• Thu, 15 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲۰۲۵ء زمین کا تیسرا گرم ترین سال قرار، اوسط عالمی درجہ حرارت میں ۵ء۱؍ کا اضافہ

Updated: January 15, 2026, 3:12 PM IST | London

رائٹرز کے مطابق ۲۰۲۵ء زمین کے ریکارڈ پر تیسرا گرم ترین سال رہا جبکہ مسلسل تین برسوں کے دوران اوسط عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں ۵ء۱؍ ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان شدید موسمی واقعات، ہیٹ ویوز، سیلاب اور طوفانوں کے خطرات میں اضافے کی واضح علامت ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۵ء میں زمین نے ریکارڈ پر اپنا تیسرا گرم ترین سال تجربہ کیا، جبکہ گزشتہ تین برسوں کے دوران اوسط عالمی درجہ حرارت ۵ء۱؍ ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر گیا۔ یہ اب تک کا سب سے طویل عرصہ ہے جب عالمی حدت اس اہم حد سے اوپر رہی ہے۔ یورپی یونین کے یورپی سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹس (ECMWF) کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ تین سال ریکارڈ پر سب سے زیادہ گرم رہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ۲۰۲۵ء کا اوسط درجہ حرارت ۲۰۲۳ء کے مقابلے میں صرف ۰۱ء۰؍ ڈگری سیلسیس کم رہا۔ اسی طرح برطانیہ کی قومی موسمیاتی سروس یو کے میٹ آفس نے بھی تصدیق کی ہے کہ ۲۰۲۵ء ریکارڈ شروع ہونے کے بعد سے تیسرا گرم ترین سال ثابت ہوا۔ ان اعداد و شمار کو بدھ کو عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) کی جانب سے باضابطہ طور پر شائع کیے جانے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران پر حملہ کا خطرہ شدید تر، امریکہ کو روس کا سخت انتباہ

ای سی ایم ڈبلیو ایف کے مطابق، یہ پہلا موقع ہے کہ زمین نے تین سال کا ایسا دور دیکھا جس میں اوسط عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں ۵ء۱؍ ڈگری سیلسیس زیادہ رہا۔ سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ اس حد سے تجاوز شدید، اور بعض صورتوں میں ناقابلِ واپسی، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو جنم دے سکتا ہے۔ ادارے میں موسمیاتی امور کی اسٹریٹجک لیڈ سامنتھا برجیس نے کہا کہ ’’۵ء۱؍ ڈگری سیلسیس اچانک تباہی کا عندیہ نہیں ہے، لیکن درجہ حرارت میں ہر معمولی اضافہ خاص طور پر شدید موسمی واقعات کے حوالے سے بہت اہمیت رکھتا ہے۔‘‘ ۲۰۱۵ء کے پیرس معاہدہ کے تحت، دنیا بھر کی حکومتوں نے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں ۵ء۱؍ ڈگری سیلسیس تک محدود رکھنے کا عہد کیا تھا۔ تاہم ادارے کے مطابق، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ناکافی کمی کے باعث دنیا ۲۰۳۰ء سے پہلے ہی اس حد کو عبور کر سکتی ہے، جو ابتدائی اندازوں سے تقریباً ایک دہائی پہلے ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: جاپان: پڑھ سکنے اور رنگوں کی پہچان کرنے والی چمپینزی کا ۴۹؍ سال کی عمرمیں انتقال

یورپی یونین کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے ڈائریکٹر کارلو بوونٹیمپو نے کہا کہ ’’ہم اس حد کو عبور کرنے پر مائل نظر آتے ہیں، اب اصل سوال یہ ہے کہ ہم معاشروں اور قدرتی نظاموں پر اس کے ناگزیر اثرات کو کس طرح بہتر انداز میں سنبھالتے ہیں۔‘‘ ای سی ایم ایف ڈبلیو ایف کے مطابق، اس وقت دنیا کی طویل مدتی عالمی حدت صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً ۴ء۱؍ ڈگری سیلسیس زیادہ ہے، جبکہ قلیل مدتی بنیادوں پر ۵ء۱؍ ڈگری کی حد ۲۰۲۴ء میں ہی عبور ہو چکی تھی۔ ماہرین کے مطابق، حتیٰ کہ اس حد کی عارضی خلاف ورزی بھی زیادہ شدید اور وسیع اثرات کا سبب بن سکتی ہے، جن میں طویل اور خطرناک ہیٹ ویوز، طاقتور طوفان اور شدید سیلاب شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ڈیموکریٹک سینیٹر مارک وارنر نے ملک میں اسلامو فوبیا اور عرب مخالف نفرت کی مذمت کی

اسی دوران، یورپ میں جنگلاتی آگ نے ۲۰۲۵ء میں ریکارڈ پر سب سے زیادہ کاربن اخراج پیدا کیا۔ سائنسی مطالعات نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی نے متعدد مخصوص موسمی واقعات کو مزید شدید بنایا، جن میں کیریبین میں سمندری طوفان میلیسا اور پاکستان میں مون سون کی شدید بارشیں شامل ہیں۔ پاکستان میں مون سون کے نتیجے میں آنے والے سیلابوں میں ایک ہزار سے زائد افراد جان سے گئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK