امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سائنسدانوں کی پراسرار گمشدگیوں اور اموات کو سنگین قرار دیتے ہوئے وفاقی تحقیقات کا انکشاف کیا۔ وہائٹ ہاؤس نے بھی معاملے کی اہمیت تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ جلد اس پر مزید معلومات سامنے لائی جائیں گی۔
EPAPER
Updated: April 17, 2026, 8:05 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سائنسدانوں کی پراسرار گمشدگیوں اور اموات کو سنگین قرار دیتے ہوئے وفاقی تحقیقات کا انکشاف کیا۔ وہائٹ ہاؤس نے بھی معاملے کی اہمیت تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ جلد اس پر مزید معلومات سامنے لائی جائیں گی۔
لاس ویگاس روانہ ہوتے وقت، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات (۱۶؍ اپریل) کو وہائٹ ہاؤس کے لان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکام کئی سائنسدانوں کی پراسرار گمشدگیوں اور اموات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے اس معاملے کو ’’کافی سنگین‘‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ ابھی اسی موضوع پر ہونے والی ایک میٹنگ سے نکل کر آئے ہیں۔
بتا دیں کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران کئی سائنسداں یا تو لاپتہ ہوئے ہیں یا مردہ حالت میں پائے گئے ہیں، جن میں سے بعض کیسز میں موت کی وجہ کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ اگرچہ ان واقعات کے درمیان کسی حتمی تعلق کی تصدیق نہیں ہوئی، ٹرمپ نے کہا کہ جلد ہی جواب سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے امید ہے کہ یہ محض اتفاقی واقعات ہوں، لیکن ہم اگلے ڈیڑھ ہفتے میں حقیقت جان لیں گے۔ ‘‘ان کیسز میں ریٹائرڈ ایئر فورس میجر جنرل ولیم `نیل، میک کاسلینڈ کا معاملہ بھی شامل ہے، جو اس سال کے اوائل میں البوکرکی میں اپنے گھر سے لاپتہ ہو گئے تھے۔ مقامی حکام کے مطابق، ان کی گمشدگی سے قبل وہ ’’ذہنی پریشانی ‘‘اور دیگر طبی مسائل کا شکار تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ اور اٹلی کے مابین پوپ اور ایران جنگ کے تعلق سے کشیدگی میں اضافہ
ان۱۰؍ سائنسدانوں کے نام جنہیں آخری دیکھا گیا تھا
اسٹیون گارسیا
اسٹیون گارسیا ایک ۴۸؍سالہ سرکاری کانٹریکٹر تھے جنہیں آخری بار۲۸؍ اگست ۲۰۲۵ءکو البوکرک میں اپنے گھر سے نکلتے ہوئے دیکھا گیا۔ وہ پیدل چل رہے تھے اور ایک ہینڈ گن اُن کے ہاتھ میں تھی۔ اسٹیون نے کنساس سٹی نیشنل سیکیورٹی کیمپس میں پراپرٹی کے محافظ کے طور پر کام کیا جو جوہری ہتھیاروں کے لیے غیر جوہری اجزاء تیار کرنے والا ادارہ ہے۔ ڈیلی میل کے مطابق، اسٹیون نے ممکنہ طور پر حساس اثاثوں تک رسائی کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی نگرانی کا کردار بھی ادا کیا۔
فرینک مائیوالڈ
ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے محقق فرینک مائیوالڈ ۴؍جولائی۲۰۲۴ء کو۶۱؍ سال کی عمر میں مردہ پائے گئے۔ عوامی سطح پر موت کی کوئی وجہ فراہم نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: ہرمز سے مقامی کرنسی میں ٹرانزٹ فیس کے ذریعے۱۵؍ ارب ڈالر تک آمدنی ممکن: ایران
کارل گرلمیر
۱۶؍ فروری۲۰۲۶ءکو کارل گرلمیر کو اُن کے گھر کے سامنے گولی ماری مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ وہ ایک فلکیاتی طبیعیات داں تھے جنہوں نے ناسا کے ساتھ مِل کر نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں اور پانی کی تلاش کی۔ قتل کی کوئی واضح وجہ اب تک سامنے نہیں آئی۔
مائیکل ڈیوڈ ہکس
مائیکل کی موت ۳۰؍جولائی۲۰۲۳ءکو۵۹؍ سال کی عمر میں ہوئی۔ وہ جیٹ پروپلژن لیبارٹری (جے پی ایل) میں ماہر طبیعیات تھے جو شہابی پتھروں کے ماہر تھے۔ مائیکل کی موت کی وجہ بھی ظاہر نہیں کی گئی ہے۔
مونیکا جیکنٹو رضا
مونیکا جیکنٹو رضا جیٹ پروپلژن لیبارٹری میں ایک اور ملازم تھیں جو ۲۲؍جون۲۰۲۵ءکو ایک ہائکنگ کے دوران غائب ہو گئیں۔ مبینہ طور پر غائب ہونے سے پہلے اپنے کولیگ سے ملنے سے تھوڑا دور تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے ایران جنگ کو ’’چھوٹا سا رخ بدلنا‘‘ قرار دیا، جلد خاتمے کا دعویٰ
میلیسا کیسیاس
میلیسا کیسیاس۲۶؍ جون ۲۰۲۵ءکو اپنے گھر سے لاپتہ ہوئیں۔ ملیسیا لاس الاموس نیشنل لیبارٹری میں انتظامی معاون تھیں۔ وہ اُس دن اپنے گھر سے دفتر کا کام کررہی تھی۔ بعدازاں وہ اپنی بیٹی کو لنچ پر لے گئی اور پھر غائب ہوگئیں۔ ملیسیا کو آخری بار اپنے فون، بٹوے یا چابی کے بغیر ہائی وے پر چلتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
انتھونی شاویز
میلیسا کی طرح ہی لاس الاموس کے ایک اور سابق ملازم انتھونی شاویز ۴؍ مئی۲۰۲۵ء کو لاپتہ ہو گئے۔ انہیں آخری بار اپنے گھر سے باہر پیدل جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
ولیم نیل میک کیلینڈ
۲۶؍فروری ۲۰۲۶ء کو ایئر فورس کے ایک ریٹائرڈ جنرل، ولیم نیل میک کاسلینڈ اپنے نیو میکسیکو گھر سے نکلنے کے بعد لاپتہ ہو گئے۔
نونو لوریرو
جوہری طبیعیات داں (نیوکلیئر فزیسٹ) اور ایم آئی ٹی کے پروفیسر نونو لوریرو کو ۱۵؍دسمبر۲۰۲۵ء کو ان کے گھر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
جیسن تھامس
میڈیسن کمپنی Novartis کے ایک محقق جیسن تھامس۱۲؍ دسمبر۲۰۲۵ء کو لاپتہ ہو گئے۔ اُن کی لاش۱۷؍ مارچ ۲۰۲۶ءکو ایک جھیل سے برآمد ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: تل ابیب: فلسطینیوں پر حملوں کے خلاف سیکڑوں افراد کا احتجاج، روک تھام کا مطالبہ
دریں اثنا، بدھ (۱۵؍اپریل) کو وہائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے بریفنگ کے دوران اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ابھی متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی تازہ معلومات نہیں ملی۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے ابھی تک متعلقہ اداروں سے بات نہیں کی لیکن میں ضرور ایسا کروں گی اور آپ کو جواب فراہم کریں گے۔ اگر یہ بات درست ہے تو یقیناً یہ ایسا معاملہ ہے جس کی تحقیقات حکومت اور انتظامیہ ضروری سمجھے گی۔ ‘‘