ملاوٹ کرنے والے اکثر پانی، یوریا اور دیگر سستے کیمیکل ملا کر مصنوعی دودھ تیار کرتے ہیں۔ دودھ کو اصلی ظاہر کرنے کیلئے اس میں وہ ڈٹرجنٹ ملاتے ہیں جو صحت کیلئے سخت نقصاندہ ہے۔
EPAPER
Updated: July 27, 2026, 10:44 AM IST | Mumbai
ملاوٹ کرنے والے اکثر پانی، یوریا اور دیگر سستے کیمیکل ملا کر مصنوعی دودھ تیار کرتے ہیں۔ دودھ کو اصلی ظاہر کرنے کیلئے اس میں وہ ڈٹرجنٹ ملاتے ہیں جو صحت کیلئے سخت نقصاندہ ہے۔
ممبئی ، (ایجنسی ): فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی لیباریٹریز میں دودھ میں ملاوٹ کے تشویشناک معاملے کا پردہ فاش ہوا ہے جس میں مہاراشٹر بھر سےضبط کئے گئے دودھ کے متعدد نمونوں میں ڈٹرجنٹ کا پتہ چلا ہے۔یہ نتائج ایف ڈی اے لیب ٹیکنیشنز کی لائیو ٹیسٹنگ کے دوران سامنے آئے جس سے صارفین تک پہنچنے والے دودھ کے معیار اور حفاظت کے بارے میں سنگین خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ اس بارے میں ’این ڈی ٹی وی‘ ٹیم نے ٹیسٹنگ لیب میں جانچ کا خود مشاہدہ کیا ۔
تجزیے کیلئے لیباریٹری کو بھیجی گئی مختلف غذائی اشیاء میں سب سے زیادہ دودھ کے نمونے تھے۔ ان کی جانچ کے عمل کے دوران ان میں سے بہت سے نمونوں میں ڈٹرجنٹ پایا گیا جس کی دودھ میں کوئی جگہ نہیں ہے لیکن ملاوٹ کرنے والے مبینہ طورپراسے مصنوعی دودھ کواصلی ظاہر کرنے کیلئے اس کا استعمال کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی میں کروڑوں روپے کی سائبر ٹھگی کا پردہ فاش
دودھ میں ڈٹرجنٹ کیوں ملایا جاتا ہے؟
حکام کے مطابق ملاوٹ کرنے والے اکثر پانی، یوریا اور دیگر سستے کیمیکل ملا کر مصنوعی دودھ تیار کرتے ہیں۔ تاہم اصلی دودھ کی شکل بنانے کیلئے وہ اس میں ڈٹرجنٹ شامل کرتے ہیں۔ ڈٹرجنٹ موٹی جھاگ پیدا کرتا ہے۔ مصنوعی جھاگ قدرتی جھاگ کی نقل ہوتا ہے جو تازہ دودھ کو ڈبے میں ڈالتے وقت نظر آتا ہے جس سے پروڈکٹ خالص، تازہ اور معیاری دکھائی دیتا ہے۔ یہ جھاگ صارفین کو یہ یقین کرنے میں آسانی سے گمراہ کر سکتا ہے کہ وہ اصلی دودھ خرید رہے ہیں۔
صحت کے سنگین خطرات
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ڈٹرجنٹ سے بنایاجانے والا ملاوٹی دودھ صارفین کی صحت کیلئے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔یہ غذائی سمّیت(فوڈ پوائزننگ)، پیٹ میں درد، الٹی، اسہال اور آنتوں کے السر کا باعث بن سکتا ہے۔ ڈٹرجنٹ میں کاسٹک سوڑا اور دیگر نقصان دہ کیمیکل ہوتے ہیں جو خون میں داخل ہو سکتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جگر اور گردے جیسے اہم اعضاء کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ایسے مادوں پر مشتمل ملاوٹی دودھ کا استعمال بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔
ایف ڈی اے دودھ میں ملاوٹ کا کیسے پتہ لگاتا ہے؟
ایف ڈی اے کی لیباریٹریز دودھ میں مختلف قسم کی ملاوٹ کی شناخت کیلئے کس طرح کے سائنسی کیمیائی ٹیسٹ استعمال کرتی ہیں، اس کا مشاہدہ این ڈی ٹی وی کی ٹیم نے کیا۔ تکنیکی ماہرین دودھ کے نمونوں میں مخصوص ریجنٹسشامل کرتے ہیں اور رنگ کی تبدیلیوں کا تجزیہ کرتے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ملاوٹ ہے یا نہیں۔
مصنوعی دودھ یا ڈٹرجنٹ کی آمیزش کی نشاندہی کیلئے تکنیکی ماہرین ’بروموکریسول پرپل سلوشن ‘کا استعمال کرتے ہیں جو ایک پی ایچ انڈیکیٹر ڈائی ہے جو کسی محلول کی تیزابیت یا اساسیت کی بنیاد پر رنگ کو بصری طور پر تبدیل کرتا ہے۔ جب کیمیکل ملاوٹ والے نمونے میں ڈالا جاتا ہے تو دودھ فوراً جامنی ہو جاتا ہے۔
این ڈی ٹی وی کی تحقیقات کے دوران بہت سے نمونے اس ٹیسٹ میں ناکام رہے اور جامنی رنگ کے ہو گئے جو ڈٹرجنٹ یا مصنوعی دودھ کی موجودگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ دودھ کو گاڑھا ظاہر کرنے کیلئے اکثر ماوا ملایا جاتا ہے۔ اس کا پتہ لگانے کیلئےتکنیکی ماہرین نمونے میں آیوڈین کے چند قطرے ڈالتے ہیں۔ اگرماوا موجود ہو تو دودھ نیلا یا سیاہ ہو جاتا ہے۔
کچھ ملاوٹ کرنے والے دودھ میں مصنوعی طور پر پروٹین کی مقدار کو بڑھانے کے لئے یوریا شامل کرتے ہیں۔ اس کی موجودگی کی نشاندہی کے لئے لیباریٹریز p-Dimethylaminobenzaldehyde
(p-DMAB) کا استعمال کرتی ہیں۔ یہ ایک کیمیائی مرکب ہے جو لیباریٹری ٹیسٹ میں استعمال ہوتا ہے تاکہ کھانے، پیشاب اور دیگر نمونوں میں بعض مادوں کا پتہ لگایا جا سکے۔ آلودہ نمونے میں شامل کئے جانے پر ریجنٹ دودھ کو پیلا کر دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایندھن کی قیمتیں بڑھنے سے اناج اورتیل کے دام میں ۳۰؍فیصدکااضافہ
دودھ کو لمبے عرصے تک دہی بننے سے روکنے کیلئے ’فارملین‘
’فارملین‘ کا استعمال بعض اوقات دودھ کو لمبے عرصے تک دہی بننے سے روکنے کیلئے کیا جاتا ہے۔ فارملین کی جانچ کرنے کیلئے دودھ کو ایک ٹیسٹ ٹیوب میں رکھا جاتا ہے اور اس میں تھوڑی مقدار میں فیرک کلورائیڈ پر مشتمل سلفیورک ایسڈ کو احتیاط سے شامل کیا جاتا ہے۔ اگر جامنی رنگ کی رِنگ بنتی ہے جہاں ۲؍ مائع ملتے ہیں تو فارملین کی موجودگی کی تصدیق ہوجاتی ہے۔
پانی میں ملاوٹ کی نشاندہی لیکٹو میٹر کے ذریعے کی جاتی ہے جو دودھ کی کثافت کی پیمائش کرتا ہے۔
ریاست میں دودھ کے نمونوں میں ڈٹرجنٹ کا پتہ چلا
مہاراشٹر کے مختلف حصوں سے جمع کئے گئے دودھ کے نمونوں میں ڈٹرجنٹ کا پتہ اس وقت چلا جب ایف ڈی اے نے ریاست بھر میں دودھ میں ملاوٹ کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کیا تھا۔
جولائی میں ایف ڈی اے کی ایک ٹیم نے لاتور ضلع میں چھاپہ مارا اور تقریباًساڑھے ۷؍ہزار لیٹر ملاوٹی دودھ کے ساتھ بڑی مقدار میں ممنوعہ پاؤڈر ضبط کیاتھا۔ شولاپور ضلع میں ایک اور کارروائی میں حکام نے تقریباً ۱۵؍ لاکھ روپے مالیت کے تقریباً ۳۷؍ ہزار ۵۳۲؍ لیٹر ملاوٹی دودھ کو تباہ کیا جو مبینہ طور پر ایک بڑے صنعتی گروپ کو فراہم کیا جا رہا تھا۔
ایف ڈی اے کے معائنے میں ڈیری فارمز میں بھی سنگین کوتاہیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ اہلکاروں کو دودھ کے ذخیرہ کرنے والے علاقوں میں دیواروں پر سڑنا، چوہوں اور کیڑوں کے انفیکشن کو روکنے کیلئے ناکافی انتظامات اور گاڑیوں کی صفائی کے ریکارڈ کی عدم موجودگی کا پتہ چلا۔
یہ بھی پڑھئے: دھرمیندر پردھان کےاستعفیٰ سےممبئی کے طلبہ مطمئن
دودھ فروشوں اور تاجروں میں ناراضگی
ایف ڈی اے کمشنر تکارام منڈے کی قیادت میں مہم کے دوران سخت کارروائی کی بڑے پیمانے پر ستائش کی جارہی ہے۔تاہم اسے ممبئی میں دودھ فروشوں اور چھوٹے تاجروں کی طرف سے مخالفت کا سامنا ہے۔ تاجروں کے ایک گروپ نے حال ہی میں ایف ڈی اے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیاتھا تاکہ انتظامیہ کی اس گائیڈ لائن کے خلاف احتجاج کیا جا سکے جس میں دودھ کو کھلے طورپرفروخت کے بجائے پیکٹ میں فروخت کرنے کو کہا گیا ہے۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ اس پر فوری طور پرعمل کرنا ممکن نہیں ہے۔ بہت سے دکانداروں کو روزانہ ۶۰۰؍ لیٹر تک کھلا دودھ ملتا ہے اور ان کے پاس راتوں رات پیکیجنگ کیلئے درکار انفراسٹرکچر نہیں ہوتا ۔ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ تازہ دودھ کی ’شیلف لائف‘ صرف ۴؍ سے ۵؍ گھنٹے ہوتی ہے۔ وسئی- ویرار جیسے علاقوں سے بوریولی، کاندیولی اور ملاڈ جیسے مقامات پر دودھ کی نقل و حمل میں پہلے ہی کافی وقت لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ پیکیجنگ کی سہولیات کا بندوبست کرنے اور نئے نظام کے مطابق ڈھالنے کیلئے اضافی وقت فراہم کرے۔