Inquilab Logo Happiest Places to Work

مقبوضہ فلسطینی میں جنگ بندی کے باوجودغیر یقینی صورتحال: اقوام متحدہ کا انتباہ

Updated: June 30, 2026, 10:07 PM IST | Jerusalem

مقبوضہ فلسطینی علاقے میں جنگ بندی کے باوجود غیر یقینی صورتحال پر اقوام متحدہ نے انتباہ جاری کیا ہے، ایک اہلکار رمیز الاکباروف کے مطابق اسرائیلی فضائی حملے اور فوجی کارروائی غزہ بھر میں جاری ہیں، جس کے نتیجے میں مزید ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اقوام متحدہ کے ایک سینئر اہلکار نے پیر کو خبردار کیا کہ اسرائیلی فضائی حملے اور فوجی کارروائیاں غزہ کی پٹی بھر میں جاری ہیں، جس سے مزید ہلاکتیں ہو رہی ہیں، جبکہ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں صورتحال غیر مستحکم ہے۔مشرق وسطیٰ امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے ڈپٹی خصوصی کوآرڈینیٹر رمیز الاکباروف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا، ’’تحریری رپورٹ کی۱۲؍ جون کی حد بندی کی تاریخ کے بعد سے، اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقے، غزہ اور مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم کی صورتحال غیر مستحکم رہی ہے۔‘‘انہوں نے بتایا کیا کہ ’’اسرائیلی فضائی حملے اور فوجی کارروائیاں غزہ بھر میں جاری ہیں، جس کے نتیجے میں مزید ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے فلسطینی گول کیپر کو قتل کردیا، کل ۱۰۰۰؍ سے زائد کھلاڑیوں کا قتل

مزید برآں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد یک ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے مطابق، وہ اس وقت غزہ کی پٹی کے تقریباً۷۰؍ فیصد حصے پر قابض ہے اور اپنی علاقائی کنٹرول کی حدود کو بڑھاتا جا رہا ہے، جس سے ان علاقوں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے جہاں انسانی کارروائیوں کے لیے ہم آہنگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ۲۶؍ جون کو غزہ میں مظاہروں کے دوران دھمکیوں کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’شہریوں کو اپنے حقوق پرامن طریقے سے، بغیر کسی خوف کے استعمال کرنے کے قابل ہونا چاہیے، اور ہر وقت ان کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔‘‘ بعد ازاں الاکباروف نے کہا، ’’آٹھ ماہ قبل اعلان کردہ جنگ بندی کے باوجود، غزہ اب بھی شدید غیر یقینی صورتحال اور زبردست انسانی مصائب کا شکار ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے غزہ میں شہریوں بشمول خواتین اور بچوں کے مسلسل قتل اور زخمی ہونے کی مذمت کی۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے غزہ سے فلسطینیوں کی منتقلی کے منصوبے کیلئے نئی اصطلاح اپنائی

مقبوضہ مغربی کنارے کے تعلق سے  انہوں نے کہا کہ مشرقی یروشلم سمیت صورتحال بگڑتی جا رہی ہے، جہاں جنین اور تلکرم کے پناہ گزین کیمپوں میں اور ان کے ارد گرد اسرائیلی فوجی سرگرمیاں جاری ہیں، جس کے نتیجے میں فلسطینی گھرانوں بشمول پناہ گزین خاندانوں کو انخلاء اور بے دخلی کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ خود ایریا سی میں باضابطہ زمین کی رجسٹریشن کو نافذ کرنے کے لیے اسرائیلی حکام کے اقدامات پر گہری تشویش میں ہیں۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اس فیصلے سے مزید بستیوں کی توسیع اور غیر قانونی قبضے کو مضبوط کرنے میں سہولت فراہم ہونے کا سنگین خطرہ ہے۔انہوں نے شہریوں کے خلاف تمام تشدد بشمول دہشت گردی کی کارروائیوں کی مذمت کی اور سیکرٹری جنرل کی اس گہری تشویش کی تائید کی جو کہ شدید ہوتے اسرائیلی حملوں کے بارے میں ہے۔ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ ، ’’مجھے خاص طور پر غزہ میں بڑے پیمانے پر مسلح تصادم کے دوبارہ شروع ہونے کے بڑھتے ہوئے امکان پر تشویش ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK