تاریخ کے مطالعہ سے نئی نسل کا گریز بھی بزرگوں کو بوجھ سمجھنے کے رجحان کو تقویت دیتا ہے۔ اگر نوجوان اسلامی تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کریں تو انہیں اس بات کا ادراک ہو جائے کہ بزرگ صحابہ کرامؓ کے مشورے کئی مواقع پر بہت مفید ثابت ہوئے۔
EPAPER
Updated: June 18, 2026, 4:51 PM IST | Dr. Sheeba Iftikhar Ansari | Mumbai
تاریخ کے مطالعہ سے نئی نسل کا گریز بھی بزرگوں کو بوجھ سمجھنے کے رجحان کو تقویت دیتا ہے۔ اگر نوجوان اسلامی تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کریں تو انہیں اس بات کا ادراک ہو جائے کہ بزرگ صحابہ کرامؓ کے مشورے کئی مواقع پر بہت مفید ثابت ہوئے۔
عالمی سطح پر دیکھا جائے تو مادہ پرستی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اور روحانیت سے بیزاری نظر آتی ہے۔ گھر اور خاندان کا تصور بھی بدلتا جا رہا ہے۔ اکثریت کے نزدیک فلیٹ کی چہار دیواری کو ہی گھر سمجھا جاتا ہے۔ میاں بیوی اور بچوں تک ہی خاندان کا دائرہ محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ پہلے مشترکہ خاندان کا تصور تھا، جو باعث فخر سمجھا جاتا تھا۔ لوگ گھر کے بزرگوں کا بہت احترام کرتے تھے۔ خاندان کے سربراہ کو اہل ِ خانہ اور باقی لوگ بھی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ پہلے محلے، گاؤں اور قصبے کی ہر چھوٹی بڑی تقریب میں بزرگوں کو مسند نشینی عطا کی جاتی تھی، جس سے تقریب کا وقار بلند ہو جاتا تھا۔ جیسے جیسے معاشرے میں آسودگی آئی، مادہ پرستی اور زر پرستی کی طرف رجحانات بڑھنے لگے اور بزرگوں کو بوجھ سمجھنے کا رجحان بھی بڑھنے لگا۔
بدلتا ورک کلچر
میاں بیوی دونوں کا کمانا بھی اس کا ایک اہم سبب ہے۔ دونوں کی کمائی سے دولت کی فراوانی ہونے لگی۔ نتیجتاً گھر سے باہر کھانے کے رجحان میں اضافہ ہوتا گیا اور گھر کے بزرگوں کو کباب میں ہڈی کے مترادف سمجھا جانے لگا۔
یہ بھی پڑھئے: بزرگوں کا خیال رکھیں کہ مستقبل میں یہ وقت آپ پر بھی آئیگا
دین سے دوری
دین سے دوری بھی گھر کے بزرگوں کو بوجھ سمجھنے کے رجحان کو تقویت دیتی ہے۔ ہمارے دین میں تو صاف طور پر کہا گیا ہے کہ والدین بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ’اُف!‘ تک نہ کہو۔ ایسا دین بزرگوں کو بار گراں سمجھنے کی اجازت کیسے دے سکتا ہے!
جنریشن گیپ
آج کل یہ بھی مشاہدہ میں آتا ہے کہ نئی نسل کے معاملات میں گھر کے بزرگوں کی طرف سے روک ٹوک بھی انہیں بوجھ سمجھنے کے رجحان کی وجہ بنتی جا رہی ہے۔ لہٰذا بزرگوں کو بھی نوجوانوں کے معاملے میں بے جا مداخلت سے اجتناب کرنا چاہئے بلکہ ان کی بات کو سننا چاہئے۔
بدلتا اندازِ فکر
اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کا زعم بھی نئی نسل کے نوجوانوں کو گھر کے بزرگوں سے بیزاری اور ان کے بوجھ سمجھنے کے رجحان میں اضافہ کرتا ہے۔ اکثر نوجوانوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنے کتابی علم کو بزرگوں کے تجربات پر ترجیح دیتے ہیں۔ یہ اندازِ فکر گھر کے بزرگوں کو بار گراں سمجھنے کی طرف گامزن کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نئی نسل کی علاحدہ رہنے کی سوچ نے بزرگوں کو تنہا کر دیا
جدید آلات کا بڑھتا استعمال
سوشل میڈیا اور موبائل کے بڑھتے ہوئے استعمال نے عائلی زندگی میں بھونچال لا دیا ہے۔ اس سے اجتماعیت کمزور ہوتی جا رہی ہے اور انفرادیت پروان چڑھتی ہوئی صاف نظر آ رہی ہے۔ اس کا اثر خاندان کے بزرگوں کو بوجھ سمجھنے کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
مطالعہ سے دوری
تاریخ کے مطالعہ سے نئی نسل کا گریز بھی بزرگوں کو بوجھ سمجھنے کے رجحان کو تقویت دیتا ہے۔ اگر نوجوان اسلامی تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کریں تو انہیں اس بات کا ادراک ہو جائے کہ بزرگ صحابہ کرامؓ کے مشورے کئی مواقع پر بہت مفید ثابت ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: میرینیشن: پکوان کی تیاری کا اہم مرحلہ، اِن باتوں کو دھیان میں رکھیں
مغربی تہذیب کی تقلید
ترقی پسند کہلانے کے چکر میں مغربی تہذیب کی تقلید بھی بزرگوں کو بوجھ سمجھنے کے رجحان میں اضافہ کا ایک اہم سبب ہے۔ ہمارے معاشرے میں اولڈ ایج ہوم کا تصور اسی تہذیب کے اثرات کا نتیجہ ہے۔ ورنہ مشرقی تہذیب میں تو بزرگوں خصوصاً والدین کی خدمت جنت کے حصول کا راستہ قرار دیا گیا ہے۔ اسلام میں کہا گیا ہے ’’جنت ماں کے قدموں کے تلے ہے۔‘‘ والد کے لئے کہا گیا ہے، ’’باپ جنت کا ایک دروازہ ہے۔‘‘ لہٰذا مغربی تہذیب کی نقالی کے بجائے مشرقی تہذیب پر عمل پیرا رہنے میں دین و دنیا کی کامیابی و کامرانی ہے۔
بزرگ ہمارے لئے باعث ِ رحمت ہیں۔ ان کی قدر کی جانی چاہئے۔ بچوں کو بزرگوں کے احترام کی تلقین کریں۔ بزرگوں سے اہم معاملات میں مشورہ کرنا چاہئے۔ ان کے کھانے پینے اور صحت پر خصوصی توجہ دی جانی چاہئے۔ روزانہ کچھ وقت ان کے ساتھ گزارنا چاہئے۔