ممبئی چار کول مرچنٹس اسوسی ایشن کوایک بار پھر اس وقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ نے مہاراشٹر پولیوشن کنٹرول بورڈ کے چارکول ( لکڑی کا کوئلہ)کو مرحلہ وار ختم کرنے کے فیصلہ کے خلاف داخل کردہ اپیل اور تجویز کو ماننے سے انکار کر دیا ۔
ممبئی چار کول مرچنٹس اسوسی ایشن کوایک بار پھر اس وقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ نے مہاراشٹر پولیوشن کنٹرول بورڈ کے چارکول ( لکڑی کا کوئلہ)کو مرحلہ وار ختم کرنے کے فیصلہ کے خلاف داخل کردہ اپیل اور تجویز کو ماننے سے انکار کر دیا ۔ اسوسی ایشن نے چار کول کو استعمال کرنے سے فضائی آلودگی کا مسئلہ نہ ہونے کا جواز پیش کیا تھا جبکہ پولیوشن بورڈ کا کہنا ہے کہ لکڑی کے کوئلہ سے بھی فضائی آلودگی کا خطرہ برقرار رہتا ہے ۔
مذکورہ اسوسی ایشن نے مہاراشٹر پولیوشن بورڈ کے ذریعہ بیکریوں ، بھٹیوں ، تندور اور ہوٹلوں میں چار کول کا استعمال مرحلہ وار بند کرنے کے فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئےکہا کہ ’’ چار کول سے آلودگی کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا ہے اور یہ کہ چار کول کودہلی پولیوشن کنٹرول کمیٹی کےمنظور شدہ ایندھن کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔ اس پر جسٹس اے ایس گڈکری اور جسٹس کمل کا تھا پر مشتمل بنچ نے اس دلیل کو ماننے سے اس وقت انکار کر دیا جب پولیوشن بورڈ کی جانب سے سینئر وکیل اشوتوش کمبھاکونی نے بتایا کہ’’ اس معاملے میںپہلے ہی تفصیلی جائزہ لیا جا چکا ہے۔چارکول جلانے سے کاربن مونو آکسائیڈ اور بلیک کاربن خارج ہوتی ہےاس لئے اسے صاف یا ماحول دوست ایندھن قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: بی ایل او کی ڈیوٹی سے پریشان ٹیچر کی خودکشی کی کوشش
واضح رہے کہ یہ تنازع بی سی ایم اے کی جانب سے دائر کی گئی ایک عبوری درخواست کے بعد پیدا ہواتھا۔اس پرعدالت نےجنوری۲۰۲۵ء میں بی ایم سی اور پولیوشن بورڈ سے اس ضمن میں وضاحت طلب کی تھی ۔عدالت کے اس حکم کے بعد ایک طرف مہاراشٹر پولیوشن بورڈ اور بی ایم سی نے لکڑی، کوئلہ اور چارکول سے چلنے والی بھٹیوں اور تندور کا استعمال کرنے والی بیکریوں، ہوٹلوں اور ریستورانوں کو مقررہ مدت کے اندر صاف ایندھن اختیار کرنے کی ہدایت دی تھی اور چار کول کا استعمال مر حلہ وار بند کرنے کا حکم دیا تھا ساتھ ہی اس ضمن میں عدالت کی ہدایت پرپولیوشن بورڈ نےہوٹل اسوسی ایشنز، ماحولیات کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی تنظیموں اور متعلقہ حکام کے ساتھ عوامی سماعت کی تھی جس کے بعد ریسٹورنٹ، بیکریوں اور ہوٹلوں اور دیگرجگہوں پر چارکول کا استعمال مرحلہ وار بند کرنے کا فیصلہ کیاگیا تھا ساتھ ہی بورڈ نے متعدد اداروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے صاف ایندھن کے استعمال کی بھی ہدایت دی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ٹی ای ٹی کا پرچہ آگرہ کے پرنٹنگ ہائوس سے ۸؍ ہزار روپے میں حاصل کیا گیا تھا
مذکورہ معاملہ میں ہونے والی سماعت کے دوران پولیوشن بورڈ کے سیکریٹری نے بتایاکہ اب بھی شہر کے کئی ریسٹورنٹ، ڈھابوں اوردیگر کاروباری اداروں میں بڑے پیمانے پر اس کااستعمال ہو رہا ہے۔ بورڈ نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ چارکول میں نامعلوم ایندھن ملائے جانے کا امکان موجود ہےجبکہ اس کی نگرانی یا تصدیق کا فی الحال کوئی موثر نظام موجود نہیں ہے۔ بورڈ نے مزید کہا کہ اس کے پاس چارکول سے پیدا ہونے والی آلودگی سے متعلق کوئی جامع سائنسی تحقیق یا اعداد و شمار بھی موجود نہیں ہے۔تاہم اسوسی ایشن اس بات پر بضد تھی کہ چارکول کے استعمال سے آلودگی کا مسئلہ نہیں ہوتا ہے اور یہ کہ اس پر پابندی عائد کرنے کے سبب انہیں ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس پر کورٹ نے کہا کہ جب پولیوشن بورڈ اس بات پر اتفاق کرتی ہے کہ چار کول سے آلودگی پیدا ہوتی ہے تو اس کا استعمال کرنے کی اجازت کیونکر دی جاسکتی ہے ۔بعد ازیں کورٹ نے اسوسی ایشن کی دلیل کو ماننے سے انکار کر دیا البتہ اس ضمن میں ہائی پاور کمیٹی کی تیار کردہ رپورٹ سبھی فریق کو مطالعہ کے لئے دیئے جانےکا حکم دیا ہے ۔