزوری کا احساس نہ ہو۔ اپنے ساتھ ساتھ رشتہ داروں، دوستوں اور پڑوسیوں کا بھی خیال رکھیں۔ کوئی بھوکا نہ رہے۔ حالانکہ ان باتوں کا عام دن میں بھی خیال رکھیں۔ لیکن چونکہ رمضان میں نیک کاموں کیلئے زیادہ نیکیاں ملتی ہیں اس لئے لوگ عام طور سے زیادہ اہتمام کرتے ہیں۔ جو صاحب نصاب ہیں وہ مستحق افراد کو زکوٰۃ دیں تاکہ وہ عید کی خوشیوں میں سب کے ساتھ شامل ہوسکیں۔ زکوٰۃ کا صحیح مصرف ہو۔ غریب بے سہاروں کو سہارا دیں۔ جن کے سروں پر چھت نہیں ہے مہیا کریں۔ کوئی غریب طلبہ جو مالی پریشانی کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کرسکتے ہوں ان کی مدد کریں۔ اللہ ہم سبھی کو نیک ہدایت دے اور نیکیاں قبول کرے (آمین)۔
بنت عقیل (مالیگاؤں، ناسک)
منظم منصوبہ بندی پر عمل کرتی ہوں
رمضان کی تیاری کیلئے مَیں باقاعدہ تخمینہ تیار کر لیتی ہوں۔ رات کا زیادہ تر حصہ رمضان کیلئے مختص کر لینا ہوتا ہے۔ دوپہر میں آرام کرتی ہوں۔ دوپہر کا آرام ہمیں راتوں میں جم کر تلاوت اور عبادت کا موقع دیتا ہے۔ سحری اور افطار کی تیاری وقت کی پابندی کے ساتھ کرتی ہوں جس سے رمضان کا پورا مہینہ فیضیابی سے لبریز ہوجاتا ہے۔ دیگر مہینوں کے مقابلے رمضان میں مصروفیت بڑھ جاتی ہے مگر وقت کی پابندی کا خیال رکھیں تو ساری مشکلیں آسان ہوجاتی ہیں۔
منصوری رومانہ تبسم (شہادہ، نندوربار)
رحمت، برکت اور توبہ
رمضان کی آمد سے پہلے دسترخوان کی حسب ِ ضروری اشیاء مع لباس کی خریداری کر لینا اہم ذمہ داری میں شمار کرتی ہوں۔ مستحق افراد کو تلاش کرکے اس کی مدد کرنی چاہئے۔ زکوٰۃ اور فطرہ وقت سے پہلے ادا کرنا اہم ذمہ داری ہوتی ہے۔ گھر میں ہر فرد کا روزہ ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کا کام بانٹنے سے حل ہوتا ہے۔ عشاء سے فارغ ہو کر سوجانا، ڈیڑھ گھنٹے پہلے اُٹھ کر تہجد کے بعد سحری کی تیاری کرنا، بچوں کو اٹھانا، سحری کرانا، نماز کے بعد صفائی کرکے اسکول کالج بھیج کر ایک پارہ پڑھ کر سو جاتی ہوں۔ ذکر الٰہی میں مشغول رہتی ہوں۔ رمضان المبارک رخصت ہونے سے قبل اللہ کو راضی کر لیجئے اور اپنا دل صاف کر لیجئے۔ اللہ ہماری عبادتوں کو قبول فرمائے (آمین)۔
شمع پروین فرید (کوچہ پنڈت، دہلی)
ذکر ِ الٰہی میں مصروف رہنا
ماہ رمضان المبارک میں ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ اچھی بات یہ ہوتی ہے کہ اس ماہ ہم ذکر ِ الٰہی میں مصروف رہتے ہیں۔ آدھی رات کو بیدار ہونے کے بعد نماز کرتی ہوں پھر سحری کی تیاری کرتی ہوں۔ سحری کرکے فجر کی نماز، قرآن کی تلاوت کے بعد اخبار پڑھتی ہوں۔ ۹؍ بجے سے میں اپنے یوٹیوب کے کام میں مصروف ہوجاتی ہوں۔ افطار میں کیا بنےگا یہ بھی تیاری دن میں ہی کر لیتی ہوں۔ عید کے لئے ۴؍ سوٹ سلنے کے لئے بھی کوئی کوئی دن وقت نکال لیتی ہوں۔ ظہر کی نماز کے بعد ۲؍ گھنٹے آرام کرتی ہوں۔ شام کو صفائی اور عصر کی نماز کے بعد افطار کی تیاری شروع میں لگ جاتی ہوں۔ اللہ رب العزت کے کرم سے ہر کام وقت پر مکمل ہو جاتے ہیں۔
شاہدہ وارثیہ (وسئی، پال گھر)
زیادہ سے زیادہ وقت عبادت کرنا
مَیں رمضان کا استقبال گھر کی صفائی اور دل کی صفائی دونوں سے کرتی ہوں۔ رمضان کا خاص مقصد تقویٰ کے ساتھ ایمان کو تازہ کرنا اور اخلاص کے ساتھ ہر کام انجام دینا ہے۔ ہمارے لئے جہاں عبادات فرض ہیں وہیں گھریلو مصروفیات بھی ہیں۔ اس لئے اس ماہ میں میری بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ وقت عبادت کیلئے نکال سکوں۔ دوسرا میں پوری ذمہ داری سے دوست، احباب و رشتے داروں کو تحفے دیتی ہوں، مسکینوں کی مدد کرتی ہوں، برائی سے بچنے کی مسلسل کوشش کرتی ہوں۔ اداس چہروں کو مسکراہٹ دینے کی، ضرورتمند و حاجت مند خاص کر سفید پوش جو خود نہیں مانگتے لیکن ضرورتمند ہوتے ہیں ان کو تلاش کرتی ہوں اور ان کی کفالت کا حتی الامکان انتظام کرتی ہوں۔
فردوس انجم (بلڈانہ مہاراشٹر)
تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کرنا
میری سب سے اہم ذمہ داری اپنے رب سےرجوع ہوکر اپنے گناہوں کی معافی طلب کرنا اور مغفرت وبخشش طلب کرنا ہے۔ اس مبارک مہینے میں قرآن کا نزول ہوا اس لئے قرآن کو سمجھ کر پڑھنااور اس کی ہدایت پر عمل کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ قرآن کو سمجھ کر پڑھنے سے ہماری زندگی میں تبدیلی آئے گی اور ہمیں پتہ چلے گا کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا کہہ رہا ہے۔ اس مقدس کتاب کی ہدایت پر عمل کرنے سے ہماری زندگی آسان ہوگی۔ رمضان کے عظیم ترین ایام میں عبادتِ الٰہی میں مصروف رہنا، قرآن کی تلاوت، نمازوں کی پابندی، احکام الٰہی پر عمل کرنا، ہر برائی سے اجتناب کرنا اور تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ماہ رمضان میں ہمسایوں کی تنگدستی کا خیال، غرباء کی عدم استطاعت پر نظر، مفلسوں اور ناداروں کی دلجوئی اور سحر و افطار کا انتظام، زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کے ذریعے غریبوں کی مدد کرنا اور دوسروں کے لئے خیر کا ذریعہ بننا ہماری اہم ذمہ داری ہے۔ اس بات کا بھی خاص خیال رکھا جائے کہ ہماری امداد اور تعاون حقیقی مستحق افراد تک پہنچے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور نوازشات انہی لوگوں کا مقدر بنتی ہیں جو اس ماہ کی نسبت سے اپنے اوپر عائد فرائض اور ذمہ داریوں کو بحسن وخوبی انجام دیتے ہیں۔
خان نرگس سجاد (جلگاؤں، مہاراشٹر)
ایک لائحہ عمل تیار کریں
ہم خواتین پر جہاں گھریلو ذمہ داریاں ہوتی ہیں، اس کے ساتھ ہی یہ احساس ہوتا ہے کیسے اپنے رب کو راضی برضا کیا جائے تاکہ ہم خواتین بھی، اللہ کریم کی رحمت سے ان شاء جنت الفردوس میں داخلہ مل جائے۔ اگر میں اپنی بات کروں تو میری مصروفیت اور ذمہ داری ماہ مبارک دو چند ہوجاتی ہے، کیونکہ میں ایک ٹیچر ہوں لہٰذا اسکول کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ گھر کی ذمہ داری نبھاتی ہوں۔ اس کام میں میرے شوہر میرا بھرپور ساتھ دیتے ہیں۔ میں خواتین سے کہنا چاہوں گی کہ ماہ صیام میں گھریلو ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لئے ایک لائحہ عمل تیار کرلیا جائے اور مرد حضرات بھی اس معاملے میں اپنے گھر کی خواتین کا ساتھ دیں تاکہ وہ امور خانہ داری کے ساتھ رمضان کی خیر وبرکات اور اپنی مغفرت کرانے سے محروم نہ رہ سکیں۔ اللہ ہم تمام خواتین کواپنی تمام ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانے کے ساتھ ساتھ ماہ صیام کو ہمارے لئے ثمر آور بنائے تاکہ اس کا پھل ہم نہ صرف دنیا بلکہ جنت میں بھی کھاسکیں۔
شیخ سعدیہ وحیدالزماں (مومن پورہ، بائیکلہ)
اللہ کو راضی کرنا
خواتین خانہ پر کئی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ افراد خانہ کی سحری اور افطار کی فرمائشوں کو مدنظر رکھنا جن میں مقوی، حیاتیات سے پر متوازن خوراک شامل ہو جس سے جسم کو توانائی ملے۔ انتمام مصروفیت کے درمیان اپنی عبادت کے لئے وقت نکالنا اور خود کو بھی چست اور تندرست رکھنا۔ روزہ کے ساتھ قیام اللیل کی فضیلت سے کوئی محروم نہ ہو، چھوٹے بچوں کو روزہ کے اختتام تک بہلائے پھسلائے رکھنا، اپنے زیور اور دیگر اثاثوں کی مالیت پر زکوٰۃ نکالنے کا حساب کتاب بھی عورت کو ہی رکھنا ہے۔ شرعی عذر کے بنا پر گھر میں کسی کا روزہ نہ ہو تو ان کے کھانے کا انتظام کرنا نیز دعاؤں کی کثرت، نفلی عبادتوں کے لئے اہل خانہ کے دل میں شوق پیدا کرنا۔ اوائل رمضان سے اواخر رمضان تک، ماتھے پر شکن، شکایت اور بغیر ناراضگی کے پوری دلی آمادگی سے صرف اور صرف رضائے الٰہی کی خاطر سب کا خیال رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اللہ سے دعا کہ ہمیں پورے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)۔
رضوانہ رشید انصاری (امبرناتھ، تھانے)
بچوں کی ذہن سازی پر خاص توجہ
یہ مہینے عبادت اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ اس لئے خود کو ذکر ِ الٰہی میں مصروف رکھتی ہوں۔ سحری و افطار میں صحت بخش غذا کو ترجیح دیتی ہوں تاکہ دن بھر جسم ہشاش بشاش رہے۔ فضول خرچی سے گریز کرتی ہوں۔ سحری سے قبل سب کو تہجد کی نماز کی طرف راغب کرنا، تہجد کی فضلیت اور افضلیت کو سمجھانا میں فرض سمجھتی ہوں۔ سحری کے بعد بچوں کو قرآن مجید مع ترجمہ پڑھنے کی تلقین کرتی ہوں۔ ساتھ ہی بچوں کی ذہن سازی کرتی ہوں کہ عید کے لئے بہت زیادہ ضد نہ کریں۔ انہیں سمجھاتی ہوں کہ رمضان کا مہینہ عبادت غم خواری کا مہینہ ہے۔ پڑوس کے مستحق اور غریب افراد میں سحری اور افطار کا خیال رکھنا میں اپنی ذمہ داری سمجھتی ہوں۔ وقتاً فوقتاً بچوں کی دینی نہج پر تربیت کرتی رہتی ہوں۔
جبیرہ عمران پیرزادے (پونے، مہاراشٹر)
خوشدلی سے فرائض کی ادائیگی
رمضان میں خواتین کا کام کاج اور ذمہ داریاں بہت بڑھ جاتی ہیں۔ کھانے کی مختلف اشیاء تیار کرنا اور وقت پر ساری چیزیں فراہم کرانا۔ ساتھ ہی رشتے داروں اور پڑوسیوں اور غرباء کا بھی خیال رکھنا اور کھانے پینے کا سامان بھیجنا۔ ایک عورت صبح جلدی اٹھتی ہے اور گھر میں اگر چھوٹے بچے یا کوئی بزرگ ہے تو ان کیلئے کھانا بناتی ہے۔ نوکری پیشہ خواتین کی ذمہ داری تو اور زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ انہیں تو کچھ دیر آرام کرنے کا بھی وقت نہیں مل پاتا۔ سارا دن آفس میں گزار کر افطار کا اتنا اہتمام مشکل ہوتا ہے۔ ساتھ عبادات اور تراویح کے ساتھ وظائف اور تلاوت کیلئے وقت نکالنا، بھی مشکل ہوتا ہے۔ اس کے باوجود سب کا خیال رکھتی ہیں اور خوشدلی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتی ہیں۔
جویریہ طارق (سنبھل، یوپی)
غیر ضروری سرگرمیوں سے دوری
رمضان المبارک میں رب کریم اپنے بندوں پر خاص عنایت عطا فرما ہے۔ البتہ اس ماہ میں خواتین کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ رمضان شروع ہونے سے پہلے آپ چند کام کرلیں تو روز روز کی بھاگ دوڑ سے بچا جاسکتا ہے۔ سحری اور افطار میں صحت بخش اشیاء کو ترجیح دینا چاہئے، اس سے صحت اچھی رہتی ہے۔ چونکہ روزہ جسم کی صفائی کرتا ہے اس لئے کھانا ہلکا پھلکا ہی کھائیں۔ بازار میں چکر لگانے کے بجائے عبادتوں میں مصروف رہیں۔ صدقہ خیرات کرتے رہیں۔ ایک ماہ کے لئے وائے فائی بند کر دیں۔ اپنے ساتھ بچوں کو بھی عبادت میں مصروف رکھیں۔ اپنے سامنے قرآن مجید پڑھنے کے لئے کہیں۔ اس طرح ہمیں اللہ کی رحمتیں سمیٹنے کا بھرپور موقع مل جائے گا۔
صبیحہ خان (ممبئی)
فضول کاموں سے گریز
رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوتے ہی خواتین کی مصروفیات بڑھ جاتی ہیں۔ اس لئے ہمیں وقت کی پابندی کرتے ہوئے سارے فرائض کاموں کو انجام دینا ہے۔ سحری اور افطار کا وقت بہت اہم ہے اس میں کوتاہی تاخیر نہیں کرسکتے۔ خواتین پر بڑی ذمہ داری ہوتی ہے کہ گھر کے سارے افراد کا خاص خیال رکھیں ورنہ کئی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بہتر ہے کہ سارے کام وقت کے حساب سے کریں۔ گھر کی صفائی رمضان سے پہلے ختم کریں۔ بچوں کو روزہ رکھنے کا عادی بنائیں اور روزے میں گھر کے کچھ کام بھی کروائیں تاکہ بآسانی ان کا دن گزر جائے۔ عبادات میں مصروف رہیں۔ انٹرنیٹ سے دور رہیں۔ اس کے علاوہ خواتین اپنے آرام کا بھی خاص خیال رکھیں۔
بی بشریٰ خاتون (جامعہ نگر، نئی دہلی)
اپنے آرام کا بھی خیال رکھیں
رمضان کے مہینے کا اہتمام اور احترام بہت ضروری ہے۔ رمضان بے شک رحمتوں، فضیلتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے۔ ہمیں رمضان المبارک کی تیاری پہلے شعبان المعظم کے مہینے ہی سے شروع کر دینی چاہئے۔ سارے سامان کی لسٹ بنا کر منگا کر گھر رکھ لیں تاکہ رمضان میں آپ پریشان نہ ہوں اور مبارک مہینے میں دل کھول کر لوگوں کی مدد فرمائیں۔ جو خود کھائیں وہی ضرورتمندوں کو بھی دیں اور کثرت سے عبادت کریں۔ تلاوت بھی کریں اور نوافل بھی ادا کریں۔ رمضان کے مہینے ہم عورتوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ اپنے روزمرہ کے کام کو بھی انجام دیں اور سبھی کے ساتھ اپنا خود کا بھی خیال رکھنا بہت ضروری ہے کیونکہ آپ صحتمند رہیں گی تبھی آپ کا خاندان بھی صحتمند رہے گا۔
نشاط پروین (مونگیر، بہار)
بچوں کا تعاون حاصل کریں
ماہِ رمضان میں خصوصاً خواتین کی ذمے داریاں کافی بڑھ جاتی ہیں۔ سحری، افطاری کے انتظامات اور عبادت۔ جن کے چھوٹے بچے ہیں اُن کو سنبھالنا۔ غرض کہ ان تمام اُمور کے لئے ایک منصوبہ بندی نہایت ضروری ہے۔ اُمورِ خانہ داری کے ساتھ دیگر کام بھی بخوبی انجام دینے کے لئے ایک خاکہ ہونا ہے حد ضروری ہے۔ سحری اور فجر کی نماز کے بعد افطار میں بننے والی اشیاء پہلے تیار کرکے رکھ دی جائیں تو شام میں صرف فرائی کرنا اور فروٹ کاٹنے کا کام گھر کے بڑے بچے کو سونپ دیں تو آپ کا تعاون بھی ہو جائیگا اور بچوں کو ذمہ داری کی عادت بھی ہوسکتی ہے۔ کاموں کو اگر آپ تقسیم کر دیں تو آپ کا وقت اور محنت کی بچت ہو جائیگی۔ ماہِ رمضان میں صحت کا خیال بھی رکھنا ضروری ہے۔
سیدہ نوشاد بیگم (کلوہ، تھانے)
احسن طریقے سے ذمہ داریاں نبھانا
بحیثیت ایک ماں، ایک بیوی اور بہو، مجھ پر بہت زیادہ ذمہ داریاں ہیں اور مضان المبارک کے مقدس مہینے میں یہ ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ اپنے شوہر کے آرام کا خیال رکھنا، گھر والوں خصوصاً بچوں کیلئے گھر پر صحت بخش پکوان تیار کرنا جس کی وجہ سے انہیں باہر کے کھانوں کی طلب نہ ہو۔ بچوں کو سحری کے لئے وقت پر جگانا، ان کی نماز اور قرآن پاک کی تلاوت پر نظر رکھنا۔ چونکہ یہ وقت امتحانات کا ہے تو ساتھ ساتھ ان کے دنیوی تعلیم کا بھی خصوصی خیال رکھنا۔ شوہر کو آفس کیلئے تیاری میں مدد کرنا، وقت پر انہیں استری شدہ کپڑے اور پالش شدہ جوتے فراہم کرنا، بچوں کو اسکول لینا چھوڑنا، زکوٰۃ و فطرے کی تقسیم کا خیال رکھنا، گھر کی صاف صفائی غرض میری ذمہ داریوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ میری بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ گھر کے کسی فرد کو مجھ سے شکایت نہ ہو اسی لئے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں التجا کرتی ہوں کہ وہ مجھے میری ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)۔
رضوی نگار اشفاق (اندھیری، ممبئی)
اس ماہ کی برکت سمیٹ لینا
مَیں سحری کرنے کے بعد فجر کی نماز کے ساتھ ہی قرآن مجید کی تلاوت کرتی ہوں۔ اس کے بعد میں اپنی پڑھائی پر دھیان دیتی ہوں۔ پڑھائی کے بعد میں پینٹنگ کرتی ہوں۔ تھوڑا آرام کرنے کے بعد میں افطار تیار کرنے میں امی کی مدد کرتی ہوں۔ میں نے موبائل سے دور رہنے کا آور خود کو پڑھائی اور آرٹس چینل میں مصروف رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اللہ مجھے میرے کام میں ترقی عطا کرے (آمین)۔
صبر النساء وارثیہ (وسئی، پال گھر)
ایک عہد کریں
اللہ ہمیں ایک بار پھر اس رمضان کی نعمت کا دیدار کرا رہا ہے۔ ہم کوشش کریں کہ پورا روزہ رکھیں۔ اللہ کی عبادت کریں۔ زکوٰۃ ادا کریں۔ اس بار روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ خود سے عہد بھی کریں کہ رمضان گزر جانے کے بعد بھی ہم ان عبادات اور نیکیوں پر قائم رہیں گے، ان شاء اللہ۔ دنیا جہان کے تمام کام چھوڑ کر عبادت کیلئے وقت ضرور نکالیں۔ رمضان میں روزے کے اہتمام کے ساتھ ساتھ لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ پڑوسیوں کا خیال رکھیں۔ اپنے سے کمتر لوگوں کی مدد کریں۔ مستحق افراد کیلئے سحری و افطار کا نظم کریں۔ اللہ آپ کے رزق میں اضافہ کر دے گا۔
عافیہ غفار (بلیا، یوپی)
فضول کاموں میں وقت برباد نہ کریں
عمر کا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد خیر و عافیت کے ساتھ رمضان مبارک نصیب ہونا ہم سب کے لئے رحمت ہے بلکہ جہنم کی آگ اور غضب الٰہی سے بچنے کے لئے مہلت ہے۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس ماہ کا خیر مقدم کریں۔ روزوں کے ساتھ ہی نمازوں کا اہتمام کریں۔ اپنی خوشیوں کے ساتھ ہی غریبوں، محتاجوں اور مستحق لوگوں کو تلاش کرکے زکوٰۃ و صدقات سے مدد کریں۔ قرآن پاک کو پڑھنے اور سمجھ کر عمل کرنے کا شرف حاصل کریں۔ فضول کاموں میں وقت برباد نہ کریں۔ گریہ و زاری اور درود و سلام کی کثرت سے مغفرت کا پروانہ حاصل کر لیں۔
رابعہ عبدالغور شیخ (مدنپورہ، ممبئی)
برائی سے دوری
اس ماہ میں اللہ تعالی کی رحمتیں اور نوازشات انہی لوگوں کا مقدر بنتی ہیں جو اس ماہ کئی مناسبت سے اپنے اوپر عائد فرائض و ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی سر انجام دیتے ہیں۔ روزہ چونکہ پر مشقت عبادت ہے اس لئے اس میں احتیاط بھی ضروری ہے۔ اس سلسلے مَیں تلاوت قرآن، استغفار کی کثرت اور تہجد کی پابندی سے ادائیگی کو ترجیح دیتی ہوں۔ خود کو برائی سے دور رکھتی ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اس ماہ کی رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے کا موقع دے۔
صبیحہ سلفی محمد شاکراسلامی (مدھوبنی، بہار)
دوپہر کا آرام ضروری
رمضان مہینے کی رونقیں دوسرے گیارہ مہینوں سے بہت الگ اور پُر نور ہوتی ہیں۔ دیگر مہینوں کی بہ نسبت رمضان کے مہینے میں مصروفیات بڑھ جاتی ہیں۔ یہ مہینہ خاص نیند کی قربانی کا تقاضا کرتا ہے۔ رمضان کا مہینہ اپنے اندر ایک نور لئے آتا ہے۔ ہر مسلمان اپنے کام کو آگے پیچھے کرکے اس کا (رمضان کا) اہتمام کرتا ہے۔ مَیں اپنے گھر کے سارے کاموں کو وقت کی پابندی کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ بچوں کی ساری ضرورتوں کا پورا پورا خیال رکھتے ہوئے اُن کی ہر ضرورت کا خیال رکھتی ہوں۔ دوپہر کا آرام مجھے رات اور صبح کی مصروفیت میں کارگر ثابت ہوتا ہے۔
