ناسک کے ڈویژنل کمشنر ڈاکٹر پروین گیڈم نے یہ احکامات جاری کئے ۔یہ تمام افراد اب کوئی بھی الیکشن نہیں لڑ سکتے۔
EPAPER
Updated: September 14, 2026, 4:58 PM IST | Sharjeel Qureshi | Jalgaon
ناسک کے ڈویژنل کمشنر ڈاکٹر پروین گیڈم نے یہ احکامات جاری کئے ۔یہ تمام افراد اب کوئی بھی الیکشن نہیں لڑ سکتے۔
ناسک ڈویژنل کمشنر نے جلگاؤں شہر سے تعلق رکھنے والے ان افراد کے خلاف سخت کارروائی کی ہے جنہوں نے جلگاؤں میونسپل کارپوریشن الیکشن (۲۶-۲۰۲۵ء) میں حصہ لیا تھا لیکن مقررہ مدت کے اندر اپنے انتخابی اخراجات کا گوشوارہ جمع کرانے میں ناکام رہے۔ اخراجات کی تفصیلات فراہم نہ کرنے کی وجہ سے۱۵؍امیدواروں (جن میں سے ایک نے ۲؍ وارڈز سے انتخاب لڑا تھا) کو اگلے ۳؍ سال تک کوئی بھی الیکشن لڑنے کیلئے نااہل قرار دے دیا گیاہے۔
ناسک کے ڈویژنل کمشنر ڈاکٹر پروین گیڈم نے گزشتہ روز یہ احکامات جاری کئے۔میونسپل انتخابات لڑنے والے امیدواروںکیلئے لازمی ہے کہ وہ انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد ۳۰؍ دن کے اندر ریاستی الیکشن کمیشن کو حلف نامے کے ساتھ اپنے انتخابی اخراجات کی تفصیلات جمع کرائیں۔تاہمجلگاوں میونسپل کارپوریشن کا الیکشن لڑنے والے ۱۵؍امیدوار اس مدت کے اندر اپنے اخراجات کا حساب وکتاب جمع کرانے میں ناکام رہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’آئی فیٹ انڈیا‘میں میرابھائندرمیونسپل کارپوریشن کا صفائی کا سفرتوجہ کا مرکز رہا
جن ۱۵؍افراد کے خلاف کارروائی کی ہے ،ان میں پریا مدھوکر جوہرے(وارڈ ایک اے )،وروشالی ارجن بھرولے(وارڈ۳ ؍ اے)، سونالی منوہر باویسکر (وارڈ ۳؍ ڈی)،منڈا چھوٹو لال سوناونے(وارڈ ۸؍ ڈی)،کوشلیا بائی اتم نکم (وارڈ ۱۰؍ اے))،پدماکر دیو چند سوناونے (وارڈ ۱۰؍ اے)،کالابائی نارائن شرسٹھ (وارڈ۱۰؍ اے)،چھایا فقیرہ ادکمول (وارڈ۱۰؍ ڈی)، چیتن نانا سوناونے(وارڈ۱۰؍ ڈی)،شیخ احمد نور لطیف (وارڈ ۱۰)،جیا رگھوناتھ سالونکھے(وارڈ ۱۱؍سی)، ڈاکٹر کشور مالی(وارڈ ۱۱؍ ڈی)،انل پگاریا (وارڈ ۵؍ ڈی اور۱۳؍ڈی )،سونم روہیداس سوناونے (وارڈ ۱۸؍ سی)،امول رویندر چودھری (وارڈ ۱۶؍ ڈی) شامل ہیں۔
جلگاوں میونسپل کارپوریشن کے کمشنر نے ڈویژنل کمشنر ان افراد کے خلاف شکایت اور کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ڈویژنل کمشنر کے دفتر نے ان امیدواروں کو اپنا موقف پیش کرنے کیلئے ۱۱؍ اور پھر۲۵؍ اگست (آخری موقع کے طور پر) کو سماعت کیلئے طلب کیا تھا۔ تاہم متذکرہ بالا تمام امیدوار دونوں سماعتوں سے غیر حاضر رہے۔ چونکہ اس سے کسی بھی قسم کی وضاحت پیش کرنے میں عدم دلچسپی ظاہر ہوتی تھی اس لئے ڈاکٹر پروین گیڈم نے ان سب پر ۳؍ سال کی پابندی عائد کردی۔ اگرچہ تکنیکی طور پر اس کارروائی کا تعلق ۱۶؍ امیدواروں سے ہے لیکن حکم نامے میں یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ انل پگاریا نے دو الگ الگ وارڈز (۵؍ڈی اور ۱۳؍ ڈی ) سے انتخاب لڑا تھا لہٰذا اس کارروائی کا اثر کل۱۵؍ افراد پر پڑتا ہے۔
متذکرہ بالا امیدواروں کیلئے راحت حاصل کرنے کا راستہ اب بھی موجود ہے۔ ڈویژنل کمشنر کے حکم نامے میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ امیدوار حکم نامے کی تاریخ سے۶۰؍دن کے اندر الیکشن کمیشن میں خصوصی درخواست دائر کرکے داد رسی حاصل کر سکتے ہیں۔