ایس ایم اے ٹائپ ۱؍ سے متاثرہ بچی کے علاج کے لیے خاندان کے مطابق ۹؍ کروڑ روپے سے زیادہ درکار ہیں۔ دہلی کی تاریخی جامع مسجد کے باہر نمازیوں نے اپنی استطاعت کے مطابق تعاون کیا۔
EPAPER
Updated: September 24, 2026, 10:01 PM IST | New Delhi
ایس ایم اے ٹائپ ۱؍ سے متاثرہ بچی کے علاج کے لیے خاندان کے مطابق ۹؍ کروڑ روپے سے زیادہ درکار ہیں۔ دہلی کی تاریخی جامع مسجد کے باہر نمازیوں نے اپنی استطاعت کے مطابق تعاون کیا۔
دہلی کی تاریخی جامع مسجد میں گزشتہ جمعہ نماز کے بعد ایک بیمار کمسن بچی کے علاج کے لیے مالی مدد کی اپیل نے لوگوں کی توجہ حاصل کی۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق بچی اسپائنل مسکیولر ایٹروفی (SMA) ٹائپ ۱؍ میں مبتلا ہے اور اس کے خاندان کے مطابق علاج کے لیے انتہائی مہنگے طبی علاج کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز کے مطابق کچھ نوجوانوں نے نمازیوں کو بچی کی بیماری اور خاندان کی مالی مشکلات کے بارے میں بتایا، جس کے بعد متعدد افراد نے اپنی استطاعت کے مطابق تعاون کیا۔
दिल्ली का एक वीडियो इन दिनों लोगों का दिल छू रहा है। ❤️
— Mohammad Mojahidul islam (@Mojahid25307M) September 22, 2026
एक मजबूर माँ अपने सिर्फ़ 2 साल के मासूम बच्चे के इलाज के लिए परेशान थी। बच्चे के इलाज के लिए करीब 9 करोड़ रुपये की जरूरत बताई गई—इतनी बड़ी रकम एक गरीब परिवार के लिए किसी पहाड़ से कम नहीं थी।
लेकिन उसी मजबूर माँ पर कुछ… pic.twitter.com/r8uz98eGZh
یہ مہم دراصل جنوبی دہلی میں ایمس کے باہر شروع ہوئی، جہاں سوشل میڈیا سے وابستہ سنی ماہور اور ان کے ساتھیوں کی ملاقات بچی کی ماں سے ہونے کی اطلاع ہے۔ رپورٹس کے مطابق ماں اپنی بچی کو لے کر پریشان تھی۔ نوجوانوں نے اس کی وجہ دریافت کی تو انہیں بچی کی بیماری اور علاج کے اخراجات کے بارے میں معلوم ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے وہاں موجود لوگوں سے مالی مدد کی اپیل شروع کی۔ ابتدائی طور پر یہ کوشش محدود پیمانے پر تھی، لیکن بعد میں اسے چندہ جمع کرنے کی مہم میں تبدیل کر دیا گیا۔ مہم سے وابستہ افراد نے بچی اور اس کی ماں کی تصاویر اور معلومات والی ٹی شرٹس پہنیں اور ڈجیٹل ادائیگی کے لیے کیو آر کوڈ بھی استعمال کیا۔ بعد ازاں جمعہ کی نماز کے بعد جامع مسجد سے باہر آنے والے نمازیوں سے بھی تعاون کی اپیل کی گئی۔ کئی افراد رک کر بچی کی حالت کے بارے میں معلومات لیتے اور اپنی استطاعت کے مطابق رقم دیتے رہے۔
بچی کی ماں نے اپنی بیٹی کی روزمرہ زندگی کی مشکلات بیان کرتے ہوئے کہا، ’’پانی بھی پینا ہو تو میری بیٹی دیکھتی ہے کہ کون آکر اسے پانی پلائے گا۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس کی عمر کے دوسرے بچے کھیلتے اور دوڑتے ہیں، جبکہ ان کی بیٹی زیادہ تر وقت بستر پر رہتی ہے۔ یہ بیانات مختلف رپورٹس میں ماں کی جانب سے نقل کیے گئے ہیں۔ مہم سے وابستہ ایک اور رپورٹ کے مطابق خاندان کا کہنا ہے کہ بچی کے علاج کے لیے ایک مخصوص انجکشن کی ضرورت ہے جس کی لاگت ۹؍ کروڑ روپے سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ تاہم اس بچی کے لیے تجویز کردہ علاج، دوا کی اصل قیمت اور مجموعی طبی اخراجات کی آزادانہ طور پر تصدیق دستیاب معلومات سے نہیں ہو سکی ہے۔ اس لیے ۹؍ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم کو خاندان اور مہم سے وابستہ افراد کے دعوے کے طور پر ہی بیان کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جمعیۃ کے وفد کا صدر جمہوریہ سے ملاقات کا فیصلہ
سوشل میڈیا پر مہم کے ذریعے تقریباً ۳۳ء۶؍ کروڑ روپے جمع ہونے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔ تاہم یہ رقم بھی آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہے اور چندہ جمع کرنے کی مہم میں رقم تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس لیے حتمی رقم کے لیے مہم کے مستند مالی ریکارڈ کو ہی قابل اعتماد ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے۔ اس معاملے میں بچی کو ہندو خاندان سے تعلق رکھنے والی بتایا جا رہا ہے۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق جامع مسجد کے باہر مدد کی اپیل کے دوران لوگوں نے بچی کے علاج کے لیے تعاون کیا۔ تاہم بچی کی مذہبی شناخت سے متعلق سوشل میڈیا پر موجود تمام دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ اسی طرح وائرل ویڈیو میں دکھائی دینے والے تمام افراد کی شناخت اور ان کے بیانات کی بھی مکمل آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں ہے۔
بچی کو اسپائنل مسکیولر ایٹروفی ٹائپ ۱؍ میں مبتلا بتایا گیا ہے۔ یہ ایک نایاب جینیاتی بیماری ہے جس میں موٹر نیورون متاثر ہوتے ہیں اور پٹھوں میں شدید کمزوری پیدا ہو سکتی ہے۔ ٹائپ ۱؍ عموماً شیر خوار بچوں میں سامنے آتی ہے اور بیماری کی شدت کے باعث متاثرہ بچوں کو روزمرہ کے بنیادی کاموں میں بھی مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ایس ایم اے کا تعلق عام طور پر SMN1 جین میں تبدیلی سے ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں جسم میں موٹر نیورون کی بقا کے لیے ضروری پروٹین کی مقدار کم ہو سکتی ہے۔ اس بیماری کے علاج کے لیے مختلف ادویات اور جدید علاج دستیاب ہیں، جن میں جین تھراپی بھی شامل ہے۔ تاہم کسی مخصوص مریض کے لیے کون سا علاج موزوں ہے، اس کا فیصلہ طبی ماہرین مریض کی عمر، طبی حالت، جینیاتی جانچ اور دیگر عوامل کی بنیاد پر کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسپیکر اوم برلا کے طرز عمل پر سپریم کورٹ کا حیرت کااظہار
فی الحال بچی کے علاج کے لیے مطلوبہ مجموعی رقم، اب تک جمع ہونے والی رقم اور مخصوص طبی علاج کی اصل لاگت کے بارے میں تمام اعداد و شمار آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں۔