آپؐ یہ دعا فرماتے: اے اللہ رجب اور شعبان کی برکتیں ہمیں عطا کر اور ہمیں رمضان المبارک میں پہنچا دے۔ میری یہی کوشش رہتی ہے کہ میرے گھر کا ہر فرد رمضان کی فیضیابی سے سرفراز ہو جائے۔
شگفتہ منصوری (شہادہ، نندوربار)
ترتیب سے کام انجام دینا
رمضان المبارک مسلمانوں کے لئے بابرکت اور مقدس مہینے میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے اور خواتین کی ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ خواتین کو رمضان المبارک کے آنے سے پہلے ہی فکر رہتی ہیں کہ پانچوں وقت کی نماز کے علاوہ روزہ، سحری، افطار، تراویح کا اہتمام بھی کرنا ہے۔ قرآن مجید کی تلاوت اور نوافل کی ادائیگی کے علاوہ زکوٰۃ دینے کی فکر اور ذمہ داری ہوتی ہے۔ باورچی خانے کیلئے اناج میں چنے، مٹر، مسالے وغیرہ رکھنا۔ گھر کی صفائی بھی اہم کام ہوتا ہے۔ یہ تمام کام ترتیب سے انجام دیں تو کئی پریشانیاں حل ہوسکتی ہیں۔
گل شہانہ صدیقی (امین آباد، لکھنؤ، یوپی)
....تاکہ ذہن منتشر نہ ہو
رمضان کا مبارک مہینہ آچکا ہے۔ رمضان عبادت، ریاضت اور خالص اللہ کا مہینہ ہے۔ حضرت رسول اکرمؐ رمضان کی آمد سے تین ماہ قبل ہی استقبال کیا کرتے تھے۔ صحابہ کرامؓ رمضان کی آمد سے پہلے سے ہی مکمل تیاری کرلیتے تاکہ دورانِ رمضان ذہن منتشر نہ ہو۔ چاند دیکھنا رسول اکرمؐ کی اہم سنت ہے، جس سے ذوق و شوق میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہمیں بھی ان باتوں پر عمل کرنا چاہئے۔ ان کی زندگیوں کے مطابق اپنا رمضان گزارنا چاہئے۔ اللہ اس ماہ کی رحمتوں سے ہمیں نواز دے۔
شریفا بیگم، عرف مرو (بلگرام، مہاراشٹر)
مستحق کو اُن کا حق ادا کیا جائے
اس بابرکت مہینے میں سب سے پہلا حق ہمارے اہل و عیال، ہمارے پڑوسیوں کا ہے، اسکے بعد غریب، مسکین، یتیموں کا حق ہے۔ جو ہم پر فرض ہے ان کے ساتھ ایثار اور ہمدردی کا معاملہ کیا جائے۔ سحری و افطاری میں اس طرح کا معمول بنایا جائے جس میں زیادہ سے زیادہ پیارے نبی کریمؐ کی سنت پر عمل کیا جائے۔ مستحق کو اُن کا حق ادا کیا جائے یہ ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے جس کا حکم ہمیں اللہ کی جانب سے ہے۔ افطار کے وقت دسترخوان پر افطاری اور دیگر پکوان اچھی طرح لگانا اور ساتھ ہی پڑوسیوں کے گھر افطار سے پہلے گھر کے لذیذ پکوان دے آنا جس سے اُن کا بھی دِل خوش ہو۔ گھر کے تمام افراد ایک ساتھ دسترخوان پر اکٹھا ہو کر افطار سے پہلے خوب دعائیں مانگیں۔
مرزا حبا ناظم (ممبئی)
عبادت کیلئے وقت نکالنا مقصد
رمضان المبارک خیر و برکت اور نعمت و رحمت والا مہینہ ہے۔ اس مبارک مہینے میں ہم خواتین کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ روزہ، نماز، تلاوت قرآن اور عبادت کے ساتھ ساتھ ہماری گھریلو ذمےداریاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ افطار سے پہلے اور سحری میں رسوئی کا بہت سارا کام رہتا ہے۔ ہم جلدی جلدی گھریلو کام پورے کرتے ہیں تاکہ عبادت کے لئے زیادہ سے زیادہ وقت نکال سکیں، کیونکہ ماہ رمضان کی ایک ایک ساعت فیوض و برکات سے معمور ہے۔ اللہ کی رحمتیں سمیٹنے میں ہمیں کامیابی عطا فرما۔
آسیہ بیگم (اٹاوہ، یوپی)
اس ماہ کی اہمیت کو سمجھیں
رمضان بہت ساری ذمہ داریوں اور تبدیلیوں کے ساتھ رونما ہوتا ہے۔ عبادات کے علاوہ گھریلو کام میں بھی تبدیلیاں ہوتی ہیں، سحری کی تیاری سے لے کر افطاری تک ایک گہما گہمی رہتی ہے، رمضان میں لایعنی کاموں سے اجتناب کرتے ہوئے زیادہ وقت ذکر و اذکار و دیگر عبادت و اطاعت میں گزرتا ہے۔ رمضان کے یہ ایام ہمیں اپنے نظام الاوقات کو ترتیب دینے، حقوق اللہ اور حقوق العباد کا باقاعدگی سے اہتمام کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ نیز ہمیں اس امر کی جانب متوجہ کرتے ہیں کہ ہم محض لہو و لعب میں ہی زندگی کے ان قیمتی ایام کو ضائع نہ کریں بلکہ ان اوقات کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے ان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
ایم ممتاز اعظمی (اعظم گڑھ، یوپی)
اہل ِ خانہ کا خیال رکھنا
رمضان المبارک بہت ہی مقدس مہینہ ہے اور ہم عورتوں کی ذمہ داریاں دگنی ہو جاتی ہیں۔ سحری کا اہتمام کرنا، افطار کا دسترخوان سجانا اور اہل ِ خانہ کا خیال رکھنا۔ کس کس کی کیا دوائیں ہیں جو سحری میں لینی ہے اور جو افطار کے بعد لینی ہے سب چیزوں کا دھیان ہمیں ہی رکھنا پڑتا ہے۔ اور اس پر بچے کی ذمہ داری اگر وہ روزہ نہیں ہے تو ان کیلئے الگ کھانے کا انتظام کرنا اور ہم پر یہ بھی ذمہ داری ہے کہ گھر والوں کو قرآن پڑھنے، نماز کی ادائیگی میں کوتائی نہ کرنے اور زیادہ سے زیادہ عبادت میں مشغول رہنے کی تلقین کرتے رہنا۔
صدف الیاس شیخ (تلوجہ)
نیک کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا
اس مبارک مہینے میں لغو باتوں سے اجتناب ضروری ہے اور ساتھ ہی نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے۔ صرف بھوکے پیاسے رہ کر دن گزارنے کا نام روزہ نہیں ہے بلکہ منکرات اور فحاشیات سے بچنا بھی ضروری ہے۔ افطار کے وقت میں اپنے دسترخوان پر فقراء، مساکین اور مسافروں کو شامل کرنا ایک اہم ذمہ داری سمجھتی ہوں۔ اس ماہ مبارک میں قرآن کریم کی تلاوت ترجمے کے ساتھ کرنی چاہئے کیونکہ سمجھ کر پڑھنے سے دلوں پر تاثیر کے سبب انسان کی شخصیت میں مثبت تبدیلی نظر آتی ہے۔
ڈاکٹر شیبا الف انصاری (سمرو باغ، بھیونڈی)
اس رمضان کو بہتر انداز میں گزاریں
رمضان المبارک کا مہینہ خیر و برکت کا مہینہ ہے لہٰذا ضروری ہے کہ رمضان سے استفاده کا پکا ارادہ کریں۔ ہم اپنی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے لئے ایک ایسا نظام الاوقات مرتب کریں جس میں عبادت اور مطالعہ قرآن و حدیث کیلئے زیادہ سے زیادہ وقت نکالا جائے۔ رمضان کو بخشش کا ذریعہ بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ اس رمضان کو پچھلے رمضان سے بہتر بنانےکی کوشش کریں۔
اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اس ماه رمضان سے مستفید ہونے کی توفیق عطا کرے (آمین)۔
مومن حناعمران (بھیونڈی، تھانے)
غیر ضروری کاموں کو چھوڑ دیں
رمضان کی سب سے بڑی تیاری یہ ہے کہ ہم اپنے دلوں کو صاف کریں۔ یہ مہینہ عبادت کا مہینہ ہے۔ ہم عورتوں کو چاہئے کہ پہلے سے سب تیاری کر لیں۔ عبادتوں کے وقت باورچی کھانے میں نہ رہیں۔ بے حیائی کے سارے کام چھوڑ دیں۔ رمضان کا مہینہ پورا معافی کا مہینہ ہوتا ہے۔ جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ رمضان المبارک کے مہینے میں ہمیں چاہئے کہ ہم انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا استعمال کم کر دیں۔ غیر ضروری کاموں کو چھوڑ دیں۔ خود کو نیک کاموں میں مصروف رکھیں۔
انصاری فرح (آگری پاڑہ، ممبئی)
منفی رویوں سے خود کو دور رکھنا
اس ماہ میں بطور خاتون خانہ اور معلمہ میری مندرجہ ذیل ذمہ داریاں ہونگی: روزہ رکھنا۔ نمازوں کی وقت پر ادائیگی، تلاوت کلام پاک و وظائف کا ورد، ذکر و اذکار، پاکیزگی و طہارت، اوروں کیساتھ خلوص سے پیش آنا، فراخدلی کا مظاہرہ کرنا، خیرات زکوٰۃ ادا کرنا، اپنے نفس پر قابو پانا، برائیوں سے بچنا، اچھائیوں کو اپنانا، منفی رویوں سے خود کو دور رکھنا، گھر میں افراد خانہ اور اسکول میں طلبہ کو رمضان کی اہمیت افادیت اور فضیلت سے آگاہ کرنا۔ اپنے گھر میں موجود روزہ داروں کی سحر و افطار کی ضروریات کا خیال رکھنا۔
نکہت انجم ناظم الدین (مانا، مہاراشٹر)
صلہ رحمی کا مظاہرہ کریں
اس ماہ کو صرف اور صرف عبادت کیلئے مختص کر دیں۔ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم اہل خانہ کو بھی رمضان کے روزے اور عبادات کی اہمیت سے واقف کروائیں۔ لذیذ کھانے بنانے سے زیادہ کس طرح اللہ کو راضی کریں، اس کی فکر کریں۔ خواتین اپنی صحت کا خیال رکھیں اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کریں۔ صحت بخش غذا کو ترجیح دیں۔ چونکہ روزہ رکھنے سے جسم کی صفائی ہوتی ہے ا س لئے روغنی اشیاء کم کھائیں۔ قرآن کو معنی کے ساتھ سمجھ کر پڑیں۔ صلہ رحمی کا مظاہرہ کریں اور یہی عمل بقیہ تمام دنوں میں بھی جاری رکھیں۔
آفرین عبدالمنان شیخ (شولا پور، مہاراشٹر)
ساری ذمہ داریاں خود نبھاتی ہوں
اللہ کا شکر ہے میں اپنی ذمہ داریاں خود نبھاتی ہوں۔ سحری کیلئے جب ہم اٹھتے ہیں تو پہلے تہجد کی نماز پڑھتی ہوں اور سحری کرنے اور کرانےکے بعد فجر تک تلاوت قران کرتی ہوں اور نماز ادا کرنے کے بعد کچھ دیر کیلئے تازہ دم ہونے کیلئے سو جاتی ہوں۔ افطار سے قبل سب کے ساتھ مل کر دعا کرتی ہوں اور نماز میں سب بچوں کو شامل کرتی ہوں۔ تراویح سے فارغ ہو کر سو جاتی ہوں۔ عید سے پہلے کپڑے سل کر یا سلوا کر تیار رکھتی ہوں۔ ساتھ ہی عید کی تیاریاں بھی کرتی رہتی ہوں۔ اس طرح پورے رمضان میں مشغول رہتی ہوں۔
نجمہ طلعت (جمال پور، علی گڑھ)
نیک اعمال پر قائم رہنے کی کوشش
یہ کوشش رہے گی کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عبادت مکمل خشوع اور نیک نیتی سے جاری رہے اور بدی سے مکمل اجتناب رہے۔ نیک اعمال پر قائم رہتے ہوئے اپنی اصلاح کریں گے۔ گناہوں سے توبہ اور رنجشوں کو دور کیا جائے۔ تلاوت قرآن اور تراویح میں کوئی تاخیر یا کوتاہی نہ ہو۔ ایک سچے مومن کی مانند غرباء اور مسکینوں کی ہر ممکن امداد کرنے کی کوشش رہے گی۔ زکوٰۃ اور فطرہ بالکل صحیح میزان لگاکر وقت رہتے ہوئے مستحق افراد تک پہنچانے کے عمل کو یقینی بنایا جائیگا۔ جس سے وہ لوگ اس کا جلد استعمال کرسکیں۔
سلطانہ صدیقی (جامعہ نگر، نئی دہلی)
قرآن کی تلاوت اور تراویح کا اہتمام
رمضان میں عبادت اور گھریلو کاموں کی نسبت کو متوازن رکھنا بیحد ضروری ہے۔ امسال رمضان میں میری کلاسیز کے بچوں کی سالانہ امتحان کی تیاریاں بھی شامل ہیں۔ افطار کی تیاری، سحری کا اہتمام، یہ ساری تو اپنے دہن کی آگ بجھانے والے ایندھن ہیں۔ مگر یہ وہ مہینہ ہے جس میں روح کی خوراک بھی ضروری ہے۔ اور اس کی بھوک مٹانا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ جس میں نماز قرآن کی تلاوت، نوافل اور تراویح کا اہتمام شام ہیں۔ یہ ساری باتیں میں اپنے معمول میں عمل میں لاتی ہوں۔
مومن رضوانہ محمد شاہد (ممبرا، تھانے)
بچوں کو روزہ رکھنے کی تاکید کرنا
بیشتر خواتین کی طرح مَیں بھی اس ماہ مبارک کی مناسبت سے آنے والی اضافی ذمہ داریوں کو انجام دینے کی بھرپور کوشش کرتی ہوں۔ ابتدا گھر کی صاف صفائی سے کرتی ہوں۔ گھر کے راشن میں استعمال کی تمام ضروری سامان کی فہرست بناکر مہیا کرنا۔ گھر کے سبھی چھوٹے بڑے افراد کی ان کی پسند کے مطابق اپنی استطاعت بھر فرمائش پوری کرنا اور تمام افراد کو صحیح وقت پر سحری کے لئے بیدار کرنا۔ بچوں کو روزہ رکھنے کی تاکید کرنا، انہیں ہمت اور حوصلہ دینا جیسے کام بحسن و بخوبی انجام دیتی ہوں۔
ترنم صابری (سنبھل، یوپی)
بچیوں کی ذہن سازی
چونکہ مَیں ملازمت پیش ہوں اسلئے رمضان المبارک میں میری دہری ذمہ داریاں ہوجاتی ہیں۔ اپنے کام کو خوش اسلوبی سے انجام دینے کیلئے میں ضروری کام اور اشیاء کی فہرست بنا لیتی ہوں اور پھر اس کے مطابق اپنے کام کو ترتیب دیتی ہوں۔ میری دونوں بیٹیاں میرے ہر کام میں میرا ہاتھ بٹاتی ہیں اس لئے مجھے آسانی ہوجاتی ہے لیکن جس ذمہ داری کو میں نے خاص طور پر نبھانا چاہتی ہوں وہ یہ ہے کہ میں بچوں کو رمضان کی اہمیت بتاؤں ساتھ ہی اس ماہِ مبارک کے فیوض و برکات سے روشناس کروا ؤں۔
شیخ نسیم رضوان (کرلا، ممبئی)
دینی تعلیمات پر عمل پیرا رہیں
رمضان المبارک کی جہاں بیش بہا فضیلتیں ہیں وہیں رمضان کی ہم پر ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ اہم ذمہ داریوں میں سے یہ ہے کہ ایمانداری کے ساتھ رمضان کے علاوہ بقیہ گیارہ مہینوں میں بھی اسی تعلیمات پر عمل پیرا رہیں۔ تلاوت قران پاک کے ساتھ اسکے مفہوم کوبھی سمجھنا ہمارے لئے اہم ہے تاکہ ہم اللہ کے پیغام حق کو مکمل طور پر سمجھ سکیں اور اپنی زندگیوں میں اس کااطلاق کرسکیں۔ ناجائز اور حرام چیزوں اور کاموں سے باز رہیں ورنہ تمام نیکیاں ضائع ہوجائیں گی۔ اپنے اندر صلہ رحمی پیدا کریں۔
تسنیم کوثر انصار پٹھان (کلیان، تھانے)
ہر کام اللہ کی رضا کیلئے
رمضان ہمیں وقت کا پابند بناتا ہے جس میں ہر کام ہمیں ایک مخصوص وقت پر کرنا ہوتا ہے، چاہے سحری ہو یا افطار کی تیاری، نمازوں کو وقت پر ادا کرنا اور تلاوت قران پاک کرنا سمجھ کر اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنا۔ رمضان ہمارا ٹریننگ پیریڈ ہوتا ہے اس مہینے تربیت حاصل کرکے ہمیں باقی کے ۱۱؍ مہینے بھی اسی کے مطابق گزارنا چاہئے۔ ایک مومن کو اللہ کی رضا کیلئے ہر کام کرنا چاہئے تاکہ وہ اس کا مقرب بندہ بن سکے۔ اللہ ہم سب کو اچھے سے اچھا کام کرنے کی اور اللہ کو راضی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
طلعت شفیق (دہلی گیٹ، علیگڑھ)
نیکیوں کی فضا قائم ہو جائے
رمضان کا مہینہ مبارک بھی ہے اور مقدس بھی۔ اس کا استقبال کچھ اس طرح کیا جانا چاہئے کہ معاشرے میں نیکیوں کی فضا قائم ہوجائے۔ اسی مہینے میں قرآن کریم کا نزول ہوا۔ اس لئے خود کو تلاوت میں مصروف رکھیں۔ افطار و سحری کی تیاریاں بھی ہماری ذمےداریاں ہیں۔ لہٰذا اس کی ادائیگی میں بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوش اسلوبی سے سرانجام دینا چاہئے۔
فاطمہ فہد (بنارس، یو پی)
ہم اپنے فرض کو خوشی خوشی انجام دیتی ہیں
ماہ رمضان کی آمد ہو چکی ہے، اس کے ساتھ ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں۔ روزہ رکھ کر زیادہ وقت کام میں نہ جائے اور عبادت کیلئے زیادہ وقت مل جائے، اس لئے کافی تیاری پہلے سے کرکے رکھ لیتی ہوں۔ مفلس کو ان کا حق پہلے ہی سے پہنچانے کی کوشش کرتی ہوں جس سے وہ اپنی ضرورتوں کو پورا کر سکیں اور ان کے بھی رمضان سہولیات سے گزرے۔ خود روزہ رکھ کر روزداروں کا خیال اور فکر کرنا یہ تو ہم خواتین کی خوش نصیبی ہے۔ کام کے ساتھ دعاؤں کا سلسلہ بھی جاری رہیگا اور ہم خواتین اس فرض کو دل سے انجام دیتی ہیں۔
ہما انصاری (مولوی گنج لکھنو)
اخلاق رذیلہ چھوڑنے کا عزم
اس مہینے میں میری ذمہ داری ہے کہ مَیں اس ماہ کی برکتوں، نعمتوں اور رحمتوں سے لطف اندوز ہوں۔ اپنی زبان پر توحید کی ترانے جاری رکھوں۔ دعا و اذکار سے اپنے اپ کو رطب اللسان رکھوں۔ بحیثیت مومنہ عام دنوں میں بھی تلاوت، عبادت، صدقات، خیرات میرا فریضہ اولیں ہو لیکن ماہ کریم رمضان میں اس کا مزید خاص اہتمام کروں۔ اس ماہ میں آنے والی شب قدر، اس کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے مجھ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس رات کی عبادت کروں۔ رب کی رحمتوں کو سمیٹوں، اس سے اپنے گناہوں کو گناہ معاف کراؤں، رب کعبہ کے سامنے اپنی آرزوئیں اور تمنائیں رکھوں اور ان کی قبولیت کی درخواست کروں۔ اس ماہ میں اپنے آپ کو بغض و حسد کینہ کپٹ اور دیگر اخلاق رذیلہ سے بھی اپنے اپ کو بچائے رکھوں اور ساتھ ہی آئندہ کرنے کا عزم بھی کروں۔
بنت رفیق (جوکھن پور، بریلی)
اصل ذمہ داری کو فراموش نہ کریں
رمضان المبارک کا با برکت مہینہ شروع ہو چکا ہے اور ہماری ذمہ داریاں یہ ہیں کہ اس کی آمد سے پیشتر ہمیں ساری تیاریاں کر لینی چاہئے۔ رمضان کی اصل ذمہ داری کو فراموش نہ کریں۔ اپنی نماز اور تلاوت کیلئے وقت متعین کریں۔ زیادہ سے زیادہ عبادت کریں۔ اپنے آس پاس کے پریشان حال لوگوں کیلئے صدقہ، زکوٰۃ اور فطرہ وقت پر دیں۔ غریب مسکین کی مدد کریں۔ اللہ تعالیٰ اس مبارک مہینے اپنے بندوں پر حد سے زیادہ مہربان ہوتا ہے۔ ہماری سب سے اہم ذمہ داری اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ فرض کے ساتھ نوافل کا اہتمام لازمی کریں۔
ایمن سمیر (اعظم گڑھ، یوپی)
برائیوں سے دوری
میری ذمہ داری ہے کہ میں اس مبارک مہینے کو اللہ کے احکامکے مطابق گزاروں۔ تمام برائیوں سے دور رہوں۔ عبادات میں مشغول رہوں۔ روزہ رکھوں۔ قرآن مجید کی تلاوت کروں۔ تراویح کا اہتمام کروں۔ صدقہ و خیرات کرتی رہوں۔ دعاوں مانگتی رہوں۔ آخری عشرے کی طاق راتوں کو تلاش کرنے کی کوشش کروں۔ اللہ تعالیٰ رمضان المبارک کو ہم سب کی نجات کا ذریعہ بنائے (آمین)۔
ملا رفعنا مجیب ( بھیونڈی)
میری کئی ذمہ داریاں ہیں
اس مہینے میں اپنے وقت کو بہتر کاموں میں صرف کرنے کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہوں۔ رمضان المبارک کی اہمیت، قرآن کریم کی فضیلت، زکوٰۃ، ہمدردی، روزے دار کو افطاری کرانے، جیسے مسائل سے لوگوں کو روشناش کروانے کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہوں۔ قران کریم کی تلاوت کرنا، تراویح پڑھنا، فضول کاموں سے اپنے اپ کو بچائے رکھنا، کچن کے کاموں میں امی کے ساتھ کام کرنا۔ پڑوسی کے گھروں میں افطاری بھجوانے کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہوں۔
گلناز مطیع الرحمٰن قاسمی (مدھوبنی، بہار)
اگلے ہفتے کا عنوان: مجھے وہ رمضان کبھی نہیں بھولتا۔
اظہار خیال کی خواہشمند خواتین اس موضوع پر دو پیراگراف پر مشتمل اپنی تحریر مع تصویر ارسال کریں۔ وہاٹس ایپ نمبر: 8850489134