زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں، ان سے گھبرانے کے بجائے ان کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ اکثر معمولی پریشانی پر بھی ہم پس و پیش میں پڑ جاتے ہیں جس سے مصیبت کا سامنا کرنے کی صلاحیت کمزور پڑ جاتی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ مشکلات کو اپنا ساتھی سمجھیں کہ یہ ہمیں مضبوط بنانے میں مدد کرتی ہیں۔
جب ہر طرف اندھیرا محسوس ہو تب بھی یہ یقین رکھنا چاہئے کہ اُجالا بھی بہت زیادہ دور نہیں ہے۔ تصویر: آئی این این
کامیاب اور عام انسان، اسی طرح خوش اور غمگین افراد کے درمیان یہی ایک فرق ہوتا ہے کہ وہ مسائل کو کس نظریے سے دیکھتے ہیں۔ عام انسان مسئلے کو بڑا کر دیتے ہیں اور مسئلہ ہمارے لئے کتنا نقصاندہ ہوگا اس پر غور کرتے ہیں اور پھر اُس سے نپٹنے کی قوت ہی کھو بیٹھتے ہیں۔ جبکہ عقلمند انسان یہ سوچتا ہے کہ اگر مَیں زندہ ہوں تو مسائل آتے رہیں گے۔ خوشی اور غم کوئی ہمیشہ رہنے والے تو ہیں نہیں۔ اگر بُرے دن ہیں تو اچھے بھی آئیں گے یہ سوچ رکھنی ضروری ہے۔ دنیا میں ہر انسان کو الگ الگ مسائل سے جوجھنا پڑتا ہے۔ غریبوں کو پیسوں کی کمی، دولتمندوں کو بیماری اور وقت کی کمی، جو کنوارے ہیں اُن کو شادی کی فکر، شادی شدہ کو ہم سفر سے شکوے شکایت، بے اولاد کو اولاد کی فکر کھائے جاتی ہے اور صاحبِ اولاد کو بچّوں کی فکریں، غرض کہ کئی مسائل ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: لہسن، کڑی پتہ یا ثابت لال مرچ، کون سا تڑکا کس پکوان کے لئے استعمال کرنا چاہئے؟
زندگی کے نشیب و فراز یا اُتار چڑھاؤ ایک فطری عمل ہے جو ہر انسان کے سفر کا حصہ ہے۔ یہ کامیابی اور ناکامی، خوشی اور غم، اُمید و مایوسی کے درمیان کا توازن ہے جو انسان کو مضبوط بناتا ہے اور قیمتی تجربات سکھاتا ہے۔ زندگی کے نشیب و فراز کو بہتر انداز میں سمجھنے اور اُن کا مقابلہ کرنے کیلئے درج ذیل باتوں کو مدنظر رکھا جاسکتا ہے:
ذاتی نشوونما
ناکامیاں اور چیلنج انسان کو اندرونی طور پر مضبوط بناتے ہیں۔ مشکلات سے لڑنے کا حوصلہ ہی کامیابی کی بنیاد بنتا ہے۔
حقیقت پسندی
ہر دور یکساں نہیں رہتا۔ اچھے لمحات شکر گزاری کے مواقع دیتے ہیں جبکہ مشکل حالات، صبر اور استقامت کا امتحان لیتے ہیں۔
اُمید کا دامن
مایوسی کے لمحات عارضی ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر تاریک رات کے بعد روشن صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ مشکل وقت میں ذہنی سکون اور استحکام کے لئے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے یا پھر ہم بذاتِ خود مثبت سوچ سے مسائل کا حل تلاش کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بزرگوں سے بے رُخی.... تہذیبی زوال کی علامت
کوئی بھی انسان مسائل سے راہِ فرار نہیں اختیار کرسکتا۔ اس کے لئے اہم مشورہ یہی ہے کہ مسائل کو زندگی کا جُز سمجھئے۔ کیونکہ مسائل تو آتے جاتے رہیں گے یہ بات تو یقینی ہے۔ جب ہم ہی یہاں مستقل نہیں ہیں تو پھر مسائل کیسے مستقل رہ سکتے ہیں۔ جب خوشی کے لمحات آئیں تو اُن سے لطف اندوز ہو کر خدا کا شکر ادا کرنا نہ بھولیں۔ اور اگر مسائل پیدا ہوں تب بھی بارگاہِ ایزدی میں خدا سے پناہ مانگیں۔ اور اُن کا حل تلاش کریں۔ یہ شکوہ کبھی نہ کریں کہ مسائل میرے ساتھ ہی کیوں ہیں؟ سب کی زندگی اس سے علاحدہ نہیں ہے۔ زندگی میں کئی بار ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب انسان بالکل نااُمید ہوجاتا ہے۔ اُسے ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے اور اُس کے مقابلے میں جتنی بھی ترقی ہوئی وہ اس عزم و ہمت کا نتیجہ ہے جو کہ اللہ نے انسان کو عطا فرمایا۔ اسلئے ہمت ہارنا بزدلی کی نشانی ہے۔ کبھی بھی مشکلات کے سامنے ہتھیار نہ ڈالیں اور ناکامیوں کا مقابلہ کریں تو اللہ تعالیٰ ایک دن اُسی ناکامی اور مسئلے سے آپ کو کامیابی عطا کرے گا۔
دل نہ اُمید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
(بشیربدرؔ)
گزشتہ دنوں کی بات ہے میں دہلی سے ممبئی آنے کے لئے ہوائی جہاز کی سیٹ پر بیٹھی کتاب کا مطالعہ کرنے کے لئے صفحات اُلٹ پلٹ کر رہی تھی۔ ہوائی جہاز نے تھوڑی سے اُڑان بھری ہی تھی کہ لوگوں نے ائیر ہوسٹیس سے لڑائی کرنی شروع کردی۔ اے سی شروع نہیں ہورہا ہے تو ہمارا دم گھٹ رہا ہے۔ ایک خاتون تو نیم بے ہوشی کی حالت کو پہنچ گئی۔ اس طرح ہوائی جہاز کو نیچے اُتارا گیا اور اُسے میڈیکل کے لئے روانہ کیا گیا۔ گھبرا تو سبھی رہے تھے۔ میں نے بھی خدا سے دُعا مانگی یا اللہ اتنی مہلت دے کہ گھر والوں مل لوں، کچھ معافی وغیرہ مانگ لوں۔ اُن کے ساتھ کچھ وقت گزار لوں۔ تھوڑی ہی دیر میں ہوائی جہاز کے تمام مسافروں کو نیچے اُتارا گیا اور پھر رات کے ۴؍ بجے کے قریب دوسرے ہوائی جہاز میں سوار کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ماں کی قدر کرنا دراصل اللہ کی رحمت کی قدر کرنا ہے
کورونا میں ایک سہیلی کی موت واقع ہوگئی۔ وہ اپنی آخری خواہش تک گھر والوں کو بتا نہ سکی۔ اُس مشکل گھڑی میں چند لوگوں نے مثبت سوچ کے ذریعہ خود کو تکلیف سے بچا لیا۔ اور جو منفی سوچ میں مبتلا تھے دہشت کے مارے دنیا سے چل بسے۔ خوف اور دہشت بھی انسان کے دماغ کو ماؤف کر دیتا ہے۔ اس لئے چاہے کوئی بھی مسئلہ ہو خود کو مطمئن رکھنا سیکھئے۔ شاعر سید صادق حسینؔ نے بالکل درست فرمایا ہے؎
تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے!