دنیا کی نگاہ میں مفلس وہ ہے جس کے پاس دولت نہ ہو، مال نہ ہو، جائیداد نہ ہو، بینک بیلنس نہ ہو۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔
EPAPER
Updated: July 23, 2026, 5:02 PM IST | Dr. Khalida Khondekar | Mumbai
دنیا کی نگاہ میں مفلس وہ ہے جس کے پاس دولت نہ ہو، مال نہ ہو، جائیداد نہ ہو، بینک بیلنس نہ ہو۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔
دنیا کی نگاہ میں مفلس وہ ہے جس کے پاس دولت نہ ہو، مال نہ ہو، جائیداد نہ ہو، بینک بیلنس نہ ہو۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ اصل مفلس وہ نہیں جس کی جیب خالی ہو، بلکہ اصل مفلس وہ ہے جس کا دل احساس سے خالی ہو، جس کے ہاتھ احسان سے خالی ہوں، اور جس کی زندگی دوسروں کے درد سے بے نیاز ہو۔ جس انسان کے دل میں احساس زندہ ہو، وہ دوسروں کے زخموں کو اپنا زخم سمجھتا ہے۔ اور جس کے اندر احسان کی صفت ہو، وہ اپنے حصے کی خوشی دوسروں میں بانٹتا ہے۔ ایسا انسان بظاہر اگر فقیر بھی ہو، تب بھی حقیقت میں سب سے زیادہ مالدار ہوتا ہے۔
احساس انسان کو انسان بناتا ہے۔ یہی وہ قوت ہے جو ایک ماں کو رات بھر جاگنے پر مجبور کرتی ہے، ایک استاد کو شاگرد کے مستقبل کے لئے فکرمند بناتی ہے، ایک پڑوسی کو دوسرے کے غم میں شریک کرتی ہے، اور ایک صاحبِ استطاعت کو محتاج کے لئے جھکنے پر آمادہ کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مسائل کا حل اور اس کے ساتھ جینے کا فن!
احسان صرف مال دینے کا نام نہیں۔ کبھی ایک مسکراہٹ احسان ہوتی ہے، کبھی کسی کو حوصلہ دینا احسان ہوتا ہے، کبھی کسی کی عزت بچانا احسان ہوتا ہے، اور کبھی کسی کی خاموشی کو سمجھ لینا سب سے بڑا احسان بن جاتا ہے۔
قرآن ہمیں بار بار احسان کا درس دیتا ہے: ’’بے شک اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘ سوچئے! جس انسان کو اللہ کی محبت مل جائے، کیا وہ کبھی مفلس ہوسکتا ہے؟
آج ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ ہے کہ لوگ مال میں امیر ہوتے جارہے ہیں مگر احساس میں غریب۔ گھروں میں آسائشیں بڑھ رہی ہیں مگر دلوں میں درد کم ہوتا جارہا ہے۔ ہم دوسروں کی ضرورتیں دیکھتے ہیں، مگر محسوس نہیں کرتے۔ ہم تکلیفیں سنتے ہیں، مگر دل نہیں پگھلتا۔
یاد رکھئے، زندگی کا حسن صرف لینے میں نہیں، دینے میں ہے۔ ہاتھ جب تک صرف اپنی طرف بڑھتا ہے، وہ محدود رہتا ہے؛ مگر جب دوسروں کی طرف بڑھتا ہے، وہ اللہ کے نزدیک بلند ہوجاتا ہے۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا: ’’اللہ بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: جینے کیلئے کھا نا ہے یا کھانے کیلئے جینا ہے؟
یہی اصل دولت ہے۔ جو دوسروں کے کام آتا ہے، اللہ اس کے لئے ایسے راستے کھول دیتا ہے جن کا وہ گمان بھی نہیں کرسکتا۔ احسان کرنے والا کبھی خالی نہیں ہوتا۔ اگر وہ مال دیتا ہے تو بدلے میں دعا پاتا ہے۔ اگر وقت دیتا ہے تو محبت پاتا ہے۔ اگر سہارا دیتا ہے تو عزت پاتا ہے۔ اور اگر دل دیتا ہے تو اللہ کی رضا پاتا ہے۔
دنیا کا اصول ہے: جو خرچ کرو گے، وہ کم ہوگا۔ لیکن اللہ کا اصول ہے: جو اللہ کی راہ میں دو گے، وہ کئی گنا بڑھ کر لوٹے گا۔
یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں وہی لوگ ہمیشہ زندہ رہے جنہوں نے دوسروں کے لئے جینا سیکھا۔ ان کے پاس خزانے نہیں تھے، مگر دلوں کی سلطنت تھی۔ آج اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نسلیں بہتر بنیں، تو انہیں احساس سکھانا ہوگا، احسان سکھانا ہوگا۔ کیونکہ جس بچے کے دل میں دوسروں کا درد ہوگا، وہ کبھی ظالم نہیں بنے گا۔
آخر میں بس اتنا یاد رکھئے، دولت ختم ہوسکتی ہے، جائیداد چھن سکتی ہے، منصب چھن سکتا ہے، مگر احساس اور احسان وہ سرمایہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ جو دل بانٹتا ہے، وہ کبھی ٹوٹتا نہیں۔ جو ہاتھ دیتا ہے، وہ کبھی خالی نہیں رہتا اور جو انسان دوسروں کیلئے جیتا ہے، وہ کبھی مفلس نہیں ہوتا کیونکہ اصل امیری جیب میں نہیں، دل میں ہوتی ہے۔