’’تعلیم نامہ ‘‘ کی تیسری قسط جس میں شرکاء نے حصول تعلیم کی راہ میں حائل دشواریوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ تعلیم کے تعلق سے کم یا زیادہ جو بھی بیداری آئی ہے اب اسے نتیجہ خیز بنانے کی ضرورت ہے
EPAPER
Updated: September 25, 2021, 2:30 PM IST | Mumbai
’’تعلیم نامہ ‘‘ کی تیسری قسط جس میں شرکاء نے حصول تعلیم کی راہ میں حائل دشواریوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ تعلیم کے تعلق سے کم یا زیادہ جو بھی بیداری آئی ہے اب اسے نتیجہ خیز بنانے کی ضرورت ہے
اب تک کی ہم نے جو گفتگو کی وہ ہماری حصولیابیوں پر مشتمل تھی، میں چاہوں گا کہ ہم اپنی کمیوں کا بھی احاطہ کرلیں۔ کہا جاتا ہے کہ گلاس آدھا خالی ہے اور آدھا بھرا ہوا بھی ہے یعنی ہمارے سامنے وسائل ہیں تو مسائل بھی بہت زیادہ ہیں۔ کسی چمن زار کو دیکھ کر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کے پیچھے ایک گہری کھائی نہیں ہے جو دلدل سے بھری ہوئی ہے۔ بہت سے علاقوں میں مسلم طلبہ بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں مگر ان کے پڑوس ہی کی کسی آبادی میں ایسے طلبہ ملیں گے جن پر توجہ کی ضرورت ہے۔ پورا تعلیمی منظرنامہ جہاں ہمیں خوش ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے وہیں پر غور و فکر کی بھی دعوت دیتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب ، آپ یہ بتائیں کہ کون سے مسائل آپ دیکھتے ہیں؟ مثال کے طور پر پسماندگی ہے ، غربت ہے، تعلیم ترجیحات میں شامل نہیں وغیرہ۔ اس کے علاوہ کون سے مسائل آپ تک پہنچتے ہیں؟
ڈاکٹر ظہیر قاضی: بڑی تعداد میں ہماری بیٹیاں پڑھائی کرتی ہیں لیکن اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ایس ایس سی کے بعد اور جونیئر کالج تک تو لڑکیوں کو بھیجتے ہیں لیکن سینئر کالج کے لئے تیار نہیں ہوتے کہ نہیں ، کمبائن (مخلوط) تعلیم ہے، ہماری بچیاں بگڑ جائیں گی، وغیرہ۔ اس طرح لڑکیاں اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر باندرہ میں جب لڑکیوں کو گرلز اسکول میں داخلہ نہ ملے تو دوسرا آپشن جوگیشوری کا ہے، والدین لڑکیوں کو اتنی دور بھیجنا نہیں چاہتے اور گھر بٹھا لیتے ہیں۔ یہ ایک مسئلہ ہے۔ دوسرا جو میری سمجھ میں آتا ہے وہ ویمن ڈگری کالج بنانے پر توجہ نہ دینا ہے۔ ڈراپ آؤٹس کا مسئلہ اس لئے بھی ہے کہ بہت سے اسکولوں میں آج بھی معیاری تعلیم نہیں ہے۔ یہ مسئلہ دیہی علاقوں میں زیادہ ہے جہاں کے بچے فیس ادا نہیں کرسکتے۔ وہ زمین پر بیٹھتے اور پڑھتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ وہ بہت ذہین ہوتے ہیں اور پڑھنا چاہتے ہیں ، لیکن ایک اسکول ایک ٹیچر میں ٹیچر کس کس بچے کی طرف توجہ دے سکتا ہے؟ چنانچہ چوتھی پانچویں جماعت میں آنے کے باوجود بچہ نہ تو ابتدائی پہاڑے یاد کرپاتا ہے نہ ہی اپنا نام صحیح طریقے سے لکھ پاتا ہے، والدین سوچتے ہیں کہ بس، بچہ اتنا بڑا ہوگیا ہے، تھوڑا کام میں ہاتھ بٹائے گا اور اس طرح بچہ ڈراپ آؤٹ ہوجاتا ہے۔ ہائر ایجوکیشن یعنی آٹھویں کے بعد بھی جو اسکول ہیں وہ بہت دور دور ہوتے ہیں جہاں بچے نہیں جا پاتے۔ ہمارے رائٹ ٹو ایجوکیشن قانون میں ہے کہ ایک کلو میٹر کے اندر اسکول ہونے چاہئیں، ٹھیک ہے ، مگر کرتا کون ہے؟ اس کے لئے سرکار تو نہیں آرہی ہے، ایڈیڈ اسکول بھی نہیں کرتے ، اس کیلئے پرائیویٹ اسکولوں کو آگے بڑھنا ہوگا۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ لڑکے پڑھائی میں پیچھے ہیں۔
ارشد صاحب، آپ کا تعلق مالیگاؤں سے ہے جس کو پورا ہندوستان رشک آمیز نگاہوں سے دیکھتا ہے۔ یہاں پر لڑکیوں کی عربی تعلیم کیلئے قائم ہونے والا مدرسہ ایشیاء کا سب سے بڑا مدرسہ ہے، مالیگاؤں مساجد کا شہر بھی کہلاتا ہے، صحافتی سرگرمیاں بھی جاری ہیں، کئی عظیم شخصیات نے بھی یہاں بودوباش اختیار کی اور اپنا فیض عام کیا۔ فکری سطح پر میں آپ سے جاننا چاہوں گا کہ کس طرح کی تبدیلیاں اس قوم میں آنی چاہئیں تاکہ یہ کہنے کی ضرورت نہ پڑے کہ تعلیم حاصل کیجئے یا اعلیٰ تعلیم حاصل کیجئے، ازخود یہ جذبہ اندر سے ابھرے، اس کے لئے کیا ہوسکتا ہے؟
شیخ ارشد مختار: دیکھئے یہ بڑا اہم سوال ہے۔ من حیث القوم ہم سے کہیں نہ کہیں یہ بڑی غلطی ہوئی ہے کہ تعلیم جیسی اہم چیز کو ہم نے پس پشت ڈال دیا ہے۔ تھوڑا سا آپ اسے مذہبی تناظر میں بھی دیکھئے کہ ہماری پہلی وحی جو نازل ہوئی، وہ اقراء ہے۔ یہ نہیں کہا کہ نماز پڑھو، یہ نہیں کہا کہ روزہ رکھو ، حج کرو، نہیں۔ اسلام کی جو پانچ بنیادیں ہیں ان میں سے کسی کا ذکر نہ کرکے صرف اقراء کہا، پڑھو۔کیونکہ پڑھنے کے بعد ہی ان ساری چیزوں کی حقیقت آپ کے سامنے آشکارا ہوگی۔ اور ہم نے وہی چیز چھوڑ دی ۔مالیگاؤں دینی مزاج کا شہر ہے اور جیسا کہ آپ نے بھی کہا کہ مسجدوں کا شہر، کاش کہ اسکولوں کا شہر بھی قرار جاتا۔ دیکھئے، مسجدوں کے لئے اللہ کے نبی ؐ کو جو معجزے دیئے گئے اور جو آپ کے لئے خاص چیزیں تھیں اس کے لئے کہا گیا ’’میرے لئے زمین کو پاک صاف کردیا گیا ہے‘‘ مطلب آپ نماز کہیں بھی پڑھ سکتے ہیں۔ نماز کیلئے سنگ مرمر اور ایئرکنڈیشن ضروری نہیں، کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہم اسکولیں بناتے اور نیچے ایک ہال نماز کے لئے مختص کرتے۔
ارشد صاحب ، آپ کی بات قطع نہیں کررہا ہوں، لیکن مالیگاؤں میں بھی تو بڑے عصری تعلیمی ادارے ہیں جن کا دور دور تک نام ہے؟
شیخ ارشد مختار: ہیں، اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن میرا اب تک کا جو تجربہ رہا ہے مسلم بیلٹ کے جتنے بھی شہر ہیں ، مالیگاؤں ہو یا بھیونڈی یا اترپردیش کے مئو وغیرہ، یہاں ہمارے بچے ہائی اسکول تک جاتے ہیں اور ہائی اسکول کے رزلٹ بھی ۱۰۰؍فیصد ہوتےہیں لیکن جب وہ اگلے مرحلوں میں پہنچتے ہیں تو انہیں اپنی صلاحیتوں کا ادراک ہوتا ہے اور وہاں سے ڈراپ آؤٹ شروع ہوتا ہے۔ اس لئے ہم کو پہلے مرحلے سے یعنی کے جی سے کوالیٹی ایجوکیشن پر محنت کرنی پڑے گی۔ بغیر کوالیٹی ایجوکیشن کے ، ہم اس بھاگتی ہوئی دنیا میں مقابلہ نہیں کرسکتے۔
کیا ہم ایسا محسوس نہیں کرتے کہ ہم تعلیم کے فوری فوائد تلاش کرتے ہیں کہ بچہ پڑھے گا ، اچھی ملازمت حاصل کرے گا اور اس سے ہمیں معاشی فوائد حاصل ہوں گے ؟ کیا ہم کو اپنی قوم میں یہ سوچ لانے کی ضرورت نہیں کہ تعلیم صرف ملازمت کے لئے نہیں بلکہ یہ ایک بہت بڑا منصب ہے ؟ ہم اگر اپنی فکر کو بالیدہ کرنا چاہتے ہیں، مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں ، ندرت آمیزی اپنے خیالات میں پیدا کرنا چاہتے تو اپنی دینی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی سرافراز ہونے کی کوشش کریں، جو اعلیٰ ترین مناصب ہیں وہاں تک پہنچیں اور اس طرح اپنی سیاسی، سماجی اور معاشی بے اثری کو ختم کرکے بااثر قوموں میں شامل ہونے کی کوشش کریں، یہ فکر کیسے پیدا ہوسکتی ہے؟
شیخ ارشد مختار: ہم نے اس پر بہت زیادہ غور کیا ہے۔ بدقسمتی سے تعلیم کے تئیں بے حسی درآئی ہے ۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ قوم کا دینی شعور اب بھی باقی ہے اور ایک بڑا طبقہ کم از کم جمعہ کے دن مسجدوں میں حاضر ہوتا ہے۔ اگر ہم تعلیمی بیداری کو دین سے ہم آہنگ کردیں اور جمعہ کے خطبات میں تعلیم پر اظہارِ خیال کو لازم کرلیں تو میں سمجھتا ہوں کہ اس کے فوائد زیادہ ہوں گے اور نتیجہ ان شاء اللہ بہتر آئے گا۔
شریف صاحب، کس طرح لوگوں کے سوچنے کا ڈھنگ بدلا جائے، جو تبدیلی ہم چاہتے ہیں کہ یہ بھی ہو یہ بھی ہو … تو اس کے لئے کیا کیا جانا چاہئے؟
محمد شریف تھم: ارشد صاحب نے جو تجویز پیش کی ہے وہ بہت اچھی لگی، میں اس کی تائید کروں گا کیونکہ جمعہ کی نماز میں ہم اچھا خاصا مجمع دیکھتے ہیں۔ اگر ہمیں لوگوں کو ایک جگہ جوڑنا ہے اور ان کو تعلیم کی اہمیت بتانا اور سمجھانا ہے تو سب سے زیادہ افراد یہیں ہوتے ہیں۔ مسجد ایسی جگہ ہے کہ جہاں سنی ہوئی باتیں دلوں پر اثر کرتی ہیں۔ جمعہ کے دن ۵؍ یا ۷؍ منٹ کا ایک مختصر سا بیان تعلیم پر ہوتو ان شاء اللہ بتدریج اس کا اثر ہوتا جائے گا اور حالات بدلیں گے۔
اس گفتگو کو کہیں نہ کہیں سمیٹنا ضروری ہے۔ ۹۲ء سے اب تک ہم تقریباً تیس سال تک کا عرصہ گزار چکے ہیں۔ اب کیا رہنما خطوط مرتب کئے جانے چاہئیں یعنی تعلیم میں ہمارا رخ کس طرف ہو؟ قارئین، سامعین اور ناظرین کے لئے آپ کا کیا پیغام ہے؟
ڈاکٹر ظہیر قاضی: ہمارے جتنے مسائل ہیں ان کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے تعلیم وہ بھی معیاری تعلیم۔ہمیں اس پر توجہ دینی چاہئے۔ لڑکیوں کی تعلیم پر بھی توجہ دینا چاہئے۔ دوسرے یہ کہ ڈجیٹل پلیٹ فارمس کی اچھائی اور برائی دونوں ہے جس میں اکثر بچے برائی میں بہہ جاتے ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ اس کو بہت احتیاط کے ساتھ استعمال کیا جائے اور بالخصوص والدین اس کی نگرانی کرتے رہیں۔ ہوسکے تو والدین اپنے بجٹ میں جو فضول خرچی ہوتی ہے اس سے بچتے ہوئے بچے کی تعلیم پر خرچ کریں کہ یہ بہترین سرمایہ کاری ہوتی ہے جو مستقبل کی تعمیر میں مدد دیتی ہے۔
شیخ ارشد مختار: میں ڈاکٹر صاحب کی صدفیصد تائید کروں گا کہ ہمارا یک نکاتی پروگرام تعلیم اور صرف تعلیم ہونا چاہئے۔ اس اضافے کے ساتھ کہ بغیر دینی معلومات کے تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے۔ جب آپ اس تعلیم کو دین کے ساتھ جوڑیں گے تو یہ تعلیم ایسی سوچ عطا کرے گی جس میں یہ غور طلب پہلو شامل رہے گا کہ رب العالمین نے مسلمانوں کو دنیا کی قیادت کیلئے پیدا کیا تھا لہٰذا صرف دینی قیادت نہیں بلکہ ہر شعبہ ہائے حیات کی قیادت ہمارا فرض ہے۔
محمد شریف تھم: میں تو یہی کہوں گا کہ ماں ایک بہتر استاد ہوتی ہے اور اس کے سوا کوئی بہتر تعلیم نہیں دے سکتا۔ اس لئے ہمیں لڑکیوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے، ان کو تعاون دینا چاہئے تاکہ وہ اپنی آنے والی نسل کو تعلیم یافتہ بنانے میں کلیدی کردار ادا کرسکیں۔
’’تعلیم نامہ‘‘ کے اس اجلاس میں اتنا ہی، اگلے ایپی سوڈ میں کچھ اور تعلیمی شخصیات سے ملاقات کا نظم کیا جائیگا تب تک کیلئے خدا حافظ۔
(تحریر: شاہد لطیف)
پہلی قسط:۳۰؍ برس کی تعلیمی پیش رفت قابل ذکر ہے مگر بہت کچھ اب بھی باقی ہے
دوسری قسط: سرکاری اور قانونی ضابطے مکمل ہوں تو اداروں کے قیام میں کوئی دشواری نہیں آتی