Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان کی جین زی کو اے آئی ٹولز پر مہارت حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے: سیم آلٹ مین کا مشورہ

Updated: March 08, 2026, 2:06 PM IST | Washington

آلٹ مین نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے ٹیکنالوجی انڈسٹری میں کریئر کا راستہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ کئی برسوں سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ کوڈنگ سیکھنا، بڑی ٹیک کمپنیوں میں زیادہ تنخواہ والی ملازمتوں کا سب سے قابلِ اعتماد ذریعہ ہے۔ اگلی نسل کے لئے اب یہ طریقہ کار کافی نہیں رہا۔

Sam Altman. Photo: X
سیم آلٹ مین۔ تصویر: ایکس

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے میدان کی معروف کمپنی اوپن اے آئی (OpenAI) کے سی ای او سیم آلٹ مین نے عملی زندگی میں قدم رکھنے والے ہندوستانی نوجوانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ محض روایتی کوڈنگ کی مہارتوں پر بھروسہ کرنے کے بجائے اے آئی ٹولز پر مہارت حاصل کرنے پر توجہ دیں۔

آلٹ مین نے ’اسٹریٹچری پوڈ کاسٹ‘ (Stratechery Podcast) پر گفتگو کے دوران کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے ٹیکنالوجی انڈسٹری میں کریئر کا راستہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ کئی برسوں سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ کوڈنگ سیکھنا، بڑی ٹیک کمپنیوں میں زیادہ تنخواہ والی ملازمتوں کا سب سے قابلِ اعتماد ذریعہ ہے۔ لیکن، اگلی نسل کے لئے اب یہ طریقہ کار کافی نہیں رہا۔

آلٹ مین نے زور دیا کہ ”نوجوانوں کیلئے واضح حکمتِ عملی یہی ہے کہ وہ اے آئی ٹولز کے استعمال میں واقعی بہت اچھے ہو جائیں۔“ انہوں نے اس تبدیلی کا موازنہ انٹرنیٹ کے ابتدائی دور سے کیا جب ٹیکنالوجی کے شعبے میں کریئر کے لئے پروگرامنگ کی مہارتیں ناگزیر ہو گئی تھیں۔ انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ ہائی اسکول سے فارغ التحصیل ہو رہے تھے، تو یہ واضح بات تھی کہ کوڈنگ میں بہت مہارت حاصل کی جائے، یہ (اے آئی) اب اسی کا جدید ورژن ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اے آئی امپیکٹ سمٹ ۲۰۲۶ء: یہ سمٹ طلبہ کو ۲۵؍ باتیں سکھاتا ہے ، جانئے وہ کیا ہیں؟

ہندوستان کے نوجوانوں کیلئے سبق

آلٹ مین کے تبصرے، ہندوستان جیسے ممالک کے طلبہ اور نوجوان پیشہ ور افراد کے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ یہاں بڑی تعداد میں گریجویٹس عالمی ٹیک کمپنیوں میں کریئر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ میں اے آئی کا انضمام بڑھ رہا ہے، اس لئے آلٹ مین کا کہنا ہے کہ اے آئی سسٹم کے ساتھ مؤثر طریقے سے کام کرنے کا طریقہ سمجھنا مستقبل کے روزگار کے لئے ایک اہم مہارت بن سکتا ہے۔

اوپن اے آئی کے سربراہ نے نوٹ کیا کہ اے آئی پہلے ہی سافٹ ویئر کی تیاری کے طریقہ کار کو بدل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سی تنظیموں میں انجینئرنگ ٹیموں کی جانب سے لکھے جانے والے کوڈ کا تقریباً نصف حصہ اب اے آئی ٹولز تیار کرتے ہیں۔

اسی طرح کے خیالات کا اظہار دیگر ٹیک کمپنیوں کے سربراہان نے بھی کیا ہے۔ اینتھروپک (Anthropic) کے سی ای او ڈاریو اموڈئی نے حال ہی میں پیش گوئی کی ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ اے آئی سسٹم چند ماہ کے اندر سافٹ ویئر کا ۹۰ فیصد کوڈ لکھنے کے قابل ہو جائیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: پینٹاگون کے ساتھ شراکت داری کے بعد چیٹ جی پی ٹی ایپ اَن انسٹال کرنے کی شرح میں ۲۹۵؍ فیصد اضافہ

امریکی حکومت کے ساتھ کمپنی کے تعاون پر آلٹ مین نے کیا کہا؟

آلٹ مین نے امریکی حکومت کے ساتھ اوپن اے آئی کے تعاون کے بارے میں کمپنی میں ہوئی اندرونی بات چیت کا بھی ذکر کیا۔ رپورٹس کے مطابق، انہوں نے ملازمین کو بتایا کہ اوپن اے آئی، اے آئی ٹیکنالوجیز تیار کرتی ہے اور حتمی طور پر اس کا ان نظاموں پر کنٹرول نہیں ہے کہ سرکاری ایجنسیاں انہیں کس طرح استعمال کرتی ہیں۔

یہ تبصرے امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ اوپن اے آئی کی شراکت داری پر کچھ عملے کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کے بعد سامنے آئے ہیں۔ آلٹمین نے کہا کہ کمپنی کی قیادت نے ان خدشات کو کھلے دل سے دور کرنے کی کوشش کی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK