شہر ومضافات کی مختلف کاروباری تنظیموں سےوابستہ افراد نے آن لائن ٹرانزیکشن نہیں کیا۔ بیشتر دکانداروں نے اپنے اسکینرس پر کالاکپڑا ڈھانپ کراحتجاج کیا۔ گاہکوںکو دشواریاں۔
EPAPER
Updated: October 03, 2026, 3:38 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
شہر ومضافات کی مختلف کاروباری تنظیموں سےوابستہ افراد نے آن لائن ٹرانزیکشن نہیں کیا۔ بیشتر دکانداروں نے اپنے اسکینرس پر کالاکپڑا ڈھانپ کراحتجاج کیا۔ گاہکوںکو دشواریاں۔
۱۵؍اکتوبر سے یوپی آئی لین دین پر عائد ہونے والی اضافی فیس کے خلاف جمعہ کو پورے ملک کے دکانداروں اور تاجروںکی متعدد تنظیموں کی جانب سے ’نویوپی آئی ڈے ‘ منایا گیا۔ اسی مہم کےتحت ممبئی میں بھی مختلف کاروباری تنظیموں نے آن لائن ٹرانزیکشن کے بجائے نقد کاروبار کیا ۔بیشتر دکانداروں نے اپنے اسکینر پر کالے کپڑے ڈھانپ کر’نو یوپی آئی‘ احتجاج میں حصہ لیا۔ ’نویوپی آئی ڈے‘ کی وجہ سے کئی گاہکوں نے نقد رقم سے شاپنگ کی۔ چند صارفین نقد نہ ہونے کی وجہ سے خریداری نہ کرسکے ۔ مجموعی طور پر ’نویوپی آئی ڈے ‘مہم کامیاب رہی ۔ دکانداروں کا کہناہے کہ یوپی آئی ادائیگیوں پر اضافی۰ء۴؍فیصد مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) ہمارے لئے ناقابل قبول ہے ۔
فیڈریشن آف ممبئی ریٹیل کلاتھ ڈیلرس اسوسی ایشن کے تقریباً ۴؍ ہزار دکانداروں نے جمعہ کو ’نویوپی آئی ڈے ‘ مہم میں حصہ لیا۔ ان دکانداروں نے اپنے اسکینرس، کیو آر کوڈس اور ساؤنڈ باکسز کو کالے کپڑوں سے ڈھانپ کر حکومتی فیصلے کی مخالفت کی۔ تاجروں نے ’نو یو پی آئی ڈے‘ کے ذریعے متحد ہو کر اپنی مخالفت درج کرائی۔ بیوپاریوں نے دکان کے داخلی دروازے، کیش کاؤنٹر اور شوکیس پر مہم کے پوسٹرس آویزاں کئے۔ اس کے ساتھ تصویر کھینچ کر سوشل میڈیا پر شیئربھی کی۔
یہ بھی پڑھئے:ووٹ چوری پربرہم نواجون استعفیٰ سے کم کیلئے تیار نہیں
مذکورہ فیڈریشن کے صدر ہیرن مہتا نے انقلاب کو بتایاکہ ’’ہماری ’نویو پی آئی ڈے ‘مہم کامیاب رہی۔ بیشتر دکانداروں نے اپنے اسکینرس، کیو آر کوڈس اور ساؤنڈ باکسز کو کالے کپڑوں سے ڈھانپ کر نقد لین دین کیا۔ ‘‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ میں نے اپنی دکان کے اسکینر پر کالا کپڑا ڈھانپ دیا تھاتاکہ گاہکوں کو معلوم ہوجائے کہ آن لائن ٹرانزیکشن بندہے۔ دن بھر میں تقریباً ۲۵، ۳۰؍ گاہکوں نے خریداری کی ،ان میں سے ایک گاہک ایسا تھاجس کے پاس نقد نہیں تھا ۔ اس نے تقریباً۰۰ ۲۷؍روپے کی خریداری کی تھی لیکن نقد نہ ہونے کی وجہ سے، اسے بغیر خریداری کئے لوٹنا پڑا۔ حالانکہ میرے پاس آن لائن پیمنٹ کی سہولت تھی لیکن میں نے اس سے نقد کامطالبہ کیا، مجبوراً وہ خریداری کئے بغیر لوٹ گیا ۔‘‘
جیش بھائی کے مطابق ’’ سرکار نے عام صارفین اور بیوپاریوں سے دھوکہ کیاہے۔ پہلے یوپی آئی کی سویدھا (سہولت) دی اور اب اسے’ دُ وِدھا‘ بنا رہی ہے ۔‘‘
یہاں کے ایک دکاندار نے کہاکہ ’’اضافی ٹیکس کا براہ راست اثر عام صارف پر ہوگا ۔سرکار نے پہلے۳،۴؍ سال یوپی آئی کی سہولت فراہم کر کے عوام کو اس کا عادی بنایا اور اب اس پر ٹیکس نافذکرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو قطعی غیر مناسب ہے۔ اس لئے جمعہ کو ہم نے سارے لین دین نقد میں کئے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:شیو سینا کارپوریٹر سے ۲۵؍لاکھ روپے کا مطالبہ
’’یہ چھپا ہوا ٹیکس ہے‘‘
کاندیولی کی متھراداس مارکیٹ سنگٹھناکے صدر جیش بھائی نے بتایا کہ ’’ یہاں ایمپوریم،فٹ وئیر، جیولرس، ناولٹیز، ہارپھول، ڈرائی فروٹ ، چاکلیٹ ، ٹافی اور فرسان وغیرہ کے سیکڑوں بیوپاری ہیں جو روزانہ ۱۰؍روپے سے لاکھوں روپے کا لین دین کرتےہیں۔وہ حکومت کے نئے ایم ڈی آر سسٹم سے ناراض ہیں اور اس کی سخت مخالفت کر رہے ہیں ۔ جب تک حکومت یہ فیصلہ واپس نہیں لیتی ، ہماری مہم جاری رہے گی۔‘‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ’’گاہک سمجھ رہے ہیں کہ یوپی آئی سے ۲؍ ہزارروپے تک کی ادائیگی پر ان پر کوئی مالی بوجھ نہیں آئے گا جبکہ ایسا ہے نہیں ، یہ چھپا ٹیکس ہے، اس سے بیوپاریوں سے زیادہ گاہک متاثرہوں گے ۔ بیوپاری کوئی ٹیکس اپنی جیب سے ادانہیں کرتا ۔ سارا ٹیکس صارفین پر آتاہے، چنانچہ عام صارفین سے اپیل ہے کہ وہ اس بات کو سمجھیں اور حکومت کے فیصلے کی مخالفت کریں۔‘‘
’’ہم اس فیصلہ کی پُرزور مخالفت کرتے ہیں‘‘
ایک جیولرس نے کہا کہ ’’ اگرچہ حکومت کہہ رہی ہے کہ یو پی آئی ادائیگیوں پر چارجز فی الحال بہت کم ہیں توکیا مستقبل میں اضافہ ہونے کا امکان نہیںہے ؟ابھی تو یہ کہا گیاہےکہ ۲؍ہزار تک کے لین دین پر کوئی چارج نہیں لگایا جائے گا لیکن بعد میں اسے صفر بھی تو کیا جاسکتاہے۔ اس لئے ہم حکومت کے اس فیصلہ کی پُرزور مذمت کرتے ہیں۔‘‘