Inquilab Logo Happiest Places to Work

پربھنی کا ایک سرکاری اسکول جہاں ایک کمرے میں ۵؍ جماعتیں چل رہی ہیں

Updated: July 17, 2026, 9:57 AM IST | Z. A. Khan | Parbhani

ضلع کے نگراں وزیر کے حلقہ انتخاب میں واقع اسکول کی خستہ حال عمارت میں طلبہ اپنی جان ہتھیلی پر لے کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

Sitting in this classroom could be dangerous for students. Photo: INN
اس کلاس روم میں بیٹھنا طلبہ کیلئے خطرناک ہو سکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

ضلع پر بھنی کے جنتور تعلقہ کے جوگی تانڈہ گاؤں میں واقع ضلع پریشد اسکول کی انتہائی خستہ حالت نے سرکاری تعلیمی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے  ہیں۔ اسکول کی عمارت کے متعدد کمروں کی ٹین کی چادریں حالیہ طوفان اور تیز ہواؤں میں اڑ جانے کے باعث پہلی سے پانچویں جماعت تک کے تمام طلبہ کو ایک ہی کمرے میں تعلیم حاصل کرنا پڑ رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق جس کمرے میں اس وقت طلبہ بیٹھتے ہیں، اس کی چھت کی ٹین کی چادریں بھی زنگ آلود ہو چکی ہیں جبکہ دیواریں بھی انتہائی کمزور اور خستہ حال ہیں۔ 

ایسی خطرناک صورتحال میں طلبہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ گاؤں والوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر انتظامیہ اس افسوسناک صورتحال کا کب نوٹس لے گی؟یہ اسکول موجودہ  پربھنی کی نگراں وزیر میگھنا بورڈیکر کے حلقۂ انتخاب میں واقع ہے۔ اسی طرح ضلع پریشد کی موجودہ صدر لتا دیدی واکلے کے سرکل میں بھی یہی ا سکول شامل ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ متعدد بار متعلقہ حکام سے شکایت اور مسلسل پیروی کے باوجود آج تک کسی نے اس مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دی۔

یہ بھی پڑھئے: کانگریس کا پارلیمنٹ میں حد بندی بل کی مخالفت کا اعلان

دیہاتیوں نے انتباہ دیا ہے کہ اگر جلد از جلد اسکول کی نئی عمارت تعمیر نہیں کی گئی تو وہ مجبوراً اسکول کو تالا لگا کر بچوں کی کلاسیں کھلے میدان میں منعقد کریں گے۔موقع پر موجود اساتذہ نے بتایا کہ یہ عمارت تقریباً ۳۰؍ تا۴۰؍ سال قبل تعمیر کی گئی تھی ۔ چند روز قبل آنے والے طوفان میں چھت کی بیشتر ٹین کی چادریں اڑ گئیں، جبکہ باقی چادریں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ بارش کے دوران چھت سے مسلسل پانی ٹپکتا ہے اور تیز ہوا چلنے پر ٹین کی چادریں ہلنے لگتی ہیں، جس سے کسی بھی وقت بڑا حادثہ پیش آنے کا خدشہ رہتا ہے۔اسکول میں صرف دو اساتذہ تعینات ہیں، جو پہلی سے پانچویں جماعت تک کے تمام بچوں کو پڑھاتے ہیں۔ اساتذہ کے مطابق جگہ کی شدید قلت کے باعث بعض جماعتوں کو باہر بٹھا کر پڑھانا پڑتا ہے جبکہ باقی طلبہ ایک ہی کمرے میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔چوتھی جماعت کے ایک طالب علم نے بتایا کہ بارش ہونے پر چھت سے پانی ٹپکتا ہے اور ٹین کی چادریں زور زور سے ہلتی ہیں، جس کی وجہ سے خوف کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔ بچوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انہیں جلد از جلد نئی اسکول عمارت فراہم کی جائے تاکہ وہ محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کر سکیں۔

یہ بھی پڑھئے: مالیگاؤں: بنکروں کی ہڑتال، گوداموں میں تیار مال رکھنے کی جگہ نہیں

جوگی تانڈہ کے اس ضلع پریشد اسکول کی یہ تصویر ریاست مہاراشٹر کے دیہی علاقوں میں سرکاری تعلیمی ڈھانچے کی حقیقت کو نمایاں کرتی ہے۔ مقامی عوام کا کہنا ہے کہ اگر ضلع کے وزیرِ نگراں اور ضلع پریشد صدر کے حلقۂ انتخاب میں واقع اسکول کی یہ حالت ہے تو دیگر دور دراز علاقوں کے سرکاری اسکولوں کی صورتحال کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ہوئی زور دار بارش میں ریاست کے مختلف مقامات پر اسکولوں کو نقصان پہنچا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK