حسد اور جلن وہ خاموش بیماریاں ہیں جو انسان کے دل میں جنم تو خاموشی سے لیتی ہیں مگر رفتہ رفتہ اس کی سوچ شخصیت اور تعلقات کو متاثر کرنے لگتی ہیں۔
EPAPER
Updated: June 11, 2026, 3:54 PM IST | Khan Safiya Mohammed Sharif | Mumbai
حسد اور جلن وہ خاموش بیماریاں ہیں جو انسان کے دل میں جنم تو خاموشی سے لیتی ہیں مگر رفتہ رفتہ اس کی سوچ شخصیت اور تعلقات کو متاثر کرنے لگتی ہیں۔
حسد اور جلن وہ خاموش بیماریاں ہیں جو انسان کے دل میں جنم تو خاموشی سے لیتی ہیں مگر رفتہ رفتہ اس کی سوچ شخصیت اور تعلقات کو متاثر کرنے لگتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ حاسد شخص آپ کے لئے بد دعائیں کرے یا آپ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرے اکثر اوقات اس کی خاموشی اس کی بے دلی یا آپ کی کامیابی پر اس کی غیر محسوس بے چینی ہی اس کے اندر چھپی کیفیت کو ظاہر کر دیتی ہے۔ اسے آپ کی محرومی سے اتنی خوشی نہیں ہوتی جتنی آپ کی کامیابی سے بے چینی ہوتی ہے۔ وہ یہ برداشت نہیں کر پاتا کہ کسی اور کو وہ عزت، مقام، محبت یا کامیابی حاصل ہو جائے جو اس کے حصے میں نہیں آئی۔ زندگی میں بہت سے لوگ آپ کی خوشیوں میں شریک دکھائی دیتے ہیں لیکن ہر شریکِ خوشی مخلص نہیں ہوتا۔ بعض لوگ مبارکباد کے الفاظ تو ادا کر دیتے ہیں مگر ان کے دل اس خوشی کو قبول نہیں کر پاتے۔ ان کے لئے دوسروں کی ترقی ایک ایسی حقیقت بن جاتی ہے جسے وہ دیکھ تو سکتے ہیں مگر دل سے تسلیم نہیں کرسکتے۔ ایسے لوگ اکثر موازنوں کی دنیا میں زندہ رہتے ہیں جہاں دوسروں کی کامیابی ان کی اپنی ناکامی محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہی سوچ حسد کو جنم دیتی ہے اور پھر انسان دوسروں کی نعمتوں کو دیکھتے دیکھتے اپنی نعمتوں کی قدر کھو بیٹھتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ماں اور بڑی بہن کی مشترکہ محنت بچے کے روشن مستقبل کی ضمانت
وقت انسان کو یہ سکھا دیتا ہے کہ ہر تعریف اخلاص نہیں ہوتی اور ہر تعلق وفاداری کی ضمانت نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ آپ کے عروج کے دنوں میں آپ کے قریب رہتے ہیں مگر دل سے آپ کی بلندیوں کو قبول نہیں کر پاتے۔ ان کے رویوں میں ایک انجانی سی سرد مہری باتوں میں ایک غیر محسوس سی تلخی اور خوشیوں میں ایک عجیب سی بے رنگی نظر آنے لگتی ہے۔ یہی وہ نشانیاں ہیں جو انسان کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہیں کہ کون واقعی اس کی کامیابی پر خوش ہے اور کون صرف حالات کے تقاضے کے تحت ساتھ چل رہا ہے۔ حسد کرنے والا درحقیقت دوسروں سے زیادہ خود اپنا نقصان کرتا ہے۔ وہ اپنی توانائیاں اپنی ترقی پر صرف کرنے کے بجائے دوسروں کی زندگیوں کا حساب لگانے میں ضائع کر دیتا ہے۔ اس کا سکون دوسروں کی کامیابیوں سے وابستہ ہو جاتا ہے اس لئے وہ کبھی حقیقی اطمینان حاصل نہیں کر پاتا۔ جس دل میں حسد گھر کر لے وہاں شکرگزاری قناعت اور قلبی سکون کے لئے جگہ کم پڑ جاتی ہے۔ ایسے لوگ اکثر اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ رزق، عزت، محبت اور کامیابی تقسیم کرنے والا رب ہے اور کسی کی نعمت دوسرے کے حصے کو کم نہیں کرتی۔
عقلمند انسان وہ ہے جو لوگوں کے رویوں کو وقت کے آئینے میں پرکھنا جانتا ہو۔ وہ نہ ہر تعریف پر یقین کرتا ہے اور نہ ہر مخالفت سے پریشان ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ دنیا میں سب سے قیمتی چیز لوگوں کی رائے نہیں بلکہ اپنے رب کی رضا اور اپنے دل کا سکون ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پریشر کوٗکر میں خرابی آجانے پر یہ تدابیر اپنائیے
جب انسان دوسروں کی کامیابیوں سے متاثر ہونے کے بجائے اپنی راہ پر توجہ دینا سیکھ لیتا ہے تو وہ حسد، جلن اور موازنوں کی زنجیروں سے آزاد ہو جاتا ہے۔ بلند ظرفی یہ نہیں کہ انسان دوسروں سے آگے نکل جائے بلکہ یہ ہے کہ دوسروں کو آگے بڑھتا دیکھ کر بھی اس کے دل میں خیرخواہی باقی رہے۔ جو شخص دوسروں کی خوشیوں میں خوش ہونا ان کی کامیابیوں پر دل سے دعا دینا اور اپنی تقدیر پر راضی رہنا سیکھ لیتا ہے وہ ایک ایسی دولت حاصل کر لیتا ہے جو نہ بازاروں میں ملتی ہے اور نہ دنیاوی کامیابیوں سے۔ کیونکہ سکون اُن دلوں میں اترتا ہے جو حسد سے خالی، شکر سے آباد اور خیرخواہی سے روشن ہوتے ہیں۔