بیٹیوں کے بہتر مستقبل اور تعلیم کیلئے ماں کی جدوجہد نے ایک نئی مثال قائم کردی۔ مہاراشٹر کی ۴۷؍ سالہ رمابائی رانویر نے ننگے پاؤں میراتھن جیت کر نہ صرف سب کو حیران کردیا بلکہ انعامی رقم بھی بیٹیوں کی تعلیم کیلئے وقف کردی۔
EPAPER
Updated: September 01, 2026, 7:01 PM IST | Beed
بیٹیوں کے بہتر مستقبل اور تعلیم کیلئے ماں کی جدوجہد نے ایک نئی مثال قائم کردی۔ مہاراشٹر کی ۴۷؍ سالہ رمابائی رانویر نے ننگے پاؤں میراتھن جیت کر نہ صرف سب کو حیران کردیا بلکہ انعامی رقم بھی بیٹیوں کی تعلیم کیلئے وقف کردی۔
مہاراشٹر کے ضلع بیڑ سے تعلق رکھنے والی۴۷؍ سالہ خاتون نے ننگے پاؤں میراتھن دوڑ میں حصہ لے کر پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔ انہوں نے یہ انعامی رقم اپنی بیٹیوں کی تعلیم پر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امباجوگائی کی رہائشی رمابائی رانویر مقامی علاقے کی ایک اکیڈمی میں باورچی کے طور پر کام کرتی ہیں۔ ممبئی میں ایک حادثے کے دوران شوہر کی موت کے بعد ان پر اپنی دو بیٹیوں کی پرورش کی ذمہ داری آگئی۔ مالی مشکلات کے باوجود وہ پُرعزم تھیں کہ دونوں بیٹیوں کو اچھی تعلیم دلوائیں گی۔ بیٹیوں کی مددکیلئے رمابائی نے اپنی بڑی بیٹی کو امباجوگائی کی ایک اکیڈمی میں داخل کروایا اور خود بھی وہیں باورچی کا کام شروع کردیا۔ ان کا روزانہ معمول کھانا پکانا ہے، جبکہ ان کی بیٹیاں اپنی تعلیم اور مختلف مسابقتی امتحانات کی تیاری جاری رکھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سی آر پی ایف کی نظر میں پیلٹ گن کا استعمال حقوق انسانی کے خلاف نہیں
اسی دوران ایک مقامی تنظیم نے ’’امرت دوڑ‘‘ کے نام سے میراتھن کا انعقاد کیا، جس میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے کو۳؍ ہزار روپے انعام دینے کا اعلان کیا گیا۔ رمابائی نے بھی اس دوڑ میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ سادہ ساڑھی پہنے اور ٹریک سوٹ پہنے نوجوان رنرز کے درمیان کھڑی رمابائی نے ابتدا میں چپل پہن کر دوڑ شروع کی۔ تاہم، دوڑ شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد ان کی چپل بار بار نکلنے لگی۔ اس پر انہوں نے چپل اتار کر ہاتھ میں پکڑ لی اور ننگے پاؤں دوڑنا شروع کردیا۔ وہ سرد سڑک اور پتھروں پر دوڑتی رہیں اور ساتھ ہی اپنی ساڑھی کو بھی سنبھالتی رہیں۔ انہوں نے دوسرے شرکاء کو پیچھے چھوڑتے ہوئے آخرکار سب سے پہلے فنش لائن عبور کرلی۔ ان کی غیرمعمولی ہمت اور عزم کو دیکھ کر تماشائی خوشی سے تالیاں بجانے لگے۔
یہ بھی پڑھئے: یوپی میں الیکشن کی دستک، ایس پی ، بی ایس پی اور بی جےپی کی میٹنگیں
اپنی کامیابی کے بارے میں رمابائی نے کہا کہ دوڑ میں بہت سی خواتین شریک تھیں، لیکن وہ انعام جیتنے کیلئے پُرعزم تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ دوڑتے وقت انہیں اپنی بیٹیوں کا مستقبل نظر آرہا تھا اور وہ۳؍ ہزار روپے کی انعامی رقم سے ان کیلئے کتابیں خریدنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ رمابائی کی بیٹی پوجا نے بھی اس دوڑ میں حصہ لیا اور دوسری پوزیشن حاصل کی۔ پوجا نے بتایا کہ انہوں نے اپنی والدہ کو دوڑ میں حصہ لینے کی ترغیب دی تھی، لیکن انہیں یہ توقع نہیں تھی کہ ان کی والدہ پہلی پوزیشن حاصل کرلیں گی۔ پوجا نے کہا کہ ان کی والدہ نے مشکل حالات کے باوجود دونوں بہنوں کی پرورش کی اور کبھی ہمت نہیں ہاری۔ پوجا اس وقت پولیس بھرتی کے امتحان کی تیاری کررہی ہیں اور مستقبل میں پولیس افسر بننے کا خواب رکھتی ہیں، جبکہ ان کی بہن بینکنگ کے امتحانات کی تیاری کررہی ہیں۔
یہ خاندان پہلے زرعی کاموں سے اپنی ضروریات پوری کرتا تھا، جبکہ بعد میں رمابائی نے بیٹیوں کی تعلیم کا خرچ اٹھانے کیلئے اکیڈمی میں کھانا پکانے کا کام شروع کیا۔ پوجا کی محنت اور لگن کو دیکھتے ہوئے اکیڈمی کے ڈائریکٹر نے ان کی فیس بھی معاف کردی۔ رمابائی رانویر کیلئے یہ میراتھن صرف ایک دوڑ نہیں تھی۔ وہ روزانہ اپنی بیٹیوں کی تعلیم کیلئے باورچی خانے میں محنت کرتی ہیں اور پھر انہی کی کتابوں کیلئے رقم جیتنے کی خاطر ننگے پاؤں دوڑ کر پہلی پوزیشن حاصل کی۔