• Wed, 25 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایچ ایس سی پرچہ لیٖک معاملے میں ناگپورمیں۲؍افراد گرفتار

Updated: February 24, 2026, 3:57 PM IST | Ali Imran | Nagpur

پولیس نے کوچنگ کلاس کے منتظم اور معاون استاد کو حراست میں لیا۔ بڑا ریکیٹ بے نقاب ہونے کا امکان۔

12th Board Paper Leaked On Whatsapp Group.Photo:INN
وہاٹس ایپ گروپ پر بارہویں بورڈ کا پرچہ لیٖک کیا گیا تھا۔ تصویر:آئی این این

بورڈامتحانات کو نقل سے پاک و شفاف رکھنے کے ریاستی وزرات تعلیم کے دعوے کے باوجود ناگپور شہر میں بارہویں جماعت کے دو امتحانی پرچے لیٖک ہوئے۔ اس واقعے سے تعلیمی شعبے میں ہلچل مچ گئی تھی اور اسکولی وزیر تعلیم نے سخت الفاظ میں کارروائی کا انتباہ دیا تھا۔ جس کے بعد تحقیقات کی بنیاد پر دو لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جس میں ایک کوچنگ کلاس کا منتظم اور معاون استاد شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:ویسٹ انڈیز نے زمبابوے کو۱۰۷؍ رنز سے شکست دے دی

 موصولہ اطلاع کے مطابق ناگپور میں ٹیوشن کلاسیز چلانے والے ڈائریکٹر کا نام نشی کانت مول ہے۔ جبکہ گرفتار معاون کوچنگ ٹیچر کا نام فرحان اختر ہے۔ اس معاملے کا انکشاف اس وقت ہوا جب سینٹ اُرسلا ہائی اسکول امتحانی مرکز کے نگراں نے توجہ دی کہ ایک طالبہ بار بار واش روم جارہی ہے۔ شک کی بنیاد پر جب اُس کی خاتون ٹیچر کے ذریعے تلاشی لی گئی تو اُس کے پاس اسمارٹ فون برآمد ہوا۔ جب موبائل کو قبضے میں لے کر جانچ کی گئی تو امتحان شروع ہونے سے پہلے ہی یعنی تقریباً۳۰:۱۰؍ بجے ایک و ہاٹس ایپ گروپ سے سوالات مع جوابات پیپر بھیجا گیا تھا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ پیپر نشی کانت مول کے نمبر سے’ XII ‘نامی وہاٹس ایپ گروپ کو بھیجا گیا تھا۔اس گروپ میں ۲۱ ؍ممبران ہیں۔ جس پر بارہویں سائنس جماعت کا فزکس ۱۶؍ فروری کو اور ۱۹؍ فروری کو کیمسٹری کا سوالیہ پرچہ امتحان سے ایک گھنٹہ پہلے پوسٹ کیا گیا تھا۔ جیسے ہی معاملہ سامنے آیا، نشی کانت مول نے وہ نمبر بند کر دیا۔ پولیس نے ان دونوں مضامین کے پیپر لیٖک ہونے اور اس معاملے میں کوچنگ کلاس منتظم اور ایک معاون ٹیچر کو گرفتار کرنے کی تصدیق کی ہے۔ پولیس کے مطابق فرحان اختر پر گروپ میں صحیح جوابات بھیجنے کا الزام ہے۔

یہ بھی پڑھئے:وشال بھردواج نے شاہ رخ خان کے ساتھ فلم کا اشارہ دیا

 اس معاملے میں عدالت نے دونوں کو چار دن کی پولیس حراست میں بھیج دیا ہے۔ یہ سوالیہ پرچہ کہاں سے آیا؟ اس میں اور کون کون ملوث ہے؟ پولیس نے پورے معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ جبکہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ محکمہ تعلیم کے کچھ افراد کی ملی بھگت سے سوالیہ پرچہ لیک کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق فی طالب علم ۲۵؍ہزار روپے تک رقم وصول کرنے کی اطلاعات ہیں۔ ناگپور ڈویژن میں بارہویں کے امتحان میں شریک طلبہ کی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے اس گھوٹالے کا دائرہ بڑھنے کا امکان ہے۔ تحقیقات میں بڑے پیمانے پر رقم کے لین دین ہونے کا بھی امکان ہے۔ چونکہ امتحانی مرکز میں نابالغ طلبہ موجود تھے، اس لئے پولیس نے طلبہ میں خوف کا ماحول پیدا کرنے سے بچنے کے لئے  سادہ کپڑوں میں تفتیش کی۔ فی الحال اس معاملے کی مکمل تحقیقات جاری ہے اور پیپر لیک ہونے والے اس نیٹ ورک سے متعلق دیگر ممکنہ لنکس تلاش کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK