Inquilab Logo Happiest Places to Work

جولائی میں ہندوستان کے۸۵؍ فیصد شہر ڈبلیو ایچ او کی فضائی آلودگی کی حد سے متجاوز

Updated: August 17, 2026, 10:02 PM IST | New Delhi

مانسون کے باوجود ہندوستان کے بیشتر شہروں میں فضائی آلودگی کی سطح عالمی ادارۂ صحت کی محفوظ حد سے تجاوز کر گئی ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق جولائی میں ۸۵؍ فیصد ہندوستانی شہر پی ایم۲ء۵؍کی مقررہ عالمی حد پر پورے نہیں اتر سکے، جس نے فضائی آلودگی پر قابو پانے کی کوششوں پر سوال کھڑے کردیئے ہیں۔

A view of air pollution in Delhi. Photo: INN
دہلی میں فضائی آلودگی کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این

فضائی آلودگی پر تحقیق کرنے والی ایک عالمی تنظیم نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ جولائی میں ہندوستان کے تقریباً ۸۵؍فیصد شہروں میں پی ایم۲ء۵؍فضائی آلودگی کی سطح عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی جانب سے مقرر کردہ محفوظ حد سے تجاوز کر گئی، حالاں کہ اس دوران مون سون جاری تھا، جو فضائی آلودگی کے ارتکاز کو نمایاں طور پر کم کرتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’جولائی۲۰۲۶ءمیں ۲۵۶؍میں سے صرف۴۱؍شہر عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے پی ایم ۲ء۵؍کیلئے مقرر کردہ یومیہ محفوظ حد۱۵؍مائیکروگرام فی مکعب میٹر (µg/m³) کے معیار پر پورے اترے۔ ‘‘ یہ رپورٹ توانائی اور فضائی آلودگی کے شعبے میں کام کرنے والے ہیلسنکی میں قائم تھنک ٹینک ’’سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر‘‘ (CREA) نے تیار کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہوٹل مالکان فوڈ سیفٹی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے پر مجبور

انتہائی باریک ذرات پر مشتمل پی ایم۲ء۵؍کو فضائی آلودگی کی سب سے زہریلی اقسام میں شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ مسلسل اس کی زد میں رہنے سے مہلک سمیت مختلف امراض لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس فہرست میں ہندوستان کے۷۵؍ایسے شہر بھی شامل ہیں جو۲۰۱۹ءسے نیشنل کلین ایئر پروگرام (NCAP) کے تحت ہیں اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کیلئے انہیں خاطر خواہ فنڈز بھی فراہم کئے گئے ہیں۔ تاہم، جانچے گئے۹۱؍ این سی اے پی شہروں میں سے صرف۱۶؍ شہر پی ایم۲ء۵؍ کی عالمی ادارۂ صحت کی مقرر کردہ یومیہ حد کے اندر پائے گئے۔ 
مانسون کے دوران عام طور پر فضائی آلودگی میں نمایاں کمی متوقع ہوتی ہے، کیونکہ بارش فضائی آلودگی کے ذرات کو زمین پر بیٹھنے میں مدد دیتی ہے اور فضا میں پی ایم۲ء۵؍کی سطح کم ہو جاتی ہے۔ تاہم، ہندوستانی معیار کے لحاظ سے شہروں کی کارکردگی نسبتاً بہتر رہی۔ ہندوستان میں پی ایم۲ء۵؍ کی قابلِ قبول حد۶۰؍ مائیکروگرام فی مکعب میٹر ہے، جو عالمی ادارۂ صحت کی مقرر کردہ حد سے چار گنا زیادہ نرم معیار ہے۔ CREA کی رپورٹ کے مطابق، ’’جولائی ۲۰۲۶ءمیں ۲۵۶؍ میں سے۲۴۰؍شہروں میں پی ایم۲ء۵؍کی سطح ہندوستان کے نیشنل ایمبینٹ ایئر کوالٹی اسٹینڈرڈز (NAAQS) کی مقرر کردہ ۶۰؍مائیکروگرام فی مکعب میٹر کی حد سے کم رہی۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: بنگال : سابق ڈپٹی اسپیکر کی خودکشی، سیاسی ماحول گرم

رپورٹ کے مطابق، بہار کا اورنگ آباد جولائی۲۰۲۶ءمیں ہندوستان کا سب سے آلودہ شہر رہا، جہاں پی ایم۲ء۵؍کی ماہانہ اوسط سطح۱۶۸؍مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی۔ ۲۸؍ روزہ مشاہدے کے دوران۲۱؍دن پی ایم۲ء۵؍ کی یومیہ سطح۶۰؍ مائیکروگرام فی مکعب میٹر کی NAAQS حد سے زیادہ رہی۔ بہار کے منگوراہا میں جولائی کے دوران ہندوستان کے شہروں میں فضائی آلودگی کی دوسری بلند ترین سطح ریکارڈ کی گئی، جہاں پی ایم۲ء۵؍کی ماہانہ اوسط۹۶؍مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہی۔ NAAQS کی مقررہ حد سے زیادہ فضائی آلودگی والے شہروں کی تعداد کے لحاظ سے ہریانہ سب سے آگے رہا، جہاں ۲۵؍میں سے۱۰؍ شہروں میں پی ایم۲ء۵؍کی سطح مقررہ حد سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ بہار دوسرے نمبر پر رہا، جہاں ۲۱؍ میں سے۴؍ شہروں میں پی ایم۲ء۵؍کی سطح قابلِ قبول حد سے تجاوز کر گئی۔ 
رپورٹ کے مطابق، ممبئی سے تقریباً۵۰؍کلومیٹر دور ڈومبیولی جولائی کے دوران ہندوستان کا سب سے صاف شہر رہا، جہاں پی ایم۲ء۵؍کی ماہانہ اوسط سطح صرف۴؍ مائیکروگرام فی مکعب میٹر تھی۔ اس کے بعد چھتیس گڑھ کا کنجیمورا رہا، جہاں پی ایم۲ء۵؍کی ماہانہ اوسط سطح۵؍ مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK