فوربز کی ۲۰۲۶ء کی گلوبل ۲۰۰۰؍ فہرست نے واضح کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف ٹیکنالوجی کا شعبہ نہیں رہی بلکہ عالمی کارپوریٹ طاقت، سرمایہ کاری اور کمپنیوں کی قدر کو تیزی سے بدلنے والی معاشی قوت بن چکی ہے۔
EPAPER
Updated: August 09, 2026, 2:03 PM IST | Washington
فوربز کی ۲۰۲۶ء کی گلوبل ۲۰۰۰؍ فہرست نے واضح کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف ٹیکنالوجی کا شعبہ نہیں رہی بلکہ عالمی کارپوریٹ طاقت، سرمایہ کاری اور کمپنیوں کی قدر کو تیزی سے بدلنے والی معاشی قوت بن چکی ہے۔
مصنوعی ذہانت نے عالمی کاروباری دنیا میں طاقت کا توازن تیزی سے بدلنا شروع کردیا ہے اور فوربز کی ۲۰۲۶ء کی گلوبل ۲۰۰۰؍ فہرست اس تبدیلی کا نمایاں ثبوت ہے۔ دنیا کی ۲؍ ہزار بڑی عوامی کمپنیوں کی مشترکہ سالانہ فروخت ۵۶؍ کھرب ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ۶؍ فیصد زیادہ ہے۔ مجموعی منافع ۵ء۵؍ ٹریلین ڈالر رہا، جس میں ۹ء۱۳؍ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اثاثے ۲۷۲؍ کھرب ڈالر ہوگئے، یعنی ۹ء۱۲؍ فیصد اضافہ۔ سب سے بڑا اضافہ مارکیٹ ویلیو میں ہوا، جو ایک سال میں ۸ء۳۱؍ فیصد بڑھ گئی اور حصص یافتگان کی قدر میں ۳۰؍ کھرب ڈالر سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ:۲۳؍ ریاستوں میں بالوں کے ذریعے خون میں داخل ہونے والےفنگس انفیکشن کی وبا
یہ ریکارڈ ایسے وقت میں قائم ہوئے جب عالمی معیشت کو امریکی تجارتی جنگ، مشرق وسطیٰ کے تنازعات، توانائی کی بلند قیمتوں اور مہنگائی کے دباؤ کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود دنیا کی بڑی کمپنیوں نے فروخت، منافع، اثاثوں اور مارکیٹ ویلیو، چاروں بنیادی پیمانوں پر اپنی مجموعی طاقت برقرار رکھی۔ امریکہ کا غلبہ اس فہرست میں سب سے زیادہ نمایاں رہا۔ گلوبل ۲؍ ہزار میں امریکی کمپنیوں کی تعداد ۵۹۳؍ ہے، جبکہ چین اور ہانگ کانگ کی مشترکہ تعداد ۳۴۰؍ اور جاپان کی ۱۷۹؍ ہے۔ امریکی کمپنیوں کی مجموعی مارکیٹ ویلیو تقریباً ۹ء۶۷؍ ٹریلین ڈالر ہے، جو فہرست میں شامل تمام کمپنیوں کی مجموعی قدر کے نصف سے بھی زیادہ ہے۔ بینکنگ شعبہ بھی عالمی کارپوریٹ طاقت کا بڑا مرکز برقرار ہے۔ جے پی مورگن چیس مسلسل چوتھے سال پہلے نمبر پر رہا۔ اس کے اثاثے تقریباً ۹ء۴؍ ٹریلین ڈالر ہیں۔ فہرست میں ۳۱۴؍ بینک شامل ہیں، جو کسی بھی دوسرے شعبے سے زیادہ ہیں، جبکہ ان کے مجموعی اثاثے ۴ء۱۴۰؍ ٹریلین ڈالر ہیں۔ اس کے علاوہ ۱۳۶؍ متنوع مالیاتی ادارے اور ۱۱۳؍ بیمہ کمپنیاں بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: برازیل: سلنڈر کے ساتھ ڈگری وصول کی، نوجوان کا نم آنکھوں سے والد کو خراج
فہرست کے ۱۰؍ سرفہرست اداروں میں جے پی مورگن چیس پہلے، امیزون دوسرے، برکشائر ہیتھ وے تیسرے، الفابیٹ چوتھے اور سعودی آرامکو پانچویں نمبر پر ہے۔ مائیکروسافٹ 7ویں نمبر پر رہا، جبکہ بینک آف امریکہ اور چین کے ۳؍ بڑے بینک بھی سرفہرست ۱۰؍ کمپنیوں میں شامل ہیں۔ امیزون گزشتہ سال ۵؍ ویں سے بڑھ کر دوسرے اور الفابیٹ ۹؍ ویں سے چوتھے نمبر پر آگیا۔ تاہم اس سال کی سب سے نمایاں تبدیلی مصنوعی ذہانت سے منسلک کمپنیوں کی قدر میں ہوئی۔ ہارڈویئر، کمپیوٹر آلات، سیمی کنڈکٹر اور سافٹ ویئر کمپنیوں کی تعداد ۱۸۶؍ سے بڑھ کر ۲۰۹؍ ہوگئی۔ ان کی مجموعی مارکیٹ ویلیو صرف ایک سال میں ۹ء۲۳؍ ٹریلین سے بڑھ کر ۴ء۴۱؍ ٹریلین ڈالر ہوگئی، جو گلوبل ۲۰۰۰؍؍ کی مجموعی مارکیٹ ویلیو میں اضافے کا تقریباً ۵۷؍ فیصد ہے۔
مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں چپ ساز کمپنی این ویڈیا ۲۰؍ درجے ترقی کرکے ۲۷؍ ویں نمبر پر پہنچ گئی۔ جنوبی کوریا کی ایس کے ہائنکس ۱۰۷؍ درجے اوپر آکر ۴۸؍ ویں اور تائیوان کی ہون ہائی پریسیژن انڈسٹری، جسے فاکس کون بھی کہا جاتا ہے، ۵۵؍ درجے ترقی کرکے ۸۲؍ ویں نمبر پر آگئی۔ الفابیٹ چوتھے طنمبر پر پہنچ گئی، جبکہ مصنوعی ذہانت کا کلاؤڈ فراہم کرنے والی کمپنی کور ویو نے ۷۰۶؍ درجے کی غیر معمولی چھلانگ لگاکر ۱۰۹۳؍ ویں پوزیشن حاصل کی۔
یہ بھی پـڑھئے: چین: روبوٹس کیلئے خصوصی اسکول، مشینوں کو حقیقی ملازمتوں کیلئے تربیت دی جائے گی
ہندوستانی کمپنیوں کا حال
دنیا کی سب سے بڑی پبلک کمپنیوں میں ہندوستان کی کارکردگی انتہائی شاندار رہی ہے۔ اس وقت عالمی فہرست میں ہندوستان کی کل ۷۰؍ کمپنیاں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہی ہیں، جس کی بدولت ہندوستان دنیا بھر میں کمپنیوں کی تعداد کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر آ چکا ہے۔ اگر ان تمام ۷۰؍ کمپنیوں کی مجموعی مالیت اور کارکردگی کی بات کی جائے تو ان کی کل سالانہ فروخت تقریباً ۳ء۱؍ ٹریلین ڈالر، مجموعی منافع ۱۲۶؍ بلین ڈالر، اور مارکیٹ ویلیو ۳ء۲؍ ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
یہ اعداد و شمار عالمی معیشت میں ہندوستانی کارپوریٹ سیکٹر کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو واضح کرتے ہیں۔ہندوستانی کمپنیوں کی اس فہرست میں ہمیشہ کی طرح مکیش امبانی کی ریلائنس انڈسٹریز سب سے آگے ہے، جو ہندوستان میں پہلے اور عالمی سطح پر ۴۵؍ ویں نمبر پر ہے۔ ریلائنس انڈسٹریز نے اپنے انرجی، ریٹیل اور ٹیلی کام (جیو) کے کاروبار کی مضبوطی کی وجہ سے اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔ اس کے بعد بینکنگ سیکٹر کا دبدبہ نظر آتا ہے، جہاں ایچ ڈی ایف سی بینک ہندوستان میں دوسرے اور دنیا میں ۵۳؍ ویں نمبر پر ہے، جبکہ سرکاری شعبے کا سب سے بڑا بینک، اسٹیٹ بینک آف انڈیا ، ہندوستان میں تیسرے اور عالمی سطح پر ۵۵؍ ویں ویں نمبر پر موجود ہے۔ان تین بڑی کمپنیوں کے بعد انشورنس اور بینکنگ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے دو مزید بڑے نام آتے ہیں۔ ہندوستان کی سب سے بڑی سرکاری انشورنس کمپنی، لائف انشورنس کارپوریشن ، ملک میں چوتھے اور عالمی سطح پر ۷۰؍ ویں نمبر پر براجمان ہے۔ اسی طرح نجی شعبے کا معروف بینک، آئی سی آئی سی آئی بینک، اپنی بہترین ڈجیٹل سروسیز کی بدولت ہندوستان میں پانچویں اور دنیا بھر میں ۱۴۲؍ ویں نمبر پر موجود ہے۔