Inquilab Logo Happiest Places to Work

مالیگاؤں: بنکروں کی ہڑتال، گوداموں میں تیار مال رکھنے کی جگہ نہیں

Updated: July 17, 2026, 9:52 AM IST | Mukhtar Adeel | Malegaon

دوسرے دن بھی کارخانے بند رہے ، مگر خریداری نہ ہونے کی وجہ سےپہلے سے تیار مال رکھنے کیلئے جگہ کم پڑ رہی ہے۔

Goods are lying in warehouses due to lack of purchases. Photo: INN
خریداری نہ ہونے کے سبب مال گوداموں میں پڑا ہے۔ تصویر: آئی این این

راجستھان میں کپڑوں کی خریداری بند ہونے کی وجہ سے مالیگائوں کے کارخانہ داروں نے ۵؍ دنوں کیلئے کام بند کر دیا ہے۔ بدھ سے جاری اس ہڑتال سے پہلے بنائے گئے کپڑوں کا ذخیرہ  راجستھان روانہ کرنے کیلئے ٹرانسپورٹرس گوداموںمیں رکھا گیا تھا  لیکن ڈیلیوری بند ہونے کی وجہ سے یہ کپڑے جوں کے توں پڑے رہے۔

کپڑوںکی تھانیں بندھی بندھائی گوداموں میں پڑی ہیں۔ ذخیرہ اتنا ہو گیا ہے کہ مال رکھنے کیلئے گوداموں میںگنجائش باقی نہ رہی۔  ٹرانسپورٹرس مزید آرڈر قبول نہیں کر رہے ہیں۔ مانسون کے ایام میں کپڑوں کی تھانیں سنبھالنا اپنے آپ میں ایک مسئلہ  ہے۔بعض گوداموں میںتوصورتحال یہ ہے کہ زمین سےچھت تک  اور گوداموںکےصحن میں کپڑوں کی تھان پڑی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ پون ٹرانسپورٹ کے ملازمین نےکہا کہ ۱۵؍یا ۲۰؍دنوںقبل ہی کپڑے کے تاکھے لینےکا سلسلہ روک دیا گیا تھا۔ ملازمین کے مطابق کپڑاخریدارطبقےنے ٹرانسپورٹرس اور گوداموں کے مالکان کواشارہ دے دیاتھاکہ وہ کپڑے کی خریداری روکنے والے ہیں۔اشارے ملتے ہی ہمیں بھی مالکان نے صورتحال سے آگاہ کردیا تھا۔مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے اگلے کئی ہفتوں تک یہی صورت حال برقرار رہے گی۔راجستھان کی منڈیوں میں کپڑے کی مانگ بالکل نہیںہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’این سی پی (اجیت) کے اندر کوئی انتشار نہیں ہے‘‘

  کارخانہ مالکان نے مسئلے کےسدباب کیلئے صنعت کاروسماجی کارکن ایڈوکیٹ مومن مجیب احمدسے رابطہ کیا۔اُن کے آفس میںایک مختصر نشست ہوئی جس میںطےہواکہ پاورلوم مالکان ، مزدوروں اورٹرانسپورٹرس مسائل سےسرکاری حکام کوباخبرکیاجائے۔  مومن مجیب نے انقلاب کو بتایا کہ انہوں نے ڈیجیٹل ذرائع سے ارباب حکومت کی توجہ مالیگاؤں کے اس مسئلے کی جانب مبذول کروائی ہے۔کئی خطوط بھی لکھے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